ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کی غلاظتوں میں سے سب سے بڑی غلاظت یہ در آئی کہ بعض مسلم گھرانوں میں ایسے گستاخ مرتد پیدا ہو گئے کہ جنہوں نے ناموس رسالت ﷺ پر حملے شروع کر دیئے وہ مرتد یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پاکستان نجم سیٹھوں ، ایمان مزاریوں اور میرا جسم میری مرضی اینڈ کمپنی کے باپ کی جاگیر ہے، لیکن پھر قانون حرکت میں آیا اور محمد عربی ﷺکے دیوانو ں،فرزانوں کی سات آٹھ سالہ اعصاب شکن قانونی جدوجہد کی بدولت سوشل میڈیا پر رسول رحمت ﷺ کی شان اقدس میں بد ترین گستاخیاں کرنے والے 450 سے زائد ملعون گستاخ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ہاتھوں ڈیجیٹل ثبوتوں سمیت قانون کے آہنی شکنجے میں آ گئے ،ان چار سو پچاس میں سے 38 گستاخ ملعونوں کو ملک کی مختلف عدالتیں سزاے موت سنا چکی ہیں،جبکہ باقیوں کا ٹرائل ابھی تک جاری ہے، صیہونی طاقتوں کے راتب خوروں کی سر توڑ کوشش ہے کہ ان سب کو رہا کروا لیا جائے ،اس کے لئے وہ جھوٹے پرو پیگنڈے اور پیسے کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں ،لیکن پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ایسا ممکن ہی نہیں اور پاکستان کے غیور عوام ان شااللہ یہ غیر قانونی کام ہونے بھی نہیں دیں گے، پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے،پاک سرزمین کو مقدس ترین شخصیات اور شعائیر اللہ کی توہین کے لئے استعمال کرنے والوں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا لازم ہے، کیونکہ نبی کریمﷺ کی ناموس کا تحفظ دراصل دین اسلام کا تحفظ ہے،اللہ کریم کے بعد جس ہستی کا ہم پر سب سے زیادہ احسان ہے وہ سرور کائنات رحمت عالم حضرت محمد ﷺکی ذات اقدس ہے، مسلمانوں کا نبی کریم ﷺ سے جو تعلق ہے وہ تمام دوسرے انسانی تعلقات سے بہت بڑا ہے۔
دنیا کا کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق، اس تعلق سے جو نبی کریم اور اہل ایمان کے درمیان ہے، ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا نبی کریمﷺ مسلمانوں کے لئے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں،لہٰذا وہی سب سے زیادہ قریب بھی ہیں یہاں تک کہ جان سے بھی زیادہ قریب، حقدار اور ولی بھی ہیں،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام الانبیا ﷺ نے ارشاد فرمایا میں دنیا اور آخرت میں ہر مومن کا سب سے زیادہ قریبی ہوں تو جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور مال چھوڑے تو وہ اس کے عصبہ (یعنی وارثوں)کا ہے اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں کہ میں ان کا مددگار ہوں (صحیح بخاری)جب رسول اللہﷺ کا حق تمام ایمان والوں پر سب سے زیادہ ہے تو ان کی محبت بھی اہل ایمان کے دلوں میں سب سے زیادہ ہونی چاہیے،یہاں تک کہ اپنی ذات سے، اپنے ماں باپ سے، اپنی اولاد سے بلکہ تمام انسانوں سے زیادہ محبت رسول اللہ ﷺ کی ذات سے کرنا لازم ہے ارشاد ہے تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت اپنے والد اپنے لڑکے اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو(بخاری، مسلم) اسی طرح یہ بھی روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہﷺ! آپ کی محبت میرے دل میں کائنات کے تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے، سوائے میرے نفس کے تو آقا نے فرمایا کہ اپنے نفس سے بھی زیادہ میری محبت ہونی چاہیے، تو انہوں نے کہا کہ اب اپنے نفس سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں،ناموس سے مراد آبرو، عزت، شہرت، عظمت اور شان ہے۔ ناموس رسالت سے مراد رسول کی آبرو، عزت، شہرت، عظمت اور شان ہے اور تحفظ ناموس رسالت سے مراد ہے کہ کسی بھی رسول کی آبرو، شہرت، عزت، عظمت یا شان کا لحاظ کرنا،ہر قسم کی عیب جوئی اور ایسے کلام سے پرہیز کرنا جس میں بے ادبی ہو ان تمام امور کا لحاظ رکھنا فرض ہے اور مخالفت کرنا کفرہے اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لئے سیدنا محمدﷺ کو رسول، رہنما و رہبر بنا کر مبعوث فرمایاآپ ﷺ نے اپنوں اور بیگانوں میں تریسٹھ سالہ ظاہری زندگی بسر کی وہ بھی بھر پور تمام کے ساتھ لین دین کیا مسجد کے مصلیٰ سے لے کر سربراہ ریاست تک آپ نے معاملات سر انجام دیئے اپنے تو کجا بیگانوں اور مخالفوں نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی ذات اقدس کے معاملات بھی اس قدر امین وپاکیزہ ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود کفار نے آپﷺ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔
آپﷺ نے اپنی ساری ظاہری حیات میں کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا ہاں حدود الہٰی توڑنے اور مخلوق پر ظلم و ستم کرنے والوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حضور اقدس ﷺکی ذاتِ اقدس میں اللہ جل شانہ نے وہ تمام انسانی بلند اوصاف و اخلاق جمع فرمادیئے، جن پر شرف انسانی کی بنیاد قائم ہے، آنحضرت ﷺکی نبوت ورسالت اس لحاظ سے بھی تمام انبیا ء سے بلند تر ہے کہ باقی انبیاء محض نبی ہیں جبکہ حضورؐ خاتم النبیین ہیں،ہر نبی اپنے سے پیشرو پیغمبر کے لئے مصدق اور بعد میں آنے والے نبی کے لئے مبشر ہوتا تھا یعنی اپنے سے پہلے گزرنے والے نبی کی تصدیق کرتا تھا اور جس نبی نے بعد میں مبعوث ہونا ہوتا اس کی آمد کی بشارت دیتا لیکن آپؐ کی ذات اقدس پر نبوت کا سلسلہ چونکہ ختم ہو چکا ہے اور آپﷺ کی نبوی تعلیمات قیامت تک کی انسانیت کے لئے باعث رشدو ہدایت ہیں۔صحابہ کرامؓ کی زندگیاں عشق مصطفی اور ادب مصطفی سے عبارت ہیں، مثلاً آپؐ کا خون مبارک زمین پہ نہ گرانا، وضو کا پانی نیچے نہ گرنے دینا بلکہ اسے اپنے اجسام پہ ملنا، موئے مبارک سنبھال کر رکھنا حتیٰ کہ آقا کریم ﷺ کے لعاب شریف سے شفاء اور برکت حاصل کرنا اور اس کے علا وہ اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں صحابہ کرام ؓ کا عشق و محبت ملتی ہے،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولائے کریم ہمیں اپنے پیا رے آقاسید الکونین،امام الانبیاء،خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی اتباع و پیروی کر نے کی توفیق نصیب فرمائیں۔