فلسفہ کے ماخذات ، فلاسفہ ،ان کے نظریات اور تصانیف کا سادہ مفہوم ،جاننے کے لئے ہمیشہ سے ترد کا سامنا رہا ہے جس کے ازالے کیلئے اب بہت سارے ذرائع موجود ہیں ،جن میں ایک بڑا ذریعہ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت ہے ۔ان سب سے استفادہ کرتے ہوئے فلاسفہ اور ان کے افکارو نظریات کے مختصر تعارف کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے جس میں وسعت فکر کے لئے آپ کی اپنی کاوش سونے پر سہاگہ ہوگی۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے ’’اسپینوزا‘‘ کا جامع تعارف پیش کیا جا رہاہے ۔
( 24نومبر1632 ء ،1677ء) اسپینوزا جن کا پورا نام باروخ اسپینوزا (Baruch Spinoza) تھا ، وہ1632ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بعد ازاں اپنانام Benedictus de Spinnza رکھ لیا ۔پیدائشی حوالے سے وہ ایک بنیاد پرست یہودی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے یہودی مذہب کی تعلیم حاصل کی۔مگر یہودیت کے روایتی مذہبی افکار سے ان کی تسلی نہ ہوئی۔چونکہ وہ ایک پرتگالی یہودی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو ہسپانیہ میں ظلم کا شکار ہونے کی وجہ سے نیدرلینڈ ہجرت کر آیا تھا ۔یہاں انہوں نے یونانی فلسفہ خاص طور پر ارسطو اور افلاطون کے افکارو نظریات کا وسعت قلب و نظر سے مطالعہ کیا اس کے بعد عقل پرست فلسفی رینی ڈیکارڈ Descartes کو بہت گہری دلچسپی سے پڑھا اورعقل پرستی کے فلسفہ نے اسپینوزا کے دل و دماغ میں جگہ بنا لی ۔
اسپینوزا پورےجرات ذوق کے ساتھ اپنے نظریات کے اظہار پرمائل ہوئے تو ان کی یہودی برادری نے 1656ء میں انہیں اپنے حلقہ فکر سے خارج کردیا۔تاہم اسپینوزا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ جدید مغربی فلسفے کا بانی کہلایا۔اس نے اپنے خیالات و تصورات کا ببانگ دہل اظہار کیا ،انہوں نے برملا کہا کہ ’’خدا اور کائنات الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خدا کوئی شخصی وجود نہیں بلکہ کائنات کی لازمی اور لا محدود ماہیت ہے ۔
’ان کی معروف ترین کتاب جو ’’فلسفہ اخلاق‘‘ پر مشتمل تھی”Ethics” 1677 میں شائع ہوئی۔ جس میں انہوں نے ریاضیاتی اسلوب میں خدا۔ فطرت ، انسان اور اخلاقیات پر بحث کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’انسان کی آزادی تبھی ممکن ہے جب وہ اپنی خواہشات کی بجائے عقل کی روشنی میں زندگی بسر کرے‘‘۔اسپینوزا نے مذہب کو عقل کے تابع کرنے پر زور دیا ، ان کے خیال میں ’’وحی اور مذہب کا منتہا اخلاقی رہنمائی ہے ،جبکہ فطرت کے قوانین کی تفہیم عقل اور سائنس سے ممکن ہے ۔
اسپینوزا نے سیاست اور آزادی فکر کےحوالے سے بھی اپنے نظریات کا اظہار کیا اور مذہبی تعصب اور جبر کی سخت مخالفت کی،کیونکہ وہ ضمیر کی آزادی اور اظہار کی آزادی کے حامی تھے جو بعد ازاں جدید جمہوری فکر اور لبرلزم پر اثر پذیر ہوئے۔
اسپینوزا نے تصنیفی کام بھی کیا۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں بتایا گیا ان کی بنیادی اور اولین تصنیف کا موضوع Ethics یعنی ’’الہیاتی اخلاقیات‘‘ تھا۔” Theological-Political Teaties ” نام کا ایک سیاسی کا رسالہ بھی شائع کیا جس میں آزادی فکر، سیاست اور انقلابی خیالات کے فروغ کی کوشش کی ۔انہوں نے بعض اور رسائل اور خطوط بھی اپنے فلسفہ کی تفہیم کے لئے جاری کئے۔
اسپینوزا ایک نہایت سادہ اوردرویش منش انسان تھے اور گوشہ نشینی پسند کرتے تھے۔وہ عینکوں کی مرمت کے پیشے سے وابستہ تھے اور افلاس کے گزر اوقات میں بھی اطمینان بخش زندگی بسر کر رہے تھے۔عمر کے آخر میں وہ پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار ہوگئے اور 21فروری 1677 ء میں چوالیس سال کی عمر میں نیدر لینڈکی سیاست کے مرکزی شہر ’’ہیگ‘‘ میں ان انتقال ہوا ، جو عالمی سطح پر امن و انصاف کے اداروں کا گڑھ بھی کہلاتا ہے۔