Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جب آسمان گرجا اور زمین خاموش رہی

جب بارشیں معمول سے بڑھ جاتیں یا بارش کے آثار سے زمین و کھیتوں میں نقصان کا اندیشہ ہوتا تو رسول اکرمﷺ کو بہت فکر لاحق ہو جاتی تو آپ ﷺ نہ صرف دعا کرتے بلکہ اپنے صحابہ کرام کو بھی دعا اور استغفار کی تلقین فرمایا کرتے۔ ایک مرتبہ بارش کئی دنوں تک جاری رہی اور لوگ گھروں سے نکل نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک کو اٹھا کر دعا کی اللہم حوالینا ولا علینا، اللہم عل الآامِ والظِرابِ وبطونِ الودِیۃِ ومنابِتِ الشجر(اے اللہ!بارش ہمارے اردگرد برسا، ہم پر براہِ راست نہ برسا، پہاڑوں، ڈھلوانوں، وادیوں اور درختوں کے اگنے والی جگہوں پر برسا) یہ دعا سنتے ہی بارش کا رخ بدل گیا اور صحابہ کرام ؓ حیران رہ گئے کہ زمین پر بھیجنے والا رب کیسے اپنے محبوب کی دعا کو سنتا ہے۔ اس واقعے کے بعد صحابہ کرام ؓ کو یقین ہو گیا کہ بارش کی زیادتی یا کمی اللہ کے حکم سے ہے اور اس کا حل بھی اللہ کے حضور ہی ہے نہ کہ محض انسانی تدبیروں میں۔آج پاکستان کے حالات دیکھ لیجیے۔ پچھلے دو ماہ سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وسیع علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ دیہات کے دیہات ڈوب گئے، کھیت کھلیان بہہ گئے، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں ختم ہو گئیں، لاکھوں مویشی یا تو مر گئے یا پانی کی نذر ہو گئے۔ سینکڑوں انسان اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر خیموں یا سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
ایک طرف یہ تباہی ہے اور دوسری طرف ہماری حکومتیں ہیں جن کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔آپ اخبارات کھول لیں یا ٹی وی اسکرینیں دیکھ لیں۔ ریلیف کے بڑے بڑے اشتہارات، حکمرانوں کی تصاویر اور ہم متاثرین کے ساتھ ہیں کے نعرے تو ملیں گے مگر کہیں یہ اعلان نظر نہیں آئے گا کہ آ قوم مل کر اجتماعی استغفار کرے۔ کوئی وزیر اعظم، کوئی وزیر اعلیٰ، کوئی وفاقی وزیر مذہبی امور یا کوئی صوبائی وزیر اوقاف اس بات کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کر رہا کہ اللہ کے حضور رجوع ہی اس تباہی سے نجات کا اصل راستہ ہے۔یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن یہاں کے حکمران اسلام کے سب سے بڑے اصول یعنی اللہ سے رجوع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ مصیبت کے وقت توبہ کرو، استغفار کرو، اجتماعی دعا کرو لیکن ہماری حکومتیں اشتہاروں اور پریس کانفرنسوں میں مصروف ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ وزارت مذہبی امور کے ذمے داران چاہے وہ سردار یوسف ہوں یا ان کے بعد آنے والے وزرا سب کا رویہ یکساں ہے۔ عوام کو حج اور عمرے کے کوٹے، فنڈز کی تقسیم اور مذہبی تقریبات میں تصاویر تک تو یاد رہتی ہیں لیکن ایسے مواقع پر جب واقعی مذہبی قیادت اور حکومت کو قوم کو اللہ کی طرف بلانا چاہیے تھا مگر سب غائب ہیں۔ہماری دینی جماعتوں کا کردار بھی کچھ مختلف نہیں۔ جماعت اسلامی سے لے کر جمیعت علمائے اسلام تک سب سیاسی میدان میں سرگرم ہیں، سب جلسوں میں نعرے لگاتے ہیں، سب انتخابی مہمات میں اسلامی انقلاب کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن قوم کو اجتماعی استغفار کے لیے اکٹھا کرنے کا کسی کو خیال نہیں آیا۔ یہ ذمہ داری بھی انفرادی علما اور مساجد کے خطیبوں پر چھوڑ دی گئی ہے جو محدود پیمانے پر ضرور ذکر کر رہے ہیں لیکن وہ آواز پورے ملک کو جگانے کے لیے کافی نہیں۔سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم اس مقام پر کیوں آ گئے ہیں؟ جواب بڑا سیدھا ہے۔ ہم نے گناہ کو معمول بنا لیا ہے، رشوت کو روزگار سمجھ لیا ہے، جھوٹ کو سیاست کا حصہ اور حرام کو کاروبار کی چالاکی سمجھ لیا ہے۔ ہم نے اللہ کے دین کو صرف جمعہ کے خطبے اور عید کے خطبے تک محدود کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عبادت صرف مسجد تک ہے حالانکہ عبادت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہر عمل اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔بارش اللہ کی رحمت ہے لیکن جب یہی بارش عذاب بن جائے تو یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ تم نے رب کو ناراض کر دیا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ٰنے بارش اور بادلوں کے نظام کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے۔ سورہ النور میں ارشاد ہوتا ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادلوں کو چلاتا ہے، پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے مینہ نکل کر برستا ہے ، اور آسمان سے جو اولوں کے پہاڑ ہیں ان میں سے اولے نازل کرتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے اسے پہنچا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ٹال دیتا ہے۔اسی طرح سورہ ہود میں بھی استغفار اور بارش کے تعلق کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں‘اور اے میری قوم!اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے زور دار بارش بھیجے گا اور تمہاری طاقت مزید طاقت بڑھا دے گا اور مجرموں کی طرح منہ نہ موڑو۔ یہ آیات واضح کر دیتی ہیں کہ بارش کا آنا یا رک جانا صرف موسمی سائنس کا کھیل نہیں بلکہ بندوں کے استغفار سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر قوم اجتماعی طور پر اللہ کے حضور جھک جائے تو یہی آسمان سے نازل ہونے والا پانی زحمت کے بجائے رحمت میں بدل جاتا ہے۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی سبق نہیں سیکھتے۔ ہم مرنے والوں کی تدفین کر کے اگلے دن دوبارہ اپنی پرانی روشوں پر آ جاتے ہیں۔ ہم مویشیوں کے بہہ جانے اور فصلوں کے تباہ ہونے کو قدرتی آفت کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ قدرتی آفات بھی دراصل اللہ کا پیغام ہوتی ہیں۔حکومتیں اگر واقعی قوم کی خیر خواہ ہوتیں تو صرف ایک دن کے لیے پورے ملک میں ’’یومِ استغفار‘‘کا اعلان کرتیں۔ اسی طرح دینی جماعتوں کو بھی چاہیے تھا کہ وہ سیاست سے تھوڑا وقت نکال کر اجتماعی استغفار کا اہتمام کرتیں۔ جس طرح جلسے جلوس میں لاکھوں لوگ اکٹھے کیے جاتے ہیں اسی طرح ایک دن اجتماعی دعا کے لیے بھی قوم کو اکٹھا کیا جا سکتا تھا۔ لیکن یہ سب نہ ہوا۔ہمارے میڈیا کا کردار بھی قابل ذکر ہے۔ ٹی وی چینلز پر گھنٹوں ریلیف کے اشتہار چلتے ہیں، فنڈ ریزنگ شوز ہوتے ہیں مگر کسی چینل نے یہ تجویز پیش نہیں کی کہ چلو ایک دن سب چینل مل کر اجتماعی دعا کروائیں۔ یہ ہماری اجتماعی بے حسی کی تصویر ہے۔آخر میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ سیلاب صرف پانی کا ریلہ نہیں یہ اللہ کا پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ اگر ہم نے اجتماعی توبہ نہ کی تو آنے والے دنوں میں مزید آفات ہمارا مقدر بن سکتی ہیں۔ہمیں بطور قوم اجتماعی استغفار کا آغاز خود سے کرنا ہوگا۔ اپنے گھروں میں، اپنی مساجد میں، اپنے گلی محلوں میں۔ اگر اوپر والے یاد نہیں کرتے تو کم از کم نیچے والے تو یاد کریں۔ شاید اللہ کو ہماری یہی سادگی یہ عاجزی پسند آ جائے اور وہ اس عذاب کو رحمت میں بدل دے۔

یہ بھی پڑھیں