Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہے

غالب فہمی پر مکالمہ نئی بات نہیں ہے، منشائے ادب سے آگہی رکھنے والے بیسویں صدی کے دانشوران علم و ہنر نے کہا کہ یہ صدی’’غالب‘‘کی صدی ہے ہم نے مان لیاکہ نہ ماننے والے گھاٹے کے سوداگر کہلاتے ہیں ۔غالب شعر ادب کا وہ سمندر جس میں غواصی کرتے کرتے کئی صدیاں بیت جائیں گی ۔غالب پر مکالمہ جاری ہے اور نہیں معلوم کب تک جاری رہے۔شعر و ادب کی زنبیل سے ہر کوئی لفظ و معانی کے اپنے اپنے مطالب تلاش کرتا ہے اور یہ سلسلہ تھمنے والا بھی نہیں ۔سر دست زیر گفتگو حضرت غالب کا ایک شعر ہے کہ :
خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہے
جنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے
کہتے ہیں مبارک سعادت مند ہے وہ دل جو پورا کا پورا بے خبری کے جادو میں گھرا ہے ،مایوسی،دکھ اور غموں سے بے خبر ہے وہ جو خواہشوں اور آرزوئوں کے تعاقب میں رہتے ہیں انہیں بدلے میں فقط دیوانگی ، مایوسی اور غم ہی ملتا ہے ۔مراد یہ کہ انسانی زندگی کی سب سے بڑی کشمکش خواہش اور راحت و سکون ہے ۔ایک طرف دل میں آرزوئوں اور تمنائوں کا طوفان ،جو انسان کو دیوانگی، غم اور مایوسی کی جانب دھکیلتا اور دوسری جانب وہ دل ہے جو دنیاوی حرص و ہوس سے بے خبر ہے ،۔یوں راحت و سکون کا سر چشمہ ٹھہرتا ہے ۔کیونکہ آرزوئوں کا رزق دراصل صرف جنون و یاس اور الم ہی ہے۔
یہ خیال فقط فلسفہ حیات ہی نہیں بلکہ تصوف کی ریاضت کابنیادی اصول بھی ہے ،صوفیا کے نزدیک ’’بے خبری‘‘ جہالت نہیں بلکہ ترک خواہشات کی وہ کیفیت ہے جس میں دل دنیاوی مدعا سے آزاد ہوکر صرف اللہ کی یاد کا ہوکر رہ جاتا ہے ۔مدعاطلبی یعنی تمنا اور حرص و ہوس کی خواہش انسان کو دکھ اور درد کے سوا کچھ نہیں دیتے۔جبکہ ترک آرزو اور صبرو قناعت بندے کو وہ سکون عطاکرتی ہے کسی مال و منال یا اقتدار و اختیار سے حاصل نہیں ہو سکتا۔غالب کا مذکورہ شعر محض ایک شاعرانہ تعلی نہیں بلکہ ایک آفاقی صداقت ہے کہ اصل سعادت ’’بے خبری‘‘ اور’’بے نیازی‘‘ کے طلسم میں ہے اور اصل محرومی تمنائوں کے پیچھے بھاگنے میں ہے۔جو نفس کے دھوکے میں مبتلا رکھتی ہیں۔
ہم آج کی زندگی پر نظر ڈالیں اور سینکڑوں برس پہلے کی زندگی پر نگاہ دوڑائیں تو ایک ہی منظر ماضی و حال کا یکساں ہے کہ وہ ہمیشہ سے آرزوئوں اور تمنائوں کا اسیر رہاہے، کبھی دولت کی ہوس ،کبھی شہرت کی آرزو ، کبھی اقتدار کا جنون اور کبھی ذاتی مفادات کا حصول اس کا بڑا مقصد رہاہے مایوسی ،اضطراب اور تھکن نہ ختم ہونے والا ایسا خلا ہے جس کی حقیقت کا صدیوں سے انسان نظارہ کر رہا ہے جو اس کی ناتمنائوں کا سبب ہے جو اس کی ناکامیوں کا پیش خیمہ بنتی رہی ہے ۔غالب نے انسان کی انہیں کیفیات کو کمال ہنر سے آشکارا کیا ہے کہ ’’مدعا طلبی‘‘ یعنی آرزوئوں کے پیچھے رہنا انسان کا مقدر ہے ۔جو اسے جنون ،یاس اور الم کی قید میں رکھتا ہے ۔اس کے بر عکس جو دل ’’بے خبری‘‘کے حصار میں ہے وہ دنیا کے دکھوں سے ماورا اور حرص و حوس کی الجھنوں سے مبرا ہے ۔تصور کے تناظر میں شعر کے مزاج کی آگہی کو موضوع بنائیں تو یہ تصور اور بھی نکھر کر سامنے آتا ہے ۔
صوفیا ء کے نزدیک ’’بے خبری‘‘دراصل ترک نفس اور ترک تمنا ہے ۔یعنی انسان اپنی ذات کے خول کو توڑکر محض اللہ کی رضا کے تابع ہوجاتا ہے ۔دنیا کی مدعا طلبی جب تک دل میں زندہ رہتی ہے دل سکون سے محروم رہتا ہے ۔رومی کہتے ہیں ’’جس کے پاس ہزار خواہشیں ہیں ،وہ دراصل ہزار قید خانوں میں مقید ہے ‘‘۔صوفیا ء نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ سکون متاع زر کے انبار یا طاقت کے زعم میں نہیں بلکہ صبر و تحمل شکر ،بے نیازی اور ذکر الٰہی میں ہے۔’’غالب کے مذکورہ شعر کا حقیقی تناظر بھی یہی بنتا ہے کہ ’’اصل خوشی مدعا طلبی میں نہیں بلکہ بے خبری کے طلسم میں ہے‘‘۔
دور حاضر کے معاشی مسائل کی جڑ بھی یہی ’’مدعا طلبی‘‘ہے جس نے انسان کی خواہشات کو لامتناہی کردیا ہے کہ یہ زیادہ آسائشوں ، بے بہا سہولیات اور ہوس زر کا پتلا بن کر رہ گیا ہے ،اس کے وسائل جتنے بڑھ رہے ہیں یہ اتنا ہی تمنائوں کا اسیر ہوتا جا رہا ہے ۔ آرزوئوں کا بے مہار خوگر ۔سکون لٹ رہا ہے ،خوف و اضطراب اور بے انتہا تھکن اس کی ذات کا حصہ بن چکے ہیں ۔ہم بحیثیت مجموعی بے خبری کے طلسم سے نا آشناء ہوتے جارہے ہیں ،ہم اپنے دکھوں کے ازالے پر تیار نہیں اس لئے راحت و سکون سے دوری کو اس نے اپنا مقدر بنا لیا ہے۔ہم مدعا طلبی کی قیدسے نکلنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ غالب نے اس شعر میں ایک ابدی حقیقت کو بیان کیا ہے ۔ شعر کی اصل معنویت یہ ہے کہ ’’قناعت ،غنا اور بے نیازی انسانی رویوں میں آجائے تو دنیا باغ ارم بن جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں