Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

سیلاب آرہا ہے !

پنجاب، برصغیر کی وہ زرخیز زمین جسے دریائوں کی گود نے ہمیشہ پناہ دی، مگر انہی دریائوں نے وقتاً فوقتاً اپنی طغیانی سے اس دھرتی کو شدید تباہ کاریوں سے بھی دوچار کیا۔ پنجاب کی معیشت چونکہ زیادہ تر زرعی بنیادوں پر استوار ہے، اس لیے سیلاب نہ صرف انسانی جانوں اور مال و متاع کو متاثر کرتے ہیں بلکہ زراعت، صنعت اور مجموعی معاشرتی ڈھانچے کو بھی تہہ و بالا کرکے رکھ دیتے ہیں۔ پنجاب میں سیلاب کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے کبھی یہ محض فطری آفات کے طور پر سامنے آئے اور کبھی انسانی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی نے ان کے اثرات کو کئی گنا پاگل پن تک بڑھ جانے کا موقع دیا۔
تقسیم ہند کے بعد سے لے کر آج تک مختلف حکومتوں نے سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات ضرور کیے ہیں، جیسے بڑے ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر، پشتوں کی مضبوطی، ریلیف و ریسکیو اداروں کی تنظیم اور جدید وارننگ سسٹم کا قیام، لیکن اکثر یہ کوششیں وقتی نوعیت کی ثابت ہوئیں۔ ہر بڑے سیلاب کے بعد شور و غوغا تو بلند ہوا مگر طویل المدتی پالیسی سازی اور موسمیاتی تغیرات کے تقاضوں کے مطابق منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ جوں کا توں رہا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں سیلاب کی تاریخ دراصل ہماری ترقی و زوال، منصوبہ بندی و کوتاہی، اور حکومتی ترجیحات کی عکاسی بھی ہے۔ یہ موضوع نہ صرف ماحولیاتی اور جغرافیائی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ سماجی انصاف، پائیدار ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے سوالات کو بھی اجاگر کرتا ہے ۔
تقسیم ہند سے پہلے پنجاب میں سیلاب کی عام وجوہات دریائوں کی طغیانی اور مون سون ہوائیں ہواکرتی تھیں ۔برطانوی استعمار کا نزول ہوا تو نہری نظام تعمیر کیا گیا مگر اس قدرموثر نہیں کہ سیلابوں پر بہتر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ،فقط حفاظتی بند اور مقامی پشتے تعمیر کئے گئے جو سیلاب کی پہلی ہی پاگل لہروں سے سر ٹکرا کر ٹوٹ پھوٹ جاتے۔تقسیم کے بعد کا دور پانی کی تقسیم کا دور تھا جب حالات کی بہتری کے لئے 1960 ء میں ’’انڈس واٹر ٹریٹی‘‘ کے ذریعے حالات کو نیا رخ دینے کی پیش بندی کی گئی۔چونکہ 1950 ء سے 1956 ء تک بڑے بڑے سیلاب تباہ کاریاں مچا چکے تھے بلکہ ہزاروں انسانی جانوں کی قربانیاں لے چکے تھے۔1958 ء میں واپڈا کا قیام عمل میں آیا جس کا اولین مقصد پانی کے ذخائر اور سیلابوں کو قابو میں لانا تھا ۔1967 ء میں منگلا ڈیم اور 1976 ء میں تربیلا ڈیم تعمیر کیا گیا تاکہ سیلابی پانی کو ذخیرہ کرکے زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔لیکن 1973، 1976 اور 1992 ء کے سیلابوں نے ان ساری تدبیروں کو خاک میں ملادیا۔دھرتی ماں کو بڑی بربادی کے زخم سہنے پڑے، صرف پنجاب میں 10لاکھ ایکٹر سے زیادہ زرعی زمین اس تباہی کی کی نذر ہوئی اور سینکڑوں گائوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔حکومت وقت نے ’’فلڈ کمیشن ‘‘ تشکیل دیا ،پشتوں کومضبوط کرنے کی سعی کی مگرطویل مدتی منصوبہ بندی میں ہزار کمزوریاں رہ گئیں ۔
2010 ء کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قدرتی سانحہ تھا جب فقط پنجاب ہی میں کروڑوں افراد کی زندگیاں دائو پر لگیں ،خاندان کے خاندان بربادی کا شکار ہوئے ۔اس کے بعد2014 ء میں دریائے چناب میں آنے والے سیلاب نے گوجرانوالہ، حافظ آباد ،جھنگ اور لاہور تک پر شدید دستکیں دیں ۔پھر 2022 ء میں غیر معمولی بارشوں نے دریائوں کی طغیانی کو مہمیز لگائی اور پانی کی بپھری ہوئی لہروں نے بڑے پیمانے پر نظام زندگی پر چوٹیں لگائیں۔ایمرجنسی ریسکیو آپریشن، فوج اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی سے لوگوں کے انخلامیں بہت مدد میسر آئی ،متاثرین کے لئے ریلیف کیمپ ، عارضی بستیاں اور کھا نے پینے کی اشیا اور ادویات کی فراہمی کی صورتحال کافی حد تک بہتر رہی ،تباہ حال لوگوں کے مکانات اور فصلوں کے نقصان کے ازالے کے لئے بہت کچھ کیا گیا ۔مگر واپڈا کی نگرانی میں چلنے والا فلڈ وارننگ سسٹم ہو یا حفاظتی بند پشتے اور سپل ویز کی تعمیر ،فلڈ کمیشن ہو یا نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ سب کی کوتاہیاں تب روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہیں جب بادل باولے ہوتی ہیں ،ہوائیں پاگل ہوتی ہیں ، ان محکموں کے کئے ہوئے سارے سامان دھرے رہ جاتے ہیں ۔
تباہی بربادی ،زمینی اور انسانوں کا جانی نقصان سب منہ کھولے سامنے آجاتے ہیں ،بند ،پل بھر میں ٹوٹ جاتے ہیں جانوروں اور انسانوں کی لاشوں کے پشتوں کے کشتے لگ جاتے ہیں ،بچے کھچے متاثرین تصویری سیشن کراتے وزرا ء کے منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور حکمران اپنے پورے پورے خاندان ہمراہ لئے امداد کے لئے بیرون ملک نکل جاتے ہیں۔اب پھر ایک سیلاب پنجاب کیلئے عذاب الٰہی بن کر آنے کو ہے،حکمرانوں کو بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال سے فرصت نہیں قیدی نمبر 804 کے بہی خواہ سڑکوں پر آنے کی کشمکش میں ہیں کسے خبر ہے کہ لحظہ لحظہ لرزتے رہتے ہیں سب گھروندے ہمارے اندر ، ہر ایک منظر بچشم تر ہے، کسے خبر ہے ؟

یہ بھی پڑھیں