Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قطر سے بیت المقدس تک: تاریخ کا خونچکاں تسلسل

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بارہااس امرکی گواہ رہی ہےکہ یہاں کی زمین بارود اور سازشوں کی جولانگاہ بنی رہی۔مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان رہاہے۔سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعداس خطے کی سرزمین پرکبھی تیل کی خاطر جنگ لڑی گئی،کبھی مذہب کے نام پرتصادم ہوا،اورکبھی عالمی سیاست کے شطرنجی کھلاڑیوں نے یہاں کے عوام کو ایندھن بنایا۔یہ سرزمینِ مشرقِ وسطی،جہاں انبیائے کرام کے قدموں کی خوشبو رچی بسی ہے،جہاں بیت المقدس کے مینار آج بھی اذان کی صدابلندکرتے ہیں، اورجہاں امتِ مسلمہ کے شہداء کاخون زمین کی رگوں میں دوڑتا ہے،ایک بارپھرظلم وستم کی آندھیوں میں گھری ہوئی ہے۔آج ہم ایک ایسے سانحے پرگفتگوکے لئے جمع ہیں جس نے امتِ مسلمہ کے دلوں کولرزادیاہے۔ دوحہ کی سرزمین،جوامن کی علامت سمجھی جاتی تھی،اسرائیلی بمباری کی زدمیں آگئی ہے۔ یہ حملہ محض قطرپرنہیں،یہ ہماری غیرت،ہماری عزت،اورہمارے ایمان پر ایک کھلاوار ہے۔
اسرائیلی جارحیت کےتازہ باب نےایک بارپھردنیاکوچونکادیاہے۔دوحہ پرحملہ نہ صرف قطر کے لئے ایک براہِ راست چیلنج ہے بلکہ عالمی سیاست کے ایوانوں کے لئے بھی ایک نیا امتحان ہے۔دوحہ پراسرائیلی حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں‘یہ دراصل ایمان والوں کی غیرت کوللکارنے کی کوشش ہے۔یہ وہی آوازِباطل ہے جوکبھی صلیبی جنگوں کے لشکروں میں گونجی تھی،اوروہی خنجر ہے جوکبھی بغداد کے گلی کوچوں میں چمکاتھا۔آج اسرائیل کے دوحہ پرحملے نے ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔یہ محض قطرکی خود مختاری پرحملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے تضادات کاآئینہ ہے۔اس پس منظرمیں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، قطرکی پالیسی، اورمسلم دنیاکے ردِ عمل کوسمجھنا ناگزیر ہے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی حملے پرغصے،ناراضگی اورمایوسی کااظہارکرتے ہوئےکہاکہ وہ اس حملے سے خوش نہیں ہیں لیکن مسلم دنیا ان کے بیان پراعتبار کرنے کوتیارنہیں،اوراس بیان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔مسلم دنیانے ان کے بیان کومحض سفارتی لفاظی سمجھا۔ تاریخ گواہ ہےکہ یہ وہی امریکاہےجس نےفلسطینیوں کی نسل کشی پرخاموشی اختیار کی، جب فلسطین کالہو بہایا گیا،اس وقت بھی امریکی صدورنے مذمت کے جملے کہے مگرپالیسی ہمیشہ اسرائیل اورجارحیت کے حق میں رہی۔یہی جس نےعراق کوکھنڈربنایا،جس نے افغانستان کو دہائیوں تک بارودکی آماجگاہ بنایا۔عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے بیانات میں سچائی کم اورمصلحت زیادہ ہوتی ہے۔
ان کے نزدیک یہ مذمتی الفاظ ایک روایتی سفارتی فقرہ ہیں یہ کھلاتضادآج بھی لوگوں کو بے یقینی کی طرف لے جاتاہے۔تاریخ نے یہ سبق دیاہے کہ امریکی صدورکے مذمتی جملے اکثر الفاظ کی حدتک محدودرہتے ہیں۔فلسطین سے عراق تک کی کہانیوں نے عوام کے اذہان میں یہ یقین راسخ کردیاہے کہ امریکاکے لب ولہجے اورعملی اقدامات میں زمین وآسمان کا فرق ہے لیکن امتِ مسلمہ کےاذہان سوال کرتے ہیں:کیایہی امریکانہیں جس نےفلسطین کے لہو پرآنکھیں بندرکھیں؟ کیایہی امریکانہیں جس نےعراق کوکھنڈربنایا؟ کیا یہی امریکا نہیں جس نے افغانستان کولہومیں نہلایا؟ ہم کیسے ان بیانات پریقین کرلیں جو صدیوں سے محض لفظی فریب ثابت ہوئے ہیں؟ عملی اقدامات میں ان کاعکس کم ہی دکھائی دیا۔ عوام سمجھتے ہیں کہ اگرامریکااسرائیل کے معاملے میں واقعی غیرجانبدار ہوتا توآج فلسطین کی سرزمین لہومیں نہ نہائی ہوتی۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے کسی واقعے پرحیران نہیں ہوتے، دراصل ایک تاریخی رویےکی جھلک، سیاسی پردہ پوشی اورمنافقت کااعتراف ہے۔ بظاہربے بسی کا اظہار ہے،مگردراصل یہ سازش کاپردہ بھی ہوسکتاہے۔یہ جملہ گویااعتراف ہے کہ خطے کے خونریز کھیل پرامریکاکی خاموشی محض لاعلمی نہیں،بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ امریکا ہمیشہ اسرائیل کی غیرمتوازن جارحیت کو نظرانداز کرتاآیاہے۔یہ بیان گویااس امر کا اعلان ہے کہ اسرائیلی خودسری پر واشنگٹن کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کیایہ واقعی بےبسی ہےیاپھروہی پرانی نظربندحکمتِ عملی جواسرائیل کو کھلی چھوٹ دیتی ہے؟امریکاکے لئے اسرائیل کی ہرجارحیت ایک معمول ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر امریکاحیران نہیں ہوتاتوپھرکب بیدارہوگا؟یاشایدیہ سکوتِ رضاہےجو اسرائیل کی ہر بربریت کوڈھانپ لیتاہےلیکن بین السطور سازش کی وہ مہک ہے جوتاریخ کے اوراق میں بارہامحسوس کی جا چکی ہے۔یہ الفاظ گویااعترافِ جرم بھی ہیں اورچشم پوشی کا اقرار بھی۔
اسرائیل کی جارحیت نئی نہیں۔1982ء میں بیروت پربمباری،2006ء میں لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجانا،2008ء اور2014ء میں غزہ پرقیامت خیز حملہ یہ سب مظاہرہ اسی تسلسل کا ہے۔اسرائیل نے ہمیشہ اپنی جارحیت سے خطے کولرزایاہے۔غزہ ہویالبنان، شام ہویاایران، سب اس کی بربریت کے گواہ ہیں۔ اسرائیل نے غزہ،لبنان،شام اور ایران پربمباری کی؛یہ سب دنیا نے دیکھامگرقطرپرحملہ چونکادینے والاتھا۔ قطروہ ملک ہے جہاں امریکاکاسب سے بڑااڈہ ’’العدید‘‘قائم ہے۔ یہی تضادثابت کرتاہےکہ اسرائیل اب واشنگٹن کی ہدایات کامحتاج نہیں، بلکہ وہ خودکوخطے کابےلگام مالک سمجھنے لگاہے۔
اسرائیل نے پہلے ہی دنیاکوباورکرادیاہے کہ وہ امریکی سرپرستی میں پورے خطے کواپنی عسکری طاقت کاشکاربناسکتاہے۔ہرطرف بارودکی بارش اس کے اختیار میں ہے مگردوحہ پرحملہ اس لیے غیرمعمولی ہے کہ قطرنہ صرف امریکاکاقریبی اتحادی ہے بلکہ وہاں امریکی فضائی اڈہ بھی موجودہے۔اس سے یہ سوال جنم لیتاہے کہ کیااسرائیل اب واشنگٹن کے اثرسے آزادہوچکاہے یا پھر یہ کھیل امریکی اشارے پرہی کھیلاگیا؟سوال یہ ہے کہ کیاقطر پر حملے کی جرات امریکی مصلحتوں کے دائرے سے باہر دکھائی دیتی ہے؟یہی تضاداس جنگی کھیل کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔یہ تضادعالمی سیاست کی سب سے بڑی گتھی ہے کہ امریکااپنے ہی اڈے کے سائے میں ہونے والے حملے پرمحض لفظی مذمت پراکتفا کرتاہے ۔ اے اہلِ اسلام! سوچو!اگرایک ایساملک جس کی سرزمین پر امریکی افواج محفوظ نہیں،توپھرکون محفوظ ہے؟اس پر کیسے یقین کیاجائے کہ اب اسرائیل امریکا کوبھی خاطرمیں نہیں لاتا؟
قطر کےحکمران خاندان نے ہمیشہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔العدیداڈہ امریکی فضائیہ کاسب سے بڑامرکزہے۔اب جب کہ انہی فضاؤں پر اسرائیلی بمباری ہوئی ہے تو قطرکی قیادت کاسوال بجاہے کہ امریکااپنے اتحادی کی سلامتی کی ضمانت کیوں نہ دے سکا؟قطراب براہِ راست امریکاکے سامنے سوالیہ نشان بن کرکھڑا ہے۔جب ان کے ملک کی فضائوں میں امریکی طیارے موجودہیں تو پھراسرائیلی بم کیسے گرسکتے ہیں؟وہ کیسے خاموش رہ سکتاہےجبکہ اس کےاپنے وطن میں امریکی افواج کے طیارے پروازکرتے ہیں اور انہی فضاؤں کواسرائیلی جارحیت نے روند ڈالا ہے؟
کیسےممکن ہےکہ جس سرزمین سے امریکی طیارے پرواز کرتے ہیں،اسی سرزمین پر اسرائیلی بمباری ہواورواشنگٹن اس پرخاموش رہے؟یہ سوال محض ایک ریاستی شکایت نہیں،بلکہ واشنگٹن کے کردارپرایک کھلامقدمہ ہے۔ یہ سوال نہ صرف قطرکاہے بلکہ پوری مسلم دنیاکا ہے۔یہ سوال محض سفارتی نہیں بلکہ اعتماداورعزت کابھی ہے۔یہ سوال محض قطرکانہیں، بلکہ عالمی سیاست کے ایوانوں پر ایک کڑاامتحان ہے۔
قطری وزیراعظم اورامیردونوں نےاسرائیلی حملے کومجرمانہ لاپرواہی اورریاستی دہشتگردی قرار دیا۔یہ اعلان محض غصےکانہیں بلکہ عالمی قانون کی عدالت میں ایک مضبوط گواہی ہے کہ اسرائیل کی کارروائیاں محض عسکری حملے نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔یہ الفاظ بین الاقوامی قانون کے تناظرمیں غیرمعمولی اہمیت رکھتےہیں۔یادرہے کہ 1970ء کی دہائی میں جب عراق اورکویت کے مابین تنازعہ ہوا،تب بھی ریاستی جارحیت کاتصورعالمی سطح پرابھراتھا۔آج قطراسی زبان میں بات کررہا ہے،جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کی حرکت محض ایک جنگی اقدام نہیں بلکہ عالمی نظام کے خلاف بغاوت ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں