(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک موقع پر حضرت اسید بن حضیرؓنے بھی گزارش کی کہ آپﷺ یہ اینٹیں مجھے دے دیں مگر آپﷺ نے فرمایا: ’’ تم دوسری جا کر لے آئو‘ اللہ تعالیٰ کی طرف نیکیاں حاصل کرنے میں تم مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہو‘‘۔ ان مزدوران باصفا میں سیدنا عمار بن یاسرؓ کچھ زیادہ ہی جاں فشانی اور مستعدی سے مصروف کار تھے‘ سید نا ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھاتے مگر عمار دو دو اٹھاتے تھے‘ جب حضور انور سراپا رحمتﷺ کی نگاہ ان پر پڑی‘ تو شفقت اور تاسف بھرے لہجہ میں ان کے وجود سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمایا: ’’ افسوس کہ عمار ؓکو باغیوں کی ایک جماعت قتل کر ے گی…. عمارؓ انہیں جنت کی دعوت دیں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف بلائیں گے‘‘۔یہ سنتے ہی حضرت عمار ؓ کہنے لگے میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مامانگتا ہوں۔
سید ہ عائشہ صدیقہ طاہرہؓ فرماتی ہیں کہ جب مسجد نبوی شریف کا سنگ بنیاد رکھا جانے لگا ‘ تو سردار دو عالمﷺ نے پہلا پتھر اپنے دست اطہر سے نصب فرمایا ‘ پھر صدیق اکبرﷺ پتھر لائے اور اس کے ساتھ رکھ دیا‘ بعد میں سید نا فاروق اعظمؓ نے اس کے ساتھ اپنے ہاتھ سے پتھر رکھا اور پھر سیدنا عثمان ذی النورین ؓنے ان کے نصب کردہ پتھر کے ساتھ اپنے ہاتھ سے پتھر لگا دیا۔میں نے حضور انورﷺ کی خدمت میں گذارش کی۔ کہ اے اللہ! کے حبیب ﷺ غور فرمائیں یہ لوگ کس لگن کے ساتھ کام میں مصروف ہیں۔ آپﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا۔ عائشہؓ ! یہ لوگ میرے بعد خلعت خلافت سے نوازے جائیں گے۔ امام حاکمؓ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین کی شرائط کے مطابق ہے۔ سید ناطلق بن علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں بارگاہ رسالت مآبﷺ میں حاضر ہوا۔ جبکہ آپ اپنے جاں نثار صحابہؓ کے ساتھ تعمیر مسجد میں مصروف و منہمک تھے۔ آپ کو گارا پسند نہ آیا‘ میں پھاوڑہ لے کر گارا بنانے لگا۔ جب اسے اچھی طرح گوندھ کر تیارکیا‘ تو آپﷺ نے بہت پسند فرمایا‘ اور فرمایا کہ یمامی گارا بنانے میں خوب مہارت رکھتا ہے‘ لہٰذا اس سے یہی خدمت لی جائے۔امام ابن نجار بیان کرتے ہیں‘ نبی معظمﷺ نے مسجد کی بنیادیں پتھروں سے اٹھائیں اور دیواریں کچی اینٹوں سے بنوائیں۔ اور مسجد کے تین دروازے رکھے‘ ایک جنوب میں دوسرا مغرب کی طرف باب عاتکہ جسے باب الرحمت بھی کہا جاتا تھا۔ اور تیسرا مشرق کی جانب باب عثمانؓ‘ جس سے آپ مسجد میں تشریف لاتے تھے،پھر جب بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ قبلہ مقرر ہو گیا۔ تو آپ نے جنوب والا دروازہ بند کر کے اس کے برابر میں شمال کی طرف دروازہ بنا دیا۔ دوسرے دونوں دروازے اپنی جگہ قائم رہے‘مسجد مربع شکل تھی۔ جس کا طول و عرض 70×70 ذراع تھا‘ پہلی تعمیر کے وقت دیواروں کی بلندی قدم آدم سے کچھ زیادہ تھی۔مسجد نبویؐ کی پہلی تعمیر کا حدود اربع 105 مربع فٹ تھا۔ مسجد کے تین دروازے تھے اور چھت نہ تھی۔ سیدہ عائشہؓ کے حجرہ کے جنوب مغرب میں سیدہ سودہ ؓ کا حجرہ تعمیر ہوا۔مسجد کے شمال مشرقی کونے میں اصحابؓ صفہ کا چبوترہ تعمیر کیا گیا۔
احادیث اور تاریخ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضوراقدسﷺ نے ابتداء میں چھت کے بغیر صرف دیواروں پر مشتمل مسجد بنائی تھی۔ پھر جب صحابہ کرامؓ گرمی کی شدت سے دوچار ہوئے تو اس تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے آپﷺ نے چھت بنانے کی اجازت چاہی‘ آپﷺ سے چھت بنانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ چنانچہ صحابہؓ نے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھجور کے ستون کھڑے کئے اور ان کے اوپر کھجور کی لکڑی ‘ شاخیں اور ازخر وغیرہ گھاس ڈال دیا۔ جبکہ دیواریں صرف قد آدم کے برابر بلند تھیں۔
اس کیفیت کو سید نا عبداللہ بن عمر ؓ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’’ حضور اقدسﷺ کے زمانہ میں مسجد کچی اینٹوں کی بنی ہوئی ‘ ستون کھجور کے شہتیرکے اور چھت کھجور کی شاخوں کی تھی۔ جبکہ مسجد کی چھت جو 8 ھ میں بنائی گئی تھی‘‘۔(ابن ماجہ)
مذکورہ بالا تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ چھت صرف دھوپ سے بچائو کے لئے بنائی گئی تھی۔ مگر اس سے بارش کا پانی نہیں رک سکتا۔ اس لئے جب پانی ٹپکنے کے باعث صحابہ کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تو پھرمحبوب انس و جاںﷺ کی خدمت میں عرض پرداز ہوئے یا رسول اللہﷺ اگر اجازت ہو تو چھت پر مٹی ڈال دی جائے کیونکہ بارش کی وجہ سے پانی ٹپکتا ہے ( اور نمازکی ادائیگی میں دقت پیش آتی ہے) آپﷺ نے فرمایا میری مسجد عریش موسیٰ کی مانند ہے۔سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے جس چھپر کی مطابقت کے کار بند حضور اقدسﷺ تھے اس کی نوعیت یہ تھی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوتے تو سر چھت کے ساتھ لگ جاتا تھا۔
مسجد نبویؐ شریف معمولی اور سادہ بناوٹ میں اپنی مثال آپ تھی اور عریشی موسوی سے بھی کچھ زیادہ ہی سادہ تھی۔ بارش کے دوران چھت سے پانی ٹپکتا اور مسجد کیچڑ سے بھر جاتی‘ لیکن نیازمندی کا ایسا انوکھا مظاہرہ شائد چشم فلک نے بھی نہ دیکھا ہو کہ سرور کون و مکان‘ سلطان زمین و زماںﷺ اور شمع رسالتؐ کے پروانے اسی مٹی گارے میں خالق کائنات کے حضور جبین نیازجھکاتے ہیں اور اس کی کبریائی اور یکتائی کا ورد نوک زباں ہے وہ قدسی نفوس اس سادہ سی مسجد کی زینت تھے ‘جن کے دامن ایمان کی تابانیوں‘ دین کی سرشاریوں‘ ذکر و فکر کی لذتوں‘ تسبیح و تہلیل کی حلاوتوں اور جلوئہ محبوبﷺ کی کیف سامانیوں سے جگمگا رہے تھے‘ اس لئے کہ انہیں مسجد کی سادگی میں کیف و سرور حاصل ہوتا تھا۔
میں یہ حیرت انگیز منظر دیکھ رہا تھا کہ سرور کونینﷺ اسی پانی اور کیچڑ میں سجدہ ریز ہیں۔ حتیٰ کہ نماز سے فارغ ہونے کے باوجود آپ کی پیشانی پر کیچڑ کے نشانات نظر آرہے تھے۔مسجد نبویؐ شریف کی سادگی بے مثل و بے مثال اور نادار الوجود ہونے کے باوصف اس کی عزت و عظمت اور شان بیان سے فزوں تر ہے۔ اس کی رفعت شان اور قدرومنزلت کا کیا کہنا‘ جس کے ذروں پر سرور کون و مکاں‘ سلطان زمین و زماںﷺ کے سجدوں کے نشانات آج تک تابندہ ہیں۔
جیسا ابھی بیان ہوا کہ مسجد کا فرش خاکی بارش کے باعث کیچڑ کی شکل اختیار کرلیتا تھا ایک مرتبہ رات کو بارش ہوئی اور فجر کی نماز کیچڑ ہی میں پڑھی جارہی تھی کہ ایک آدمی باہر سے کنکریاں کپڑے میں ڈال کر لایا اور اپنی نشست گاہ پر بچھالیں۔ حضور انورﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر کنکریاں دیکھیں تو انہیں پسند فرمایاچنانچہ اس کے بعد کنکریاں ڈالنے کا عام رجحان ہوگیا‘ جو بعدکے زمانے میں بھی قائم رہا۔ پھر جب مسجد کے اندرونی حصہ میں فرش پختہ بنا دیا گیا تو صحن مسجد میں کنکریاں ڈالی جانے لگیں بالآخر1400ھ1980/ء میں کنکریا ہٹا کر سارا فرش سنگ مرمر کا بنا دیا گیا۔
جب دوسری مرتبہ تعمیر کا کام شروع ہوا۔ تو بنیادوں سے اوپر بھی تین ذراع پتھر کی دیواریں بنا کر بقیہ دیواریں کچی اینٹوں سے مکمل کرلی گئیں۔ تعمیر جدید میں اضافہ کے باعث طول اور عرض 100×100ذراع ہوگیا۔