یاسین ملک صرف ایک فرد نہیں، بلکہ کشمیری عوام کی آزادی کی اس جدوجہد کا روشن چراغ ہیں جو سات دہائیوں سے جاری آزادی کی جدوجہد کا استعارہ ہیں۔ بھارت اگر انہیں بے پناہ صعوبتوں یا پھانسی کے ذریعے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے گا تو وقتی طور پر یہ اس کی جارحیت یاطاقت کا اظہار سمجھا جا سکتا ہے ۔ لیکن تاریخ کا سب سے بڑا سبق یا المیہ یہ ہے کہ شہیدوں کی میتوں کو دفن بھی کر دیا جائے تو ان کی قربانیوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا، بلکہ ان کی قربانیاں تحریکوں کو نیاجنم دیا کرتی ہیں۔برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ بھگت سنگھ کی پھانسی آزادی کے جذبے کو بجھانے کے بجائے پورے ہندوستان میں آزادی کی چنگاریوں کو اور ہوا دے گئی۔
فلسطین ، جنوبی افریقہ اور خود کشمیر میں کئی رہنما قید و بند اور پھانسی کے تختوں پر چڑھا دینے کے باوجودآزادی کی تحریکوں کے پرچم لہرانا بند نہیں ہوئے۔بھارت کا یہ خیال کہ یاسین ملک کو ختم کرنے سے تحریک دب جائے گی، ایک تاریخی بھول ہوگی۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا تحریکیں کسی ایک شخص کی جدو جہد پر قائم ہوتی ہیں؟ نہیں۔ تحریکیں عوام کے دلوں میں موجود جذبہ محرومی، اور قربانیوں پر قائم ہوتی ہیں۔یاسین ملک اگر زندہ رہیں گے تو ایک جیتے جاگتے استعارے کے طور پر دنیا کو کشمیر کی یاد دلاتے رہیں گے، اور اگر انہیں پھانسی دی گئی تو وہ ایک دائمی زندگی صورت میں تحریک آزادی کشمیر کے چراغ کو مزید روشن کر دیں گے۔یعنی انہیں راستے سے ہٹانے سے جدو جہد آزادی کا چراغ بجھنے کے بجائے اور بھی تیز لو دینے لگے گا۔
قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار کی طاقت کے نشے میں مست حکمران جب آزادی کی کسی تحریک کو کچلنے کی غرض سے اس کے رہنمائوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے کی سعی نا ہنجار کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے اس اقدام سے آزادی کی جدوجہد اور توانا ہوتی ہے اسے ایک نئی زندگی عطا ہوتی ہے ۔ یاسین ملک کی سزائے موت یا طویل سزا کا فیصلہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی بوکھلاہٹ اوراس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وہ کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو دبانے یا شکست دینے میں بے نیل و مرام ہو چکی ہے۔
نیلسن منڈیلا کی قید نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کو مزید توانائی بخشی، عین اسی طرح یاسین ملک کی قربانی بھی کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے لئے عوام کے دلوں کو اور مہمیز لگائے گی۔یاسین ملک فقط حریت فکر کا ایک مجاہد نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے ۔نظریئے کو کسی طور دبایانہیں جا سکتا نہ ہی پابند سلاسل رکھا جا سکتا ہے اور یہ کہ آزادی کی تحریک کا ایک رہنما نہیں ہوا کرتا بلکہ ہر فرد اپنے تئیں ایک رہنما ہوتا ہے ، آزادی تو لاکھوں سینوں میں روشن ہونے والا ایک چراغ ہوتا ہے جسے نسل در نسل لہو سے جلتا ہوا رکھا جاتا ہے ۔
بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ یاسین ملک کو راستے سے ہٹا کراسے سولی پر چڑھا کر آزادی کی تحریک کو ابدی نیند سلا دیا جائے گا تو یہ کی تاریخی غلطی ہے ،تاریخ کا سبق نہیں ہے ۔تاریخ روز اول سے یہ سبق دہراتی رہی ہے کہ جب بھی جابرقوتیں طاقت کے گھمنڈ میں آزادی کی صدائوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں اس راستے میں بہایا جا نے والا لہو ان آوازوں کو اور بلندی کی قوت سے سرفراز کرتا ہے ۔
یاسین ملک کو پھانسی کے گھاٹ اتارا گیا تو یہ بھارت کے دامن پر سے کبھی نہ مٹایا سکنے والا عظیم داغ بن جائے گاجو کبھی دھویا نہ جا سکے گا۔یہ پورے عالم پر یہ اجاگر کرے گا کہ طاقت کے ایوان عوام کی جدو جہد کو کبھی کمزور نہیں کرسکتے ہوتے۔یاسین ملک کو پھانسی دے دیناشاید بھارت کے لئے لمحاتی کامیابی کا سبب ہو مگر مستقبل کے لئے یہ کامیابی پھولوں کا ہار نہیں باعث آزار ہوگی۔ جدو جہد آزادی کی کسی کوشش کو کبھی ظلم کی زنجیروں میں نہیں جکڑا جاسکتا ، نہ تختہ دار پر چڑھا کر فکر کی آزادی کے متوالوں کے خوابوں کو لہو رنگ کیا جاسکتا ہیکہ شہدا کا خون زمین کے سینے میں جذب ہوکر نسلوں کی بیداری کا سبب بنتا ہے۔
بھارت جان لے کہ آزادی کے چراغ لہو سے جلتے ہیں اور لہو سے جلنے والے چراغ بجھنے کی بجائے صدیوں تک کی نسلوں میں روشنی بانٹتے رہتے ہیں ۔ایسے ہی جذبات کا اظہار یاسین ملک کی تیرہ سالہ بیٹی رضیہ سلطان نے اپنے والد سے جیل میں ملاقات کے دوران کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ ،امریکہ ، چین اور دیگرموثر ممالک سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کرکے اس کے والد کو بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والی غیر منصفانہ اورسیاسی بنیادوں پر مبنی سزا سے بچائیں ۔
انہوں نے اپنے والد کی سزا کو ’’کنگرو کورٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے جھوٹے الزامات کے تحت سزا سنانے کی مذمت کی ’’ رضیہ سلطان نے خود کو کشمیری حریت فکر کا نیا چراغ کہا‘‘۔