آپ کا اسم گرامی محمد ہے اور متعدد القابات سے یاد کیے جاتے ہیں ‘جس میں محبوب الٰہی ،سلطان اولیاء سلطان المشائخ،سلطان السلاطین زیادہ مشہور ہیں‘ حضرت شیخ المشائخ کا خاندان بخارا سے ہجرت کرکے لاہور آیا،پھر وہاں سے بدائیون میں سکونت پذیر ہوا۔ آپ کا خاندان سادات کا مشہور خاندان تھا آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی سید احمدؒ اور دادا کا نام سید علیؒ تھا۔ سلسلۂ نسب پندرہ واسطوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ سے مل جاتا ہے ماہ صفر المظفر۶۳۴ ھ میں شہر بدایوں میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
حضرت محبوب الٰہی کی عمر ابھی پانچ سال کی تھی کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا‘اس لیے فرزند عزیز کی ساری ذمہ داری آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ زلیخا کے سر آن پڑی‘سیدہ زلیخاؒ بڑی عابدہ زاہدہ تھیں‘ آپ کی کرامت وبزرگی کے واقعات تذکرہ نویسوں نے لکھے ہیں‘ غرض یہ کہ اس صاحب کرامت وعابدہ خاتون کی زیر سرپرستی آپ کی تربیت ہوئی‘ والدہ ماجدہ نے قرآن کریم پڑھنے کیلئے مکتب میں بٹھا دیا‘ چونکہ حافظہ قوی تھا اور ذہن سلیم تھا۔تھوڑے ہی عرصہ میں قرآن کریم تمام حفظ کر لیا اور عربی کی ابتدائی تعلیم شروع کردی اور تھوڑے ہی عرصہ میں ختم کر لی ‘فقہ کی کتاب قدوری بدایوں کے مشہور عالم مولانا علائو الدینؒ سے ختم کرنے کے سلسلہ میں آپ کی والدہ محترمہ نے شہر کے علماء اور مشائخ کو جمع کرکے اپنے ہاتھ سے بنے سوت کا عمامہ بطور دستار فضیلت باندھا تو اس وقت کسی صاحب حال نے پیشن گوئی کی کہ اس لڑکے کا سر کسی انسان کے آگے نہیں جھکے گا‘آپ کی زندگی نے اس پیشن گوئی کو سچا کرکے دکھایا‘مزید تعلیم کے لیے آپ والدہ کے ساتھ دہلی تشریف لائے اور وہاں کے مشہور عالم دین مولانا شمس الدین ؒاور مولانا کمال الدین زاہدؒ سے علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی‘ دوبزرگ اپنے عہدے کے مشہور علماء وفضلا میں سے تھے اور اس عہد کے حکمران بلبن پر بہت اثر تھا اور وہ دونوں کا بہت قدردان تھا۔
تھوڑے ہی عرصہ میں آپ نے علوم ظاہری کی سند فراغت وفضیلت حاصل کرلی اور ان علوم میں بھی کمال حاصل کیا چنانچہ آپ کا شمار جید علماء میں ہوتا ہے اور آپ کی خانقاہ جس طرح علوم باطنی کا مرکز تھی اسی طرح ظاہری علوم اور اس کا بھی چشمۂ فیض تھی‘ چونکہ حضرت دنیا کی راہنمائی کیلئے تشریف لائے تھے اس لیے قدرت نے بچپن ہی سے باطنی انوار سے سرفراز کیا تھا لیکن علوم ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد ایک روحانی رہنما کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا‘ اسی اثناء میں لوگوں نے حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے احوال سے مطلع کیا، اس لیے بابا صاحب سے ملاقات کا شوق دل میں پیدا ہوگیا‘ایک رات شہر کی جامع مسجد میں مقیم تھے صبح کے وقت موذن نے منارہ پر چڑھ کو یہ آیت پڑھی۔
اَلَمْ یَانِ لِلَّذِیْنَ آمٰنُوْ ااَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِ کُرِ اللّٰہُ
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ایمان والوں کے دل اللہ کے ذکر پر اس کی خشیت سے جھک جائیں۔
یہ آیت سن کر آپ پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ دل کا نپنے لگا۔ آنکھوں سے آنسوئوں کا ایک دریا بہہ نکلا‘ نہایت ذوق وشوق سے نماز پڑھی ۔ نماز پڑھ کربابا فرید الدین گنج شکرؒ کی زیارت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور وفورِ شوق میں برابر چلتے رہے اور جب اجودھن(پاک پتن)پہنچے فوراً ہی بابا فریدؒ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
بابا فرید الدینؒ صاحب نے دیکھتے ہی اپنے سر سے کلاہ اتار کرمرید کے سر پر رکھ دیا‘حضرت محبوب الٰہی ؒاپنے پیرودستگیر کی صحبت میں تعلیم وتربیت پاتے رہے یہاں تک کہ چند ہی روز میں اپنی غیر معمولی ریاضت اور عبادت کی بنا پر راہ سلوک ومعرفت میں کمال حاصل کرلیا‘حضرت کو اپنے پیرومرشد سے بے حد محبت تھی چنانچہ آپ دہلی سے کئی بار مرشد سے فیوض وبرکات حاصل کرنے کے لئے (پاک پتن)اجودھن تشریف لیجاتے تھے ۔ ایک بار مرشد نے اپنے عزیز مرید کے لیے خداوند کریم کی بارگاہ میں دعا کی کہ’’ الٰہی میرا یہ مرید تجھ سے جو کچھ مانگے اسے عطا فرمایا کر‘‘۔
پیرومرشد کی یہ پُر خلوص دعا بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی اسی لیے آپ محبوب الٰہی کہلائے۔ آخری بار جب پاکپتن مرشد سے ملنے تشریف لے گئے تو واپسی پر پیرومرشد نے درد بھرے لہجہ میں کہا’’شاید آئندہ تم مجھ سے نہ مل سکو میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے نیک بخت بنائے۔ انشاء اللہ تم ایسا درخت بنو گے جس کے سایہ میں مخلوق خدا آرام پائے گی اور فیض پائے گی ۔ تم مجاہدہ برابر کرتے رہنا اس سے غافل نہ رہنا‘‘۔
بابا فریدؒ کا جب وصال ہو ا تو محبوب الٰہیؒ مرشد کے پاس موجود نہ تھے لیکن مرشد نے مولانا بدر الدینؒ اسحاقؒ کی معرفت عصا اور خرقہ جو حضرت بختیار کاکیؒ سے ان کو ملا تھا اپنے عزیز ترین مرید کے پاس دہلی بھیجا‘ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے جب یہ دیکھا کہ حضرت محبوب الٰہیؒ روحانی دولت سے مالا مال ہو چکے ہیں تو آپ نے دہلی میں قیام کرنے کا حکم دیا۔ رخصت کرتے وقت مرید کو دو باتوں کی نصیحت فرمائی ایک یہ کہ اگر کسی سے قرض لینا تو جلد ادا کرنے کی کوشش کرنا ۔دوسرے اپنے دشمنوں کو ہر حال میں خوش کرنے کی کوشش کرنا‘چنانچہ آپ دہلی تشریف لائے تو شہر میں آبادی کی کثرت سے آپ کو عبادت وریاضت کیلئے پرسکون جگہ نہ ملی اس لیے دہلی سے متصل ایک جگہ غیاث پور میں آکر فروکش ہوئے‘ شروع میں یہاں کے قیام کے زمانہ میں بڑی عسرت اور تنگی رہی تین تین دن کے فاقے ہوتے تھے۔ آپ یہ فرماتے تھے کہ جب گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی تو میری والدہ ماجدہ کہا کرتی تھیں کہ آج ہم اللہ کے مہمان ہیں مجھے والدہ ماجدہ کے اس جملہ سے بڑی لذت ملتی تھی۔
صاحب سیرالاولیاء سیر خورد کا بیان ہے کہ جب حضرت محبوب الٰہی غیاث پور میں سکونت رکھتے تھے وہ زمانہ بڑی عسرت اور تنگی سے گزارا۔آپ کے مکان میں ایک زنبیل لٹکی رہتی تھی افطار کے وقت جب اسے ہلایا جاتا تو اس میں سے روٹی کے خشک ٹکڑے گرتے لوگ انہیں ٹکڑوں کو حضرت کے سامنے رکھ دیتے جس سے آپ روزہ افطار کرتے۔ سلطان جلال الدین خلجی کو آپ کی اس تنگدستی کا حال معلوم ہوا تو کچھ تحائف آپ کی خدمت میں بھیجے اور کہلا بھیجا کہ اگر آپ حکم دیں تو چند گائوں آپ کے خدمت گزاروں کے لیے نذر کردیئے جائیں‘آپ نے تحائف واپس کردیئے اور کہلا بھیجا کہ مجھے اور میرے خدمت گزاروں کو تمہارے گائوں کی ضرورت نہیں میرااور ان کا خداکارساز ہے۔
اسی زمانہ میں شیخ برہان الدینؒ غریب اور شیخ کمال الدین یعقوبؒ جو آگے چل کر آپ کے خلیفہ ہوئے آپ کی خدمت میں رہتے تھے۔ ایک دفعہ مسلسل کئی دن کا فاقہ ہوگیا پڑوس کی ایک نیک بی بی نے کچھ بھیجا‘شیخ کمال الدینؒ نے آٹے کو مٹی کے ایک برتن میں ڈال کر آگ پر چڑھادیا اسی وقت ایک گڈری پوش درویش آپہنچا اور کچھ کھانے کو مانگا ۔
( جاری ہے )