Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

شہید مدنی مسجد اور چوہے بلی کا حکومتی کھیل

اس خاکسار کا تو روز اول سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا مذہبی فسا دات ان کے پیچھے ہمیشہ حکومتوں کا ہاتھ اور کردار رہا ہے، اب اسلام آباد کو ہی دیکھ لیجئے کہنے کو یہ پاکستان کا دارالحکومت ہے اور ایک انتہائی پرامن شہر سمجھا جاتا ہے، لیکن حکومت کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس کے کارندوں نے سو سالہ قدیمی مدنی مسجد کو راتوں رات شہید کر کے اس کا ملبہ بھی ہضم کر لیا،کہا جاتاہے کہ سی ڈی اے کے چیئرمین نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حکم پر غیر قانونی قبضہ شدہ پلاٹس کے خلاف کارروائی کا اعلان کر کے پچاس مساجد کو نوٹسز جاری کئے اور راتوں رات مدنی مسجد کی آخری اینٹ بھی غائب کروادی اور اب دو ہفتے ہونے کو ہیں صرف جڑواں شہر ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی اکثریتی مسلمان آبادی انتہائی غم وغصے کا اظہار کر رہی ہے۔
قومی اسمبلی کے فلور پر جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری ہوں یا قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن اپنی تقریروں میں حکمرانوں کو مسجد کی عظمت و فضیلت سے آگاہ کر چکے ہیں،مولانا محمد حنیف جالندھری ،علامہ ہشام الٰہی ظہیر ‘مفتی منیب الرحمن، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی سے لے کر مولانا فضل الرحمن تک، حکومت کو شرعی مسئلہ بتا چکے ہیں کہ مسجد حکومتی جگہ پر بھی بن جائے تو وہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی،اسے کوئی گرا نہیں سکتا اور پھر مدنی مسجد تو قانونی طور پر بھی رجسٹرڈ تھی اور حکومتی ادارہ اوقاف اس کی نگرانی کر رہا تھا،مسجد گرانے کا حکم دینے والے منافقوں نے ’’قدرتی مناظر آرڈیننس‘‘کی آڑ میں قدرت خداوندی کی رحمتوں کے نزول کے عظیم مرکز مدنی مسجد کو شہید کر ڈالا، کیا بیت اللہ کی بیٹی مدنی مسجد اتنی لاوارث تھی کہ جس کے نام و نشان کواسلام آباد کے حسن میں روکاوٹ سمجھ کر مٹانے کی کوشش کی گئی ،ان ظالموں کو کوئی بتائے کہ مسجدیں تو اللہ کا گھر اور زمین کا حسن ہوا کرتی ہیں، میرے پیرو مرشد حفظہ اللہ نے بالکل درست فرمایا کہ اللہ کرے حکومت والے مدنی مسجد تعمیر کرنے کے معاہدے کی پاسداری کریں۔
مسجد شہید کرنے کے جرم پر توبہ و استغفار کریں اور جلد از جلد بہترین اور شاندار مسجد تعمیر کر کے خود کو، ملک کو اور ریاست کواللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ، قرآن مجید میں جو کچھ نازل ہوا ہے وہ ہمیشہ کے لئے ہے،وہ ہمیشہ رہے گا.سورہ الفیل میں صرف ایک قصے کا بیان نہیں ہے،بلکہ ایک شیطانی سوچ ایک طاغوتی عمل اور پھر اس کے خوفناک انجام کا بھی ذکر ہے،شیطانی سوچ یہ کہ مسجد گرا دو۔اللہ تعالیٰ کے گھر کو مٹا دو،طاغوتی عمل یہ کہ مسجد گرانے کے لئے طاقت کا استعمال کرو اور اس عمل کا انجام ہے۔’’کعصف ماکول‘‘ یعنی تباہی، بربادی، ہلاکت، ذلت، ناکامی اور فناہ۔‘‘
قیامت تک ’’ابرہہ‘‘ کی سوچ والے بد نصیب موجود رہیں گے،قیامت تک مساجد پر حملے کرنے والے ’’طواغیت‘‘ اپنی آخرت اور دنیا برباد کرتے رہیں گے اور قیامت تک اللہ تعالیٰ کے مخلص ابابیل ان مساجد کی حفاظت کے لئے موجود رہیں گے،اسلام آباد میں جن علماء کرام، جن اہل ایمان اور جن اہل غیرت نے مسجد کے تحفظ کی محنت کی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی شان کے مطابق اعلیٰ جزائے خیر عطا فرمائیں۔اللہ تعالیٰ اہل حکومت کو ابرہہ کا کردار ادا کرنے سے محفوظ رکھیں بلکہ خود ان کو مساجد تعمیر اور آباد کرنے والا بنائیں اور مساجد کے خادم ہمیشہ کامیاب رہیں گے ان شا اللہ ،چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں ہم نے تو کہیں نہیں پڑھا کہ جس نے بھی طاقت کے زور پر بیت اللہ کی بیٹیوں یعنی مساجد کو شہید کیا اور پھر وہ عزت کی موت مرا ہو؟سی ڈی اے کے چیئرمین مسٹر رندھاوا کے علم میں ہو تو اس خاکسار کو ضرور آگاہ کریں ،بیت اللہ کو گرانے کی منصوبہ بندی کرنے والے ’’ابرہہ‘‘نامی بدبخت کو رب تعالیٰ کی طرف سے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دینے کا واقعہ تو اسلام کی آمد سے بھی قبل کا ہے،مساجد کا دشمن دنیا میں بھی بے عزت ہوا اور آخرت کی رسوائیاں بھی اس کا مقدر بنیں۔ ’’ابرہہ‘‘ کا واقعہ تو پراناہے۔
جولائی 2007 ء اگر مسٹر رندھاوا کو یاد ہو تو مکا لہراتے ہوئے ایک شخص کے حکم پر لال مسجد کے درودیوار اور گنبد و محراب کو شہید کر کے اس سے متصل جامعہ حفصہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی ،مگر پھر دنیا نے دیکھا اس رسوائے زمانہ کو پاک سر زمین پر رہنا بھی نصیب نہ ہوا،میرے اللہ جی نے اسے ایسی خوفناک اور خطرناک بیماری میں مبتلا کر کے مارا کہ جس سے اس کا زمینی آقا امریکہ بھی پناہ مانگتا تھا،اس کا جنازہ بھی سنگینوں کے سائے میں چند گنے چنے افراد تک ہی محدود رہا،کہاں وہ تصویروں کا اتنا شوقین کہ چک شہزاد کے محل میں اپنی بیگم صہباء مشرف کے ساتھ تصویر کھنچوا کر میڈیا کو جاری کی گئی اور کہاں اس کی ڈیڈ باڈی کو کیمروں کی آنکھوں سے چھپانے کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا، اگر اس کا حشر کھائے ہوئے بھوسے کی طرح نہیں تھا تو پھر اس کی تصویروں کو منظر عام پر کیوں نہیں لایا جاتا؟مدنی مسجد کی ظالمانہ شہادت پر خوشیاں منانے والے لنڈے کے لبرلز اور سیکولر شدت پسندوں کو میرا چیلنج ہے کہ اپنے گرو گھنٹال کے چہرے کی مرنے کے بعد کی کوئی ایک تصویر ہی جاری کر دیں۔
علامہ عبد الرشید غازی کے کٹے پھٹے جسم کی تو ہزاروں تصویریں آج بھی وائرل ہیں،کوئی لنڈے کا لبرل یا سیکولر بتا سکتا ہے کہ وہ یا اس کا کوئی دوست کبھی پرویز مشرف کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے گیا ہو؟شہید غازی عبد الرشید کی قبر پر تو صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ دیگر ممالک کے مسلمان بھی دعائیں مانگنے آتے ہیں۔
ابرہہ سے پرویز مشرف تک
خاک ہو گئے مسجد کو مٹانے والے

یہ بھی پڑھیں