Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

عظیم کشمیری حریت پسند رہنما سید علی گیلانی

سید علی گیلانی، پاکستان حامی رہنما تصور کیا جاتے تھے اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لئے ستون کا درجہِ رکھتے تھے۔ان کے نظریے کا خلاصہ یہ نعرہ تھا ’’ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔‘‘ طویل اسیری کے دوران ان کی شہادت نے عالمی برادری پر بھارت کے ریاستی جبر و استبداد کو مزید بے نقاب کردیا ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1952 ء میں جماعت اسلامی سے کیا۔اپنی زندگی کا بڑا حصہ تحریک آزادی کشمیر کے لیے جیل میں بسر کیا۔ سید علی گیلانی نے انڈین پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کی سخت مخالفت کی۔انہوں نے 1987 ء کے انتخابات کے دوران مسلم یونائیٹڈ فرنٹ میں ایک اہم کردار ادا کیا جبکہ 1992 ء میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا۔سید علی گیلانی نے کشمیر میں ہندوستانی اقدامات کے خلاف 2008 ء کے بعد اہم تحریکوں کی قیادت کی اور بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور A35 کی منسوخی کے بعد انہوں نے اپنی شہادت تک کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے جدوجہد جاری رکھی۔
اگست 2019 ء سے 2021ء میں اپنی شہادت تک گھر میں نظر بند رہے لیکن اپنے مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ حکومت کی جانب سے ان کی تدفین کی اجازت سے انکار کی بدولت ہندوستان کو بین الاقوامی مذمت کا سامنا کرنا پڑا ۔بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی اس حرکت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں تصور کیا جاتا ہے۔یکم ستمبر کو عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی برسی ہمیشہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف تجدید عہد کے طور پر منائی جاتی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ آزادی کی جدوجہد میں گزارا ہے۔
تحریک آزادی جموں و کشمیر کی توانا آواز بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی رہتی دنیا تک بھارتی ریاستی جبر کے خلاف مجاہدانہ مزاحمت کی علامت بن کر تاریخ کے صفحات میں امر ہو گئے ہیں۔ سید علی گیلانی نے کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف زندگی کی آخری سانس تک جدوجہد کی۔ سید علی گیلانی نے بھارت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے حریت کانفرنس اور تحریک حریت جیسی فعال تنظیموں کی بنیادیں بھی رکھیں، بابائے حریت سید علی گیلانی تین بار مقبوضہ جموں و کشمیر میں سوپور کے حلقے سے اسمبلی ممبر منتخب ہوئے تھے۔کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے لگ بھگ ربع صدی کا عرصہ بھارتی زندانوں میں گزارا، انہوں نے دوران اسیری اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب روداد قفس بھی تحریر کی۔2010ء سے وفات تک 11 سال مسلسل غاصب ہندوستانی حکومتوں کے حکم پر نظربند رہے، سید علی شاہ گیلانی کا پاسپورٹ 1981ء سے بھارتی حکومت نے ضبط کر رکھا تھا، سید علی شاہ گیلانی یکم ستمبر 2021ء کو حیدرپورہ سرینگر میں دوران اسیری ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ عہد حاضر میں ایسی شہادت کی نظیر ملنا مشکل ہے۔وفات کی خبر ملنے پر خوفزدہ مودی سرکار نے وادی بھر میں کرفیو لگا دیا، انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ معطل کر دیئے گئے۔
سید علی گیلانی کا جسد خاکی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر لحد میں اتارا گیا، سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر قومی اسمبلی میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور قومی پرچم سرنگوں کیا گیا۔پاکستان کے 73ویں یوم آزادی کے موقع پر تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما سید علی گیلانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے انہیں نشان پاکستان کے قومی اعزاز سے نوازا۔ بلاشبہ سید علی گیلانی کا جذبہ حریت آج بھی مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کی عظیم علامت بن کر غاصب بھارتی حکومت کو چیلنج کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں