Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

نواب اعظم خان خاکوانی روشنی کا چراغ جو بجھ گیا

وہ لوگ جو معاشرے کو خوبصورت بنانے کا خواب دیکھتے ہیں، جو اسے ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے مہمیز لگاتے ہیں، خود بھی باطن و ظاہر کی خوبصورتی کا نمونہ ہوتے ہیں۔ ان کا دل محبت سے لبریز، ان کی سوچ خدمت سے معمور، اور ان کے ارادے صادق و مضبوط ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وطن کو سنوارنے کے لیے خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان خوابوں کی تعبیر کے راستے میں حائل کانٹوں کو ایک ایک کر کے چنتے ہیں، چاہے اس راہ میں ان کی اپنی انگلیاں لہولہان کیوں نہ ہو جائیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا قلم صرف الفاظ کا جوڑ نہیں بلکہ سچائی کا پہریدار ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں اگر تلخی ہو بھی تو وہ مٹھاس میں لپٹی ہوئی نصیحت ہوتی ہے۔ وہ مروت، ہمدردی اور بھائی چارے کے ایسے سفیر ہوتے ہیں جن کے الفاظ سے پل ٹوٹے نہیں بلکہ جڑتے ہیں، جن کی موجودگی میں فضا میں اعتماد، امید اور روشنی بسی رہتی ہے۔مگر جب ایسے لوگ آنکھیں موند لیتے ہیں، جب وہ جو پل بھر پہلے ہنستے کھیلتے دوسروں کے دکھ بانٹ رہے تھے، اچانک لقمہ اجل بن جائیں، تو وہ اپنے پیچھے ایک ایسا خلا چھوڑ جاتے ہیں جو نہ صرف دلوں کو ویران کرتا ہے بلکہ سماج کی روح کو بھی اداس کر دیتا ہے۔ اس خلا کی گہرائی کا احساس صرف وہی کر سکتے ہیں جنہوں نے ان کی رفاقت کی بہاریں دیکھی ہوں، جن کے دل ان کی قربتوں کے لمس اور ان کی محبت کے سایے میں جینے کا ذائقہ چکھ چکے ہوں۔
ایسے ہی ایک شخص نواب اعظم خان خاکوانی تھے۔ میرا ان کے ساتھ تعلق محض رسمی تعارف نہیں بلکہ ایک طویل اور خوشبو بھری رفاقت تھی۔ ایسی رفاقت جس کی یادوں کو کریدنے کے لیے شاید مجھے کئی اور زندگیوں کی مہلت چاہیے ہو۔ وہ شاداب بہاروں جیسے انسان تھے، جن کی مسکراہٹ میں اپنائیت، لہجے میں وقار، اور نگاہ میں محبت تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر وقت کا گزرجانا محسوس ہی نہ ہوتا، کیونکہ وہ باتوں میں علم، تجربے اور دل کی گرمی کو یوں پرو دیتے جیسے کوئی ماہر سنار سونے میں نگینے جڑتا ہے۔آج وہ شخص ہمیں داغِ مفارقت دے گیا ہے۔ اس کے جانے سے نہ صرف ایک دوست، ایک بھائی، ایک ہمراز رخصت ہوا ہے، بلکہ ایک ایسا چراغ بجھا ہےجو اپنے دائرے میں سب کو روشنی دیتا تھا۔ وہ روشنی صرف الفاظ کی نہ تھی، بلکہ کردار، محبت اور ایثار کی روشنی تھی۔
نواب اعظم خان خاکوانی کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک باوقار،علمی،روحانی اور سیاسی خانوادے سےتھا۔ یہ خاندان پشتون النسل ہےاورتاریخ میں ’’خاکوانی‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ ان کے آبائو اجداد 17ویں اور 18ویں صدی میں افغانستان و خیبر پختونخوا سے ہجرت کر کے ملتان، لودھراں ،وہاڑی اور خان گڑھ میں آباد ہوئے اور یہاں زمینداری، روحانیت اورخدمتِ خلق کےذریعےاپنا مقام بنایا۔حضرت شیخ احمد خاکوانی‘ شیخ حسن خان خاکوانی ‘شیخ سلیمان خان خاکوانی ‘نواب الہی بخش خان خاکوانی ‘نواب نذر محمد خان خاکوانی‘ نواب غلام حسین خان خاکوانی‘ نواب فیروز خان خاکوانی ‘نواب غلام قادر خان خاکوانی ‘نواب محمد اکبرخان خاکوانی ‘نواب اعظم خان خاکوانی‘ نواب اعظم خان خاکوانی ایک باشعور، سلجھے ہوئے اور مدلل سیاسی رہنما تھے۔
انہوں نے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ جنوبی پنجاب کے مسائل کو قومی ایجنڈے پر لانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے۔دیہی ترقی، تعلیم، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کے اہم ایجنڈے میں شامل رہی۔وہ کالم نگاری کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرتے، اور اپنی تحریروں میں دلیل اور شائستگی کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ان کے کالموں میں سیاست کے ساتھ ساتھ تہذیبی شعور اور انسانی ہمدردی نمایاں رہتی تھی۔نواب اعظم خان خاکوانی کی وفات ایک فرد کی رخصتی نہیں، ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ وہ عہد جو سچائی، شرافت، علم اور محبت سے عبارت تھا۔ ان کی مجلسیں اب نہیں ہوں گی، ان کی دانش بھری گفتگو سننے کو ترس جائے گی، اور ان کا مشفق ہاتھ سر پر رکھنے والا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ان کے چھوڑے ہوئے خواب ہم میں سے کسی کے دل میں زندہ رکھے۔ نواب اعظم خان جیسے لوگ جسم سے جدا ہو بھی جائیں تو ان کی خوشبو وقت کی فضا میں بسی رہتی ہے، ان کے الفاظ نسلوں کو روشنی دیتے رہتے ہیں، اور ان کے کردار کی گونج آنے والے وقتوں کو راستہ دکھاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں