Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

مدنی مسجد کی تعمیر اور حکومتی ڈنگ ٹپائو پا لیسی

کہا جا رہا ہے کہ بعض مولوی نما عناصر نے شہید مدنی مسجد کے پیسے بھی وصول کئے ،عرض خدمت ہے کہ اگر بعض بد بخت ملاں نے پیسے لے بھی لئے تو ان کے اس فعل بد سے حکومت کے لئے مسجد کو گرانا کیسے جائز ہو گیا؟یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ مدنی مسجد کو شہید کرنے میں حکومت میں گھسی ہوئی بعض بدروحوں کی بد نیتی شامل تھی، غلطی اگر کسی مولوی کی ہے تو سزا اسے ملنی چاہیے نہ کہ مسجد کو، اگر کسی کے پاس مدنی مسجد کو بیچنے کے ثبوت موجود ہیں تو میری رائے میں فوری طور پہ پیسے وصول کرنے والوں کے خلاف نہ صرف یہ کہ ایف ائی آر درج کروانی چاہیے، بلکہ ان کے مکروہ چہروں کو عوام کے سامنے بھی بے نقاب کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ائندہ کوئی شخص اللہ کے گھر کو نہ بیچنے اور نہ خریدنے کی جرات کر سکے، لیکن بعض افراد کی غلطی کو بنیاد بنا کر شہید مدنی مسجد کی بہیمانہ اور ظالمانہ شہادت کی کسی قیمت پر بھی تائید نہیں کی جا سکتی، لنڈے کے لبرل اور سیکولر شدت پسند یہ پروپگنڈا کر رہے ہیں کہ مدنی مسج قبضے کی جگہ پہ بنی ہوئی تھی، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے ، اس لئے کہ مدنی مسجد نہ صرف یہ کہ قانونی بلکہ حکومت کے محکمہ اوقاف کے تحت تھی، نجانے بیوروکریسی اور حکومتی ایوانوں میں گھسی ہوئی بد روحوں کو یہ کس حکیم نے بتا رکھا ہے کہ مسجد کا مطلب ہی قبضہ کا پلاٹ ہے،لاحولا ولا قوتہ الا باللہ ،اللہ پاک ایسا غلیظ مائنڈ سیٹ رکھنے والی بد روحوں سے ملک و قوم کو نجات عطا فرمائے آمین ، مسجد کے تقدس اور حرمت کے مقابلے میں کسی گرین بیلٹ کی کیا اہمیت ہے؟اور کوئی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چئیر مین سی ڈی اے مسٹر رندھاوا سے سینئر صحافی آصف محمود کے ان سوالوں کا جواب پوچھ کر قوم کو بتائے کہ مدنی مسجد گرین بیلٹ پر تھی اس لئے شہید کر دی گئی ،مسجد سے چند قدم کے فاصلے پراسلام آباد کلب کے سامنے گرین بیلٹ کہاں جاتا ہے؟ کیا افسر شاہی کے اس عیش کدے پر بھی قانون کا اطلاق ہو گا؟ گرین بیلٹ کی طرح مارگلہ نیشنل پارک میں بھی تعمیرات پر پابندی ہے. تو کیا ٹی کے آر نامی ہوٹل کو بھی گرایا جائے گا؟کیا گنز اینڈ کنٹری کلب بھی نیشنل پارک کی حدود میں نہیں اس پر قانون کب لاگو ہو گا؟کیا فیض آباد سے اسلام آباد داخل ہوتے ہی جو ہولیس کا دفتر ہے جہاں لائسنس جاری کئے جاتے ہیں کیا وہ بھی نیشنل پارک میں ہونے کی وجہ سے غیر قانونی نہیں؟کیا گرائی گئی مسجد سے لے کر اسلام آباد کلب تک جتنے بھی ہوٹل ہیں سب کے سب نیشنل پارک کی زمین پر نہیں،تو یہ کیوں قائم ہیں؟ یہ لیز کن طاقتور لوگوں کے پاس ہے؟ کیا اسے بھی منسوخ کیا جائے گا؟کیا شکر پڑیاں کے اطراف میں قائم تمام دفاتر تمام ہوٹل نیشنل پارک میں ہونے کی وجہ سے غیر قانونی نہیں؟ کیا قانون میں صاف درج نہیں کہ نیشنل پارک میں تعمیرات نہیں ہو سکتیں، آخر سی ڈی اے اور وزیر داخلہ کو مسجدیں ہی غیر قانونی نظر کیوں آتی ہیں؟رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور میں دارالحکومت اسلام آباد میں مساجد گرانے کا جو مکروہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ جس کا رد عمل ملک و قوم کے لئے بہت خوفناک اور بھیانک ثابت ہوا تھا، اسی منصوبے کو گود لے کر تقریباً 100سالہ قدیمی مدنی مسجد کو شہید کر ڈالا گیا،یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ مسجد کی ظالمانہ شہادت کے اس کیس کو لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز اور محترمہ ام حسان نے اپنے ہاتھ میں لینے گریز کیا،وگرنہ اس حکومتی ظلم کے نتیجے میں اب تک خون کی ندیاں بہہ چکی ہوتیں،اعتدال پسند سمجھے جانے والے علماء کرام آگے بڑھے،اور انہوں نے حکومت کو اس ظلم سے روکنے کی کوشش کی وہ مولانا فضل الرحمن کہ جنہیں انتہائی زیرک اور مدبر سیاست دان سمجھا جاتا ہے،جنہوں نے نائن الیون کے بعد ہزاروں نوجوانوں کو پاکستان میں مسلح جدوجہد سے کاٹ کر قومی دھارے میں شامل رکھا،اس مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کے فلور پر مدنی مسجد کی مظلومانہ شہادت پر نہ صرف یہ کہ سخت ترین احتجاج کیا، بلکہ اسلام میں مسجد کے تقدس و اہمیت بھی سمجھانے کی کوشش کی۔
مولانا نے بڑا جرات مندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب تم نے کسی مسجد کو گرانے کی کوشش کی تو میرا نام فضل الرحمن نہیں ہے،اگر اعتدال پسندوں کے سرخیل مولانا فضل الرحمن کی ان باتوں کو حکومت نے سیئرس نہ لیا تو یہ اس ملک کی سلامتی کو دائو پہ لگانے کے مترادف ہو گا،جڑواں شہروں کے علماء اور عام مسلمان مسجد کو دوبارہ اسی جگہ تعمیر کرنے کے معاملے پر حکومتی بدعہد یوں کی وجہ سخت غم و غصے کا شکار ہیں، علماء کرام نے آئندہ جمعہ شہید مسجد ہی کے پلاٹ پر ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے،حکومت شائد یہ سمجھتی ہے کہ وہ ڈنگ ٹپائو پا لیسی اختیار کر کے مسئلے کا حل تلاش کر لے گی،یہی اس کی خام خیالی ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا ذکر روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے؟‘‘ ( سورہ البقرہ : 114) مدنی مسجد کو شہید کر کے اللہ کا ذکر روکا جا چکا اور مسجد کی بربادی کی کوشش ہی نہیں ، بلکہ مسجد کے نشانات تک کو مٹا ڈالا گیا، مساجد گرانے کا یہی ظلم اگر نریندرا مودی بھارت میں کرے تو ہمارے حکمرانوں سمیت پوری پاکستانی قوم سراپا احتجاج بن جاتی ہے، لیکن آج یہی زخم ہمارے دلوں پراسلام آباد میں لگ چکا ہے،اسلام آباد میں راتوں رات شہید کی جائے والی مدنی مسجد صرف ایک مسجد کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایمان اور شعائر اللہ کا معاملہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پچاس کے لگ بھگ دیگر مساجد کو گرانے کے نوٹس بھی جاری کئے گئے تھے ،ایک طرف حکومتی وزیر شراب کے لائسنس جبکہ ’’وزیرنیاں‘‘جدید سینمائوں کا افتتاح کر رہی ہیں اور دوسری طرف مسجدوں کو گرایا جا رہا ہے،پاکستانی عوام کی ذمہ اری ہے کہ وہ مسجد کو شہید کرنے والے حکمرانوں کے مکروہ چہرے پہچان لیں،سیدھی سی بات ہے کہ جنہیں شعائراللہ کا احترام نہیں،ہمیں بھی ان کا کوئی احترام نہیں، اگر کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت میں حکومتی چیرہ دستیوں سے بیت اللہ کی بیٹیاں مسجدیں بھی محفوظ نہیں تو پھر باقی کیا رہ جا تا ہے، پاکستان کی کوئی عمارت مسجد کی عمارت سے زیادہ نہ ضروری ہے اور نہ ہی متبرک،اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ علماء اور مذہبی حلقوں کے ساتھ ڈنگ ٹپائو پا لیسی اختیار نے کی بجائے شہید مدنی مسجد کو اس کے اصل مقام پر جلد سے جلد دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں