مرزا جہلمی، رسالت مآب ﷺکی گستاخی کے الزام میں گرفتار ہو چکا ہے ،مرزا جہلمی کی حالیہ گستاخیوں پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ،شدت پسندی کی کوکھ سے جنم لینے والے لنڈے کا لبرل بننے کے شوقین ایک یوٹیوبر ’’مفتی‘‘ نے مرزا جہلمی کو بے گناہ ثابت کرنے کے شوق بد میں مبتلا ہو کر اپنے ایک ویڈیو کلپ میں قانون ناموس رسالت 295 سی کو شدت پسند مولویوں کے ساتھ جوڑنے کی جو باریک واردات ڈالی ہے، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کہرام بپا ہے،سوشل میڈیا کے جراثیم اور شہرت کی بھوک نے بڑے بڑے نامور منہ کے بل گرا دئیے، ان فتنہ پرور یو ٹیوبرز کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے،باقی مسلمانان پاکستان اطمینان رکھیں،کسی یوٹیوبر لبرل مفتی یا ملحد، کی کسی بھی باریک واردات سے قانون ناموس رسالت کا کچھ نہیں بگڑے گا،ہاں البتہ ان وارداتیوں کے اپنے اندر کا بگاڑ اتنا بڑھ جائے گاکہ یہ دولت کے انبار اور حفاظتی لشکروں کے کڑے پہرے میں بھی رسوائیوں کے سمندر میں جا گریں گے،کوئی انہیں بتائے کہ یہ آقا و مولیٰ ﷺکی ناموس کا مسئلہ ہے اور ناموس رسالت ﷺپر حملے کر نے والے ، ان کے سہولت کاروں اور ان کے لئے ہمدردی کا جذبہ رکھنے والوں کو دنیا اور آخرت میں ذلیل ہونا پڑتا ہے ،اس موضوع پر تفصیلی گفتگو آئندہ کسی کالم میں۔
آج کے کالم میںترک اسرائیل تجارتی تعلقات کے حوالے سے بات کرنا ضروری ہے ،سینئر صحافی ضیاء چترالی کے مطابق ،ترکی نے ایک اہم اور جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے دجالی ریاست اسرائیل کے ساتھ تمام اقتصادی و تجارتی تعلقات ختم کرنے اور اپنی فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے استنبول میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسی اب صرف غزہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ القدس، مغربی کنارے، شام، ایران اور لبنان تک پھیل چکا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کا مقصد غزہ کی مکمل زمین پر قبضہ کرنا اور دو ریاستی حل کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنا ہے، جبکہ امریکی حمایت نے اسرائیل کو مزید بے خوف بنا دیا ہے۔ہاکان فیدان نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل ’’غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے‘‘ اور ’’فلسطینیوں کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے‘‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق عالمی نظام اسرائیلی مظالم کو روکنے میں ناکام ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترکی نے اپنے طور پر سخت ترین قدم اٹھایا ہے۔یہ فیصلہ ترک اسرائیل تعلقات کی تاریخ کے تناظر میں کوئی غیر متوقع پیش رفت نہیں ہے۔ ان دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ ترکی 1949 ء میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا پہلا مسلم اکثریتی ملک تھا۔ نوے کی دہائی میں تعلقات اپنے عروج پر پہنچے جب دفاعی معاہدے، فوجی مشقیں اور انٹیلی جنس تعاون دونوں ملکوں کو قریب لے آئے۔ تاہم فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں نے بارہا انقرہ کو سخت اقدامات پر مجبور کیا۔2010 ء کے ’’ماوی مرمرہ‘‘ (فریڈم فوٹیلا) واقعے نے تعلقات کو شدید دھچکا پہنچایا۔ جب اسرائیلی کمانڈوز نے ترک امدادی جہاز پر حملہ کر کے دس ترک شہریوں کو شہید کیا تو انقرہ نے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور اسرائیلی سفیر کو بھی ملک سے نکال دیا۔ بعد ازاں 2016ء میں تعلقات جزوی طور پر بحال ہوئے اور سفارتی سطح پر دونوں ممالک نے معمول کی راہ اپنانے کی کوشش کی۔ لیکن ہر نئی اسرائیلی جارحیت کے ساتھ یہ تعلقات پھر سے کشیدگی میں ڈھل گئے۔
موجودہ فیصلہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ترکی اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ عملی طور پر بھی اسرائیل پر دبائو ڈالنے کے لئے تیار ہے۔ تجارتی تعلقات ختم کرنا اور فضائی حدود بند کرنا اسرائیل کے لئے ایک نمایاں دھچکا ہے کیونکہ ترکی مشرقی بحیرہ روم اور یورپ کے درمیان ایک اہم اقتصادی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں کئے گئے۔ انقرہ نے سفارت خانوں یا سفیروں کے تعلق سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی اپنے لئے مستقبل میں مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔علاقائی سطح پر یہ فیصلہ اسرائیل کے لئے مزید تنہائی کا باعث بن سکتا ہے۔ ترکی، قطر اور مصر مل کر مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے سرگرم ہیں اور اگر ان ممالک کی کوششوں کو وسیع عرب اور مسلم دنیا کی حمایت ملے تو اسرائیل پر دبائو بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور مغربی ممالک اب بھی اسرائیل کے بڑے حامی ہیں اور ترکی کے اس فیصلے کو کھلے عام سراہنے کے امکانات کم ہیں۔ البتہ اس قدم نے عالمی رائے عامہ میں اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف ایک نئی بحث کو ضرور جنم دیا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ترکی کا فیصلہ صرف فلسطینیوں کے حق میں یکجہتی کا اظہار نہیں بلکہ ایک وسیع تر پیغام بھی ہے کہ اسرائیلی جارحیت کو بغیر لاگت کے جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ اقدام سفارتی تعلقات کے خاتمے تک تو نہیں پہنچا، مگر اس نے ظاہر کر دیا ہے کہ انقرہ اپنے معاشی مفادات قربان کر کے بھی مسئلہ فلسطین پر اصولی موقف اپنانے کو تیار ہے۔