Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تل ابیب کے ایوانوں میں گونجتے قہقہے

عیش و عشرت اور ڈالروں کی چمک میں ڈوبے عربوں پر اسرائیل نے وہ کاری وار کیا ہے جو ان کی گردن میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ صدیوں سے سونے چاندی اور ہیرے جواہرات جمع کرنے والے یہ بدو اپنی ہی ریشمی خوابوں میں اس قدر مست ہیں کہ انہیں خبر ہی نہ رہی کہ دشمن ان کے گھروں کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ شہر کے شہر جل رہے ہیں بستیاں راکھ ہو رہی ہیں مگر عرب حکمران اس اطمینان میں بیٹھے ہیں کہ ابھی آگ ان کے محلوں کے سنہری دروازوں تک نہیں پہنچی۔
یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ اسرائیل نے مسلمانوں پر وار کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان کمزور ہوئے، جب بھی انہوں نے اپنے ایمان کو کمزور کر کے دنیا کی رنگینیوں میں ڈوبنے کو ترجیح دی دشمن نے ان پر حملہ کیا۔ اندلس سے بغداد تک، غرناطہ سے بیت المقدس تک مسلمان جب بھی دنیا پرستی میں کھوئے دشمن نے ان کی غیرت و حمیت کو للکارا۔ آج کا منظر بھی اسی تاریخ کی ایک اور قسط ہے۔
فلسطین کی سرزمین وہ مقدس خطہ جہاں کبھی سیدنا عمرؓ نے ننگے پائوں گھوڑے کی نکیل پکڑ کر داخل ہو کر انسانیت کو عدل دیا تھا آج اسی زمین کو مسلمانوں کے خون سے لال کر دیا گیا ہے۔ لیکن افسوس، جن کے پاس دولت کے انبار ہیں، تیل کے ذخائر ہیں وہی اپنے بھائیوں کے خون پر خاموش ہیں۔
یہودی اور عیسائی اپنی تمام تر دشمنیوں کے باوجود متحد ہیں۔ وہ مال، ڈالرز اور اسلحہ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ امریکہ کی گود میں بیٹھا اسرائیل پوری دنیا کا اسلحہ خریدتا ہے مگر عرب اپنے تیل کے ڈالرز انہی دشمنوں کے بنکوں میں جمع کراتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ دشمن اپنی سرزمین اور اپنی نسل کے لیے لڑ رہا ہے جبکہ عرب اپنی جائیدادیں لندن، پیرس اور نیویارک کی گلیوں میں بنا رہے ہیں۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملہ اس امت کی اجتماعی غفلت کا نوحہ ہے۔ کتارا کے علاقے میں سہ پہر کے وقت اچانک کئی دھماکوں نے آسمان کو دہلا دیا۔ یہ کوئی معمولی دھماکے نہیں تھے۔ ان حملوں کا اصل ہدف فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کی مرکزی قیادت تھی۔ خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق جیسے بڑے نام اس وقت وہاں موجود تھے۔ اسرائیل نے براہِ راست اس قیادت پر حملہ کر کے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اب عرب کی گلیوں تک آ پہنچا ہے۔
لیکن قطر کیا کرتا ہے؟ صرف مذمت! وہی پرانی اور گھسی پٹی رسم جو پچھلے پچاس برس سے عرب حکمران ادا کرتے آ رہے ہیں۔ آج قطر کی مذمت تل ابیب کے ایوانوں میں قہقہے بکھیر رہی ہے اور امتِ مسلمہ کے سینوں میں شعلے بھڑکا رہی ہے۔کبھی کسی نے گولی نہیں چلائی، کبھی کسی نے اپنے محلات سے باہر نکل کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی جرات نہیں کی۔
کیا یہ وہی عرب دنیا نہیں جس نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں ایک اسلامی فوج بنائی گئی ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے تیار ہے؟ کہاں گئی وہ فوج؟ کیا اس فوج کا کام صرف یمن کے معصوم بچوں پر بمباری تھا؟ کیا یہ فوج اپنے ہی شیعہ سنی اختلافات میں الجھنے کے لیے وجود میں آئی تھی یا واقعی اسرائیل جیسے دشمن سے لڑنے کے لیے؟ اگر اس فوج میں ذرا سا بھی ایمان باقی ہے تو آج وقت ہے کہ وہ دوحہ پر ہونے والے حملے کا جواب اسرائیل کی سرزمین پر دے۔
عرب دنیا کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ اگر وہ چاہے تو صرف ایک دن میں پورے اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے۔ دنیا کی سب سے مہنگی اور جدید جنگی ٹیکنالوجی عرب کے محلات میں پڑی ہے مگر افسوس ان میں غیرت ایمانی نہیں۔ وہ ہتھیار صرف پریڈز میں دکھانے کے لیے ہیں، وہ ڈالر صرف واشنگٹن اور لندن کے اسٹاک مارکیٹ میں لگانے کے لیے ہیں۔ امت مسلمہ کا دفاع ان کے ایجنڈے پر نہیں۔
یہ حملہ صرف قطر پر نہیں ہوا۔ یہ حملہ پوری امت مسلمہ پر ہے۔ یہ حملہ ان مقدس سرزمینوں پر ہے جن کے لیے کبھی صلاح الدین ایوبی نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ وہی صلاح الدین جس نے بیت المقدس کو آزاد کرایا اور دشمن کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان جب جاگتے ہیں تو صلیبیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ لیکن آج کے مسلمان حکمران تو اپنے ہی محلات کے طلائی دروازے کھول کر دشمن کو دعوت دے رہے ہیں۔خواب غفلت اتنا طویل ہو چکا ہے کہ شاید اب بیداری بھی ممکن نہ ہو۔ بحرین، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک اگر اب بھی نہ جاگے، اگر اب بھی ایک نہ ہوئے تو یہ ان کی آخری ہچکیاں ہوں گی۔ کیونکہ دشمن اب سرحدوں پر نہیں ان کے گھروں کے اندر آ چکا ہے۔
قرآن مجید نے بار بار کہا اور تم ان کے مقابلے کے لیے ہر قسم کی طاقت اور تیار بندھے گھوڑے تیار رکھو تاکہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پر رعب ڈال سکو۔سورۃ الانفال ۔
مگر یہاں معاملہ الٹا ہے۔ یہاں دشمن کو رعب ڈالنے کے بجائے اس کے سامنے جھکنے کی رسم اپنائی جا رہی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ طاقت جمع کرو مگر عرب حکمران طاقت دشمن کے بنکوں میں جمع کراتے ہیں۔
اگرچہ الفاظ سے دشمن کو روکا نہیں جاسکتا مگر الفاظ اور پالیسی مل کر قوموں کو بیدار کر سکتے ہیں۔ بحرین، کویت، عراق، امارات، سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں اگر واقعی اپنے اندر طاقت، غیرت اور سنجیدہ ارادہ محسوس کریں تو ابھی وقت ہے۔ لمحہِ فکریہ، لمحہ عمل بن سکتا ہے بشرطیکہ دلوں میں ایمان اور دماغ میں حکمت ہو۔
دولت اگر اقتدار کے لیے ہے تو اسے امت کے دفاع کے لیے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر تیل کا پیسہ محض عیش و عشرت اور بیرونی بینک بیلنس کے لیے ہے تو اس کا حساب آخرت میں بھی مانگا جائے گا اور اگر وہی دولت امت کے حفاظت کے لیے استعمال کی جائے تو یہی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
آج دوحہ کا دھواں ہمیں صرف ڈرانے خواب دکھا رہا ہے یا یہ بیداری کا پیغام بھیج رہا ہے؟ فیصلہ عربوں اور امتِ مسلمہ کو خود کرنا ہے۔ یا تو آج ہم جاگیں گے یا پھر تاریخ ہمیں اپنی بے بسی کی سزا سنائے گی۔
کبھی سوچا ہے کہ اسرائیل کے اندر اتنی جرات کیسے آئی کہ وہ دوحہ کے قلب پر بم برسائے؟ وجہ صاف ہے عربوں کی کمزوری، ان کی تقسیم ان کی بے حسی اور ان کی غلامانہ سوچ۔ اسرائیل جانتا ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہونے والا کوئی نہیں۔ اس کا ہر حملہ صرف مذمت کی حد تک محدود رہ جائے گا۔
امت مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ جن کے کندھوں پر قیادت کی ذمہ داری ہے وہ اپنے ہی عوام کو دبانے، اپنی ہی قوموں کو لوٹنے اور اپنے ہی بھائیوں کے خون پر عیش کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر ان حکمرانوں میں ذرا سا بھی ایمان باقی ہے تو آج وقت ہے کہ وہ دشمن کے خلاف کھڑے ہوں۔
لیکن شاید وہ دن ابھی بہت دور ہے۔ فی الحال تو امت مسلمہ کی غیرت اور حمیت قطر کے آسمان پر اٹھنے والے دھوئیں میں دفن ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں