الحمد للہ ہم نے یوم آزادی پورے جوش و جذبے سے منالیا ہماری شاہراہیں اور گلیاں کوچے تک گواہ ہیں کہ ہم نے کس طرح تہذیب و تمدن کے بخیے ادھیڑے ،معمولات زندگی کو پائوں تلے روند دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔
یہ تو ہرسال ہوتا ہے کہ یوم آزادی کے نام پر ہماری نوجوان نسل دنیا پر یہ اجاگر کرتی ہے کہ ہم ملک و قوم کے ساتھ کس طرح سماجی انصاف کرتے ہیں ۔اس موضوع کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج’’آزادی‘‘ کے حوالے سے ہمسایہ ملک اور اپنی ریاست کے اس موقع پر قوم و ملک کے لئے کئے اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
زیر موضوع تعلیم ،صحت اور شہری سہولیات ہیں جن کا موازنہ کرکے اپنے اور اپنے دشمن کی ذہنی بلندی و پستی کا اندازہ لگا سکیں ۔ بھارت جو ہمارے ساتھ آزاد ہوا وہ ہم سے ایک دن بعد یعنی 15اگست 1947 ء میں آزاد ہوا ۔دیگر امور کو چھوڑتے ہوئے سال رواں کے یوم آزادی کے موقع پر ہم نے اور اس نے حکومتی سطح پر قوم کو کیا دیا ہے ۔
دہلی اسمبلی نے آزادی کے اس موقع پر Transparency in Free Regulation بل2025 ء کا ایک قانون پاس کیا جو نجی تعلیمی اداروں میں واجبات کے تعین میں شفافیت، والدین کی شمولیت اور اپیل کا نظام فراہم کرتا ہے۔ اس سے 1700کے قریب نجی اسکول اس قانون پر عمل پیرا ہوں گے ۔اس موقع پروزیر اعلیٰ نے اس امر کے عزم کا عہد دہرایا کہ’’تمام بچوں خصوصاً درمیانی اور نچلے طبقے کے طلبہ و طالبات کو نجی اسکولز میں مالی دبائو کے بغیر داخلوں کی ضمانت دی جائے گی۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں امسال پچھلے سال کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کے حصے میں 127فیصد سے زیادہ فنڈز مختص کئے ہیں جو نئے اسکولز کی تعمیر ،لیپ ٹاپ اسکیم ،اسکالر شپ،اور انفراسٹرکچر کی آرائش و تزئین جیسے پروگرامز کے لئے ہوں گے‘گویا کہ دہلی اسمبلی نے قانون سازی اور شفافیت کے ذریعے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی روش اختیار کی جبکہ پاکستان خصوصاً پنجاب حکومت نے مالی سرمایہ کاری پر دھیان دیا اور اسکولز ڈھانچے، آلات اور وسائل کو فراہمی کو عملی تبدیلیوں کا ذریعہ بنا نے کی سعی کی ۔
اہل رائے انداز ہ لگاسکتے ہیں کہ ہمارے بجٹ میں نظام تعلیم کے فروغ کو اہمیت دی گئی ہے یا ان امور کو سرفہرست رکھا جن میں ٹھیکیداری نظام کو زیادہ فائدہ ہوگا؟
اسی طرح صحت کے نظام پر بات کی جائے تو سندھ حکومت نے مالی بجٹ میں 8 فیصد اضافہ کیا ہے اس اضافہ کئے فنڈز سے مختلف عوامی ہسپتالوں کو گرانٹس دی جائیں گی ۔
NICVD.NICH.JPMK جیسے ادارے ورڈ کلاس سہولیات میں تبدیل کئے جارہے ہیں۔ایک نیا 12منزلہ ٹاور اور اضافی وارڈز۔ JPMC( پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر) میں بنائے جارہے ہیں۔اس کے علاوہCyberKnifr Tomotherapyجیسے جدید سہولیات پر مشتمل ادارے مفت خدمات کے لئے فراہمی کا وعدہ پورا کیا جارہا ہے۔جو پورے ملک کے لئے اکائی علاج کی سہولت عطا کرے گا۔
اسی طرح آزادی کے موقع پر نارووال میڈیکل کالج میں White Coat ceremony کا انعقاد کیا گیا جس میں طبی تعلیم اور پروفیشنلزم کے فروغ کی آگہی دی گئی۔شہری سہولیات کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو دشمن نے یوم آزادی کے موقع پر موثر ،فوری اور براہ راست عوامی سہولیات والے فوری اقدامات اعلان کیا ۔جبکہ پاکستان میں فقط طویل مدتی انفراسٹرکچر اور رہائشی سہولیات میں سرمایہ کاری کی نوید دی جو روشن مستقبل کی دلیل ہے ۔
اس تقابلی جائزے کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ہمیں ملک میں تعلیم،صحت اور شہری زندگی کو خوشگوار بنانے پر زیادہ زور دینا ہوگا ۔شہریوں کو باشعور اور صحت مند بنانے کے لئے اداروں کو مضبوط اور بد عنوانی سے پاک بنا نا ہوگا ۔تبھی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا ۔کہ دشمن کا مقابلہ عمدہ انفراسٹرکچر سے نہیں تعلیم ،صحت اور شہریوں کی آگہی کا معیار بلند کرنا ہوگا۔