بارش جو کھیتوں کے لئے رحمت اور پیاسی زمین کے لیے زندگی کا پیغام ہوتی ہے اس بار خیبرپختونخوا گلگت بلتستان اور کشمیر کے باسیوں کے لیے قہر بن گئی۔ پہاڑوں سے اترنے والے سیلابی ریلے بستیاں بہا لے گئے، کھیت اجاڑ گئے اور سینکڑوں زندگیاں لمحوں میں موت کے حوالے ہو گئیں۔ صرف خیبرپختونخوا میں چار سو سے زائد افراد کے جاں بحق ہو نے کی تصدیق ہو چکی ہے۔سوات، باجوڑ، بونیر اور کوہستان جیسے علاقے آج اجڑے پڑے ہیں۔ جن گلیوں میں کل ہنسی کی آوازیں تھیں وہاں آج ویرانی اور ماتم ہے۔ بچے اپنے والدین کو تلاش کر رہے ہیں، والدین اپنے بچوں کی لاشوں کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ زندگی کا ساز اچانک ٹوٹ گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک ایسا صوبہ جو پچھلے بارہ برس سے ایک ہی سیاسی جماعت کے زیرِاقتدار ہے وہاں قدرتی آفات کے مقابلے کے لیے موثر منصوبہ بندی کیوں نہیں؟ بارش کے ساتھ ہی اگر بستیاں اجڑ جائیں تو یہ قدرت کا قہر ضرور ہے مگر اس کے اثرات کو کم کرنا تو انسانی ذمہ داری تھی۔ اس ذمہ داری کو کس حد تک نبھایا گیا؟المیہ یہ بھی ہے کہ ایسے وقت میں جب عوام کو قیادت کے حوصلے اور یکجہتی کی ضرورت تھی وہاں جلسوں، ریلیوں اور سیاسی بیانات نے ماحول کو مزید مکدر کر دیا۔
کوہستان میں جلسہ، سوشل میڈیا پر ریلیوں کی کامیابی کے دعوے اور مخالفین کو کوسنے ۔ کیا یہ سب ایسے وقت میں مناسب تھا؟ جب سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں کو دفنا رہے تھے اس وقت کامیاب ریلی کی خوش خبری دینا یقینا ان کے دکھ کو اور بڑھاتا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کو بارشوں اور سیلابوں نے گھیر لیا ہو۔ 1950 ء کا سیلاب ہو، 1973 ء یا 1976 ء کے طوفانی برساتی ریلے یا 2010 ء کا مہلک سیلاب ۔ ہر بار یہ ملک زخموں سے دوچار ہوا۔ 2010 ء میں تو کہا گیا کہ یہ آفت پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انسانی المیہ تھا، جب دو کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔ دنیا بھر نے اسے “super flood” کا نام دیا۔ اس وقت پوری دنیا سے امداد آئی مگر سوال یہ تھا کہ کیا ہم نے اس آفت سے کوئی سبق سیکھا؟ کیا ہم نے ایسا نظام بنایا کہ آئندہ اس طرح کی تباہی نہ ہو؟2005 ء کے زلزلے کو ہی دیکھ لیجیے۔ ہزاروں جانیں گئیں، پورے علاقے کھنڈرات میں بدل گئے، مگر اس وقت عوام نے جذبے کی ایک مثال قائم کی۔ مسجدیں، محلے، سکول سب امدادی مراکز بن گئے۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق مدد کے لیے آگے بڑھا۔ لیکن آج کے حالات میں وہ جذبہ کہیں مدہم نظر آتا ہے۔پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور ریلیف کے ادارے موجود ہیں۔ اربوں روپے ہر سال بجٹ میں رکھے جاتے ہیں۔ منصوبے بنتے ہیں، اجلاس ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر جب آفت آتی ہے تو یہی ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ بروقت مشینری کی عدم فراہمی، امداد کی سست روی اور ناقص رابطہ نظام متاثرین کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ پنجاب پر حملے میں استعمال ہونے والی ضبط شدہ مشینری ہمیں واپس کی جائے تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے یہ خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس اعتراف نے واضح کر دیا کہ سرکاری وسائل کہاں استعمال ہو رہے تھے اور اصل ترجیح کیا تھی۔ایسے سانحات میں سیاست کی گنجائش ہمیشہ کم سے کم رہتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی تماشہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ بعض رہنمائوں کی جانب سے ایسے جملے سامنے آتے ہیں جو کم از کم اس موقع پر نہیں کہنے چاہئیں۔ ’’بارش سانحے کے باوجود ریلی کامیاب رہی‘‘ جیسا بیان صرف ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ ان سینکڑوں خاندانوں کے دکھ پر نمک پاشی ہے جو اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔
ریلی کی کامیابی کا بیان ایک ایسے رہنما اسد قیصر کی جانب سے سامنے آیا جو کہ بد قسمتی سے اس ملک کے سپیکر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے اس بیان سے نہ صرف متاثرین اور شہید ہونے والوں کی توہین ہوئی بلکہ انہوں نے سپیکر جیسے اعلی پارلیمانی اور آئینی عہدے کے وقار کو بھی پارہ پارہ کیا۔ یہاں سوال یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو یہ شعور کیوں نہیں دیتیں کہ انسانی جان سب سے بڑی ترجیح ہے۔ کیا سیاست کی کامیابی انسانی المیے پر حاوی ہونی چاہیے؟وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس صورتحال پر کہا کہ وفاق کی جانب سے کے پی کے مختلف متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کے بقول یہ اموات صرف خیبرپختونخوا کا نہیں بلکہ پورے ملک کا سانحہ ہیں۔ انہوں نے بعض صوبائی وزرا کے بیانات پر افسوس ظاہر کیا اور بیرسٹر سیف کو مشورہ دیا کہ وہ خود فیلڈ میں جا کر دیکھیں کہ وفاق کس طرح متاثرین کی مدد کر رہا ہے۔یہ بیانات اپنی جگہ مگر اصل سوال کچھ اور ہے۔میڈیا کو بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ ریٹنگ کی دوڑ میں ہم اکثر ایسے موضوعات کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں جو دراصل سب سے زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ متاثرین کی حالت زار، امدادی سرگرمیوں کی کمزوریاں، اور آئندہ کے لیے خطرات یہ سب ہمارے پرائم ٹائم مباحثوں کا حصہ بننے چاہئیں لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔قدرتی آفات ہمارے اختیار میں نہیں۔ بادل پھٹنا، پہاڑوں سے پانی کا اچانک اترنا یا زلزلے کا جھٹکا روکنا کسی انسان کے بس میں نہیں۔ لیکن ان کے اثرات کو کم کرنا انسانی ذمہ داری ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنے تجربات سے سیکھا اور ایسے نظام بنائے کہ نقصان کم سے کم ہو۔ جاپان میں زلزلے آتے ہیں مگر وہاں جانی نقصان بہت کم ہوتا ہے صرف اس لیے کہ انہوں نے منصوبہ بندی کو ترجیح دی۔حکومت پاکستان کو بھی یہی راستہ اپنانا ہوگا۔ جامع ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان بنانا ہوگا جس میں وفاق اور صوبے دونوں شریک ہوں۔ دریاں کے قریب حفاظتی بند مضبوط کئے جائیں۔ دریائوں کے بیڈز پر مکانات بنانے پر پابندی عائد کی جائے، پہاڑی علاقوں میں وارننگ سسٹم لگائے جائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سرکاری وسائل کو سیاست کے بجائے عوامی خدمت کے لیے وقف کیا جائے۔بارش کا پانی کچھ دنوں میں خشک ہو جائے گا۔ لوگ اپنے گھر دوبارہ بنا لیں گے، فصلیں اگ جائیں گی۔ لیکن اگر ہم نے اپنی اجتماعی بے حسی اور سیاسی رویے نہ بدلے تو تاریخ یہی کہے گی کہ پاکستان کو سیلاب نے نہیں بلکہ بے حسی نے بہا دیا۔یہ چار سو جانیں صرف خیبرپختونخوا کا نقصان نہیں یہ پورے پاکستان کا دکھ ہیں۔ ان جنازوں کو دیکھ کر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے ماضی کے سانحات سے کیا سیکھا اور آئندہ کے لیے کیا لائحہ عمل بنایا۔ قومیں مشکلات سے گزرتی ہیں مگر زندہ قومیں ان سے سبق بھی سیکھتی ہیں۔ اگر ہم نے یہ سبق نہ سیکھا تو آنے والے دنوں میں تباہی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، اور ہر بار ہماری اجتماعی بے بسی مزید واضح ہو گی۔