رات کا پچھلا پہر، خواب اور بیداری کی باریک لکیر پر ایک سنہری دھند تیرنے لگی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے قدم کسی نامانوس دنیا کی جانب بڑھتے جاتے ہیں، یہ نہ دنیا تھی نہ آخرت کا واضح منظر، بلکہ ایک ’’عالمِ ارواح‘‘کا گوشہ، جہاں وقت اپنی قید سے آزاد ہو چکا تھا۔سامنے سبزہ زار، اس پر نیلگوں روشنی کی چادر تنی تھی، ایک بہتی ندی اور اس کے کنارے ایک بوڑھا درخت۔ اس کے نیچے سفید لباس میں، پگڑی باندھے، تسبیح ہاتھ میں لیے، آنکھوں میں گہری روشنی لئے ایک سنجیدہ و متین اور پر وقار شخص بیٹھا تھا ۔میں نے سہمے ہوئے لہجے میں استفسار کیا۔ حضور میں آپ کا اسم گرامی جان سکتا ہوں ؟ انہوں نے اپنے کاسہ مبارک کو ذرا سی جنبشدی اور فرمایا ’’ابوالکلام آزادآزاد کہتے ہیں مجھے‘‘ مجھے ایسے لگا جیسے وقت کی رفتار تھم گئی ہو۔میں ادب سے جھکا، سلام کیا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا ’’آ بیٹے، سوال لے کر آئے ہو یا جواب ڈھونڈنے؟‘‘ میں نے فرط جذبات سے کہا جی!فرمانے لگے پوچھو!پہلا سوال برصغیر کی سیاست کے المیے پر روشنی ڈالیں گے کہ بر صغیر کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ آپ کے نزدیک کیا تھا ؟ حضرت آزاد ! ’ہم نے آزادی کا نعرہ تو لگایا، مگر ذہنی آزادی کا چراغ بجھارہنے دیا۔ سیاست میں اصول قربان کر کے وقتی فائدہ لینا سب سے بڑی ہلاکت ہے۔
’’میری آنکھوں کے سامنے دہلی کا تاریخی جلسہ آن کھڑا ہوتا ہے ۔ جس میں آزاد صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ہجوم کے شور میں وہ کہتے ہیں‘‘ سیاست کا مقصد عوام کی بھلائی ہے، اقتدار کا حصول نہیں مگر ہم نے اپنی سمت بدل لی۔’’دوسرا سوال ۔ استعمار کی وحشت کا کیا سماں رہا ؟ استعمار کی سب سے بڑی وحشت آپ نے کس شکل میں دیکھی؟آزاد:‘‘ بندوق اور توپ کا خوف وقتی ہے، مگر ذہنی غلامی نسلوں کو تباہ کرتی ہے۔ انگریز نے ہمارے دلوں میں یہ بٹھا دیا کہ ہم کم تر ہیں۔’’میری نگاہ کا منظر تبدیل ہوتا ہے کلکتہ کا ایک سکول، جہاں انگریزی نصاب میں مقامی تاریخ کو محض چند سطروں میں بتایا گیا ہے۔ آزاد صاحب نوجوانوں سے کہتے ہیں‘‘ یاد رکھو! جب تم اپنے آپ پر یقین کھو دیتے ہو تو دشمن کو کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں رہتی۔’’تیسرا سوال عوام کی قربانیوں کا مقصد کیا تھا ؟آپ متحدہ ہندوستان کے عوام کی قربانیوں کو کیسے یاد کرتے ہیں؟آزاد پہلو بدلتے ہوئے میری جانب گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔‘‘
یہ جدوجہد محض زمین کی ملکیت کے لئے نہیں تھی، یہ عزتِ نفس کی بحالی تھی۔ کسان نے اپنی فصل بیچ کر تحریک کو چندہ دیا، مزدور نے اپنا پسینہ قربان کیا، شاعر نے اپنا قلم وقف کیا، عورتوں نے اپنے زیور دئیے۔ ’’اچانک لاہور، 1929ء کا جھنڈا میری آنکھوں میں لہرانے کا لگتا ہیایک بوڑھا کسان نعرہ بلند کرتا ہے‘‘ ’’آزادی ہمارا حق ہے!‘‘ چوتھا سوال جناح صاحب کی شب و روز کی کاوشوں پر آپ کی کیا رائے ہے؟ آزاد ’’میں نے ان سے اصولوں پر اختلاف کیا، لیکن ان کی دیانت اور محنت ناقابلِ تردید ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ہر لمحہ تاریخ کا حصہ بن رہا ہے۔‘‘ میں ایک اور منظر میں کھوجاتا ہوں، بامبے میں جناح کی میز، کاغذوں اور خطوط کے ڈھیر، وہ عینک اتار کر نوٹس پڑھ رہے ہیں، اور باہر گھنٹوں انتظار کرتے لوگوں کا ہجوم پانچواں سوال ، عوام نے محمد علی جناحؒ پر اتنا اعتماد کیوں کیا ؟آزاد ’’کیونکہ وہ اپنے قول کے سچے تھے۔ سیاست میں اکثر الفاظ ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں، مگر ان کے الفاظ پتھر پر لکیر تھے۔‘‘
منظر پھر تبدیل ہوتا ہے،دہلی میں مسلم لیگ کا اجلاس، عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ،ایک فلک شگاف نعرہ ’’قائداعظمؒ زندہ باد‘‘ اور جناح ہاتھ اٹھا کر جواب دیتے ہیں۔’’پاکستان پائندہ آباد‘‘ چھٹا سوال، انگریز جناح صاحب کو کس نظر سے دیکھتے تھے؟آزاد ،وہ انہیں سخت مزاج مگر اصول پسند سمجھتے تھے۔ انگریز سیاست دان کہا کرتے تھے کہ ’’جناح سے بات ایسے کرو جیسے شطرنج کے استاد سے ، ایک غلط چال اور بازی ختم‘‘ ایک اور منظر لوح ذہن پر ابھرتا ہے۔ وائسرائے ہاس کے مذاکرات کا کمرہ، انگریز حکام کاغذوں پر جھکے، ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کر رہے ہیں۔ساتواں سوال،اگر آج کی نسل آپ سے مشورہ مانگے؟ آزاد:’’بیٹے!نفرت کو پرچم مت بنا۔ اختلاف کو دشمنی نہ سمجھو۔ علم کو کردار کا ستون بناو، محض روزگار کا نہیں۔ یاد رکھو آزادی سب سے پہلے ذہن کی ہوتی ہے۔تمہارا مستقبل کتاب کے پہلے صفحے سے شروع ہوتا ہے، اور تمہارے کردار پر ختم ہوتا ہے۔‘‘ آزاد صاحب نے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے گرانے چھوڑ دیئے۔ آسمان پر نیلگوں روشنی پھیل گئی۔انہوں نے دھیرے سے کہا: ’’آزادی ایک امانت ہے، بیٹے اسے آنے والی نسلوں تک سلامت پہنچا۔‘‘ میں نے سر جھکا کر سلام کیا اور لمحہ بھر میں سبزہ زار، ندی، درخت سب دھند میں گم ہو گئے۔