(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت سلطان المشائخ ؒفرمایا کرتے تھے کہ ایک رات کا ذکر ہے کہ آخر شب کا وقت تھا میں کیا دیکھتا ہوں کہ مکان کے صحن میں ایک عورت جھاڑو دے رہی ہے میں نے پوچھا تو کون ہے؟جواب دیا کہ میں دنیا ہوں اور مخدوم کے گھر میں جھاڑو دے رہی ہوں۔
میں نے کہا اے فتنہ ڈالنے والی میرے گھر میں تیرا کیا کام ہے جا میرے گھر سے باہر نکل میں اسے نکالتا تھا لیکن وہ میرے گھر سے باہر نہ نکلتی تھی میں نے اپنی انگلی اس کی گدی پر رکھ دی اور مکان سے باہر نکال دیا لیکن پھر دنیا میری طرف متوجہ رہی‘دنیا سے نفرت بچپن سے تھی اپنا ایک واقعہ خود بیان کرتے تھے کہ میں جس زمانی میں بدایوں میں مولانا علائو الدین ؒسے پڑھتا تھا ایک رات مسجد میں تنہا سبق یاد کررہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں بہت سے سنہری سانپ آواز دیتے ہوئے چلے جاتے ہیں تمام سانپوں کے پیچھے ایک چھوٹا سا سانپ دیکھا جو کسی قدر ٹھہر ٹھہر کر چل رہا ہے۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا کر دیکھوں تو سہی معاملہ کیا ہے میں نے اپنے عمامہ کو سانپوں پر ڈال دیا۔ دیکھتا ہوں کہ عمامہ کے نیچے سونے کا ڈھیر لگا ہوا ہے میں نے اپنا عمامہ اٹھا لیا ور سونے کا ڈھیر وہیں پڑا ہو ا چھوڑ دیا۔
اس کے علاوہ حضرت محبوب الٰہیؒ نے بادشاہوں کی صحبت سے ہمیشہ کنارہ کشی کی ۔ آپ بادشاہوں کے قرب کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ ایک غریب کو تویہ اختیار حاصل تھا کہ جس وقت چاہیے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائے اور حضرت کو اپنے جس کام کو چاہے لے جائے لیکن بادشاہ کے لیے یہ اجازت نہ دی کہ وہ بے تکلف آپ کی خدمت میں چلا جائے۔
سلطان جلال الدین خلجی کو حضرت محبوب الٰہیؒ کے شرف ملاقات کی بڑی تمنا تھی اور اسی لیے آپ کی خدمت میں آنا چاہا لیکن آپ نے اسے اجازت نہ دہی امیر خسرو سلطان کے دربار سے متعلق تھے انہوں نے وعدہ کیا کہ حضرت کی اجازت کے بغیر وہ ان کی خدمت میں سلطان کو حاضر کردیں گے۔ بادشاہ دل میں بہت مسرور تھا کہ حضرت سے ملاقات ہو جائے گی اور دلی تمنا پوری ہو جائے گئی۔
امیر خسرو نے وعدہ تو کرلیا لیکن دل میں سوچا کہ اگر میں بغیر اجازت کے سلطان کو حضرت کے پاس لے گیا تو خفا ہو جائیں گے لہٰذا محبوب الٰہی ؒکے پاس گئے اور کہا کہ سلطان آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ۔ حضرت محبوب الٰہی ؒاس وقت شہر چھوڑکر اپنے پیرومرشد کے پاس اجودھن تشریف لے گئے‘سلطان کو خبر ملی تو امیر خسرو سے باز پرس کی ۔ امیر خسرو نے نہایت دلیری سے کہا کہ مجھے بادشاہ کی رنجش سے صرف جان کا خوف تھا لیکن اگر مرشد رنجیدہ ہو جاتے تو ایمان کا خطرہ تھا۔ سلطان عقلمند دانا تھا امیر خسرو کے اس جواب پر بہت خوش ہوااور کوئی گرفت نہ کی۔
سلطان غیاث الدین بلبن بھی حضرت کی زیارت کا بے حد متمنی رہا مگر اس کی آرزو پوری نہ ہو سکی ۔ بادشاہ معز الدین کیفیاد کو حضرت سے بے انتہا عقیدت تھی مگر اس کو بھی آپ کے آستانہ پر حاضری کی اجازت نہ دی۔
علائو الدین خلجی بھی حضرت محبوب الٰہیؒ کا بے حد عقیدت مند تھا اس نے فرابیگ کو ہدایت کررکھی تھی کہ محبوب الٰہیؒ کو محفل سماع میں جن اشعار پروجدآئے اس کو وہ لکھ لیا کرے اور آکر سنایا کرے۔ان اشعار کو سن کر علاوء الدین کو قلبی راحت محسوس ہوتی تھی‘اس عقیدت کے باوجود اس کو بھی حاضری کی اجازت نہ تھی ۔ اس بادشاہ نے اپنے جگر گوشوں خضر خاں اور شادی خاں کو حکم دیا کہ حضرت کے دامن سے وابستہ ہو جائیں دونوں مرید ہو کر حضرت کے چشمۂ فیض سے مستفید ہوتے رہے۔ علائو الدین کے لڑکے خضر خان نے ہی خانقاہ کی عمارت تعمیر کرائی۔
ایک اور موقع پر علائو الدین خلجی نے کہلا بھیجا کہ اگر قبول فرمائیں تو میں شیخ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ آنے کی ضرورت نہیں میں تمہارے لیے غائبانہ دعا میں مشغول ہوں اور غائبانہ دعا اثر رکھتی ہے‘ سلطان نے ملاقات کیلئے پھر اصرار کیا آپ نے کہلا بھیجا کہ اس ضعیف کے گھر کے دودروازے ہیں اگر بادشاہ ایک دروازہ سے تشر یف لائیں گے تو میں دوسرے دروازہ سے نکل جائوں گا۔
علائو الدین خلجی کے عہد میں محبوب الٰہیؒ کے فیوض وبرکات سے ملک میں عالم انقلاب پیدا ہوا۔ آپ کی نظر کیمیا اثر سے خواص وعوام میں خاص غیر معمولی تبدیلیاں بھی پیدا ہوئیں ایک دنیا آپ کے انفاس متبرکہ سے روشن ہوئی ۔ ایک عالم نے آپ کی بیعت کی ان کے ہاتھ پر ستر گناہگاروں نے توبہ کی بے نمازی ہمیشہ کیلئے نماز کے پابند بن گئے۔ آپ کے اخلاق حمیدہ اور ترک دنیا کے معاملات کو دیکھنے سے لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت اور حرص وہوس کم ہوگئی ۔ آپ کی عبادت اور معاملات کی برکت سے لوگوںکے معاملات میں میں سچائی پیدا ہوگئی اور اس دینی بادشاہ کی محبت اور اخلاق کے اثر سے خداوند کریم کے فیض کی بارش دنیا میں ہونے لگی‘آپ سے متاثر ہو کر سلطان علائو الدین نے ملک کی بہتری کے لیے تمام نشہ آور چیزوں اور فسق وفجور کے سامان کو نہایت سختی سے روک دیا۔ حضرت محبوب الٰہیؒ نے بیعت کا عام دروازہ کھول رکھا تھا۔ گناہگاروں کو خرقہ سے نوازنے اور ان سے توبہ کراتے تھے اور خاص وعام غریب ودولت مند بادشاہ وفقیر عالم وجاہل شریف اور رذیل شہری ور دیہاتی،غازی ومجاہد آزاد غلام سب کو توبہ اور پاکی کی تعلیم دیتے تھے‘ لوگ نوافل کے اس قدر پابند ہوگئے تھے مساجد میں نفل پڑھنے والوں کا ہجوم رہتا تھا۔ بادشاہ کے محل میں بہت سے امراء لشکری حضرت کے مرید ہوتے تھے اور چاشت واشراق کی نمازیں ادا کرتے تھے۔ عام لوگ ایام بیض اور عشرہ ذی الحجہ کے روزے رکھتے تھے۔ ہر محلہ میں صلحاء کا اجتماع ہوتا۔
عہد علائی کے آخر چند سالوں میں شراب معشوق فس وفجور ،جواء ،فحاشی وغیرہ کا نام تک لوگوں کی زبان پر نہ آٹا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیخ کو جنید بغدادی ؒاور بایزید بسطامی ؒکے مثل پیدا کیا تھا۔
یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ مشہور معتبر تاریخ فیروز شاہی کے ہیں لوگ بزرگوں کی کرامات سننے کے شوقین ہوتے ہیں اس سے بڑی کرامت کیا ہوگی کہ قوم کی اصلاح ہو جائے اور خیر غالب ہو جائے اور رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کے بموجب لوگ اپنی زندگی کے نقشہ بنائیں آپ نے اور آپ کے نامور خلفاء نے اشاعت اسلام میں بہت زیادہ حصہ لیا۔
آپ کے خلیفہ خواجہ برہان غریب نے دکن میں اور حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندر نے پانی پت کے علاقہ میں ہزاروں غیر مسلموں کو حلقہ بگوش اسلام کیا‘آپ کا فیض ہندوستان تک محدود نہ رہا بلکہ چین بھی اس چشمۂ خیر سے سیراب ہوا چین میں بھی یہ سلسلہ قائم رہا۔چین میں حضرت کے پہلے خلیفہ خواجہ سالارہن بن تھے۔
محبوب الٰہی ؒکی وفات: وفات سے کچھ دن پہلے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہﷺ فرما رہے ہیں ۔ نظام الدین ؒتم سے ملنے کا بڑا اشتیاق ہے اس خواب کے بعد آپ پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی اور سفر آخرت کیلئے بے چین رہنے لگے‘وفات سے چالیس روز پیشتر کھانا پینا بالکل ترک کردیا تھا اس عرصہ میں کھانے کی بوتک نہ سونگھی ۔ آہ وزاری اس حد تک غالب آگئی تھی کہ ایک ساعت بھی چشم مبارک سے آنسو نہیں تھمتے تھے۔ مرض الموت کی جب شدت ہوتی تو دوا پینے کیلئے کہاگیا لیکن فرمایا:
بیمارِ عشق کی دوا صرف دیدار حبیبؐ ہے
وصال کے روز لنگر خانہ اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں تھیں غرباء مساکین میں سب تقسیم کروادیں۔ آپ کے خادم خاص اقبال نے کچھ غلہ درویشوں کے لیے رکھ لیا۔معلوم ہونے پر خفا ہوئے اور فرمایا اس غلہ کو کیوں باقی رکھا فوراً تقسیم کر دو اور ہر کوٹھڑی میں جھاڑو پھیردو تاکہ خداوندکریم کے یہاں کسی چیز کا مواخذہ نہ ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا سکر اور تحیر میں غلبہ ہوگیا ایک وقت کی نماز کئی کئی بار پڑھی اور پھر زبانِ مبارک پر یہ مصر عہ جاری ہو جاتا۔
وفات سے تھوڑی دیر پہلے اپنے مرید وخلیفہ خواجہ نصیر الدین کو تبرکات حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ دیں اور فرمایا دہلی میں رہنا اور لوگوں کی سختیاں برداشت کرنا اس کے بعد صبح کی نماز پڑھی ۔ جب آفتاب مشرق سے نمودار ہورہا تھا اس وقت یہ علم وعمل اور صدق ووفا کا پیکر واصل الحق ہوگیا ۔
تاریخ وفات روز چہار تاریخ شنبہ۱۸ ربیع الاوّل ۷۳۵ ھ ہے ،مزار مبارک دہلی میں مرجع خاص وعام ہے ۔ مزار مبارک کی زیارت وحاضری کے وقت عجیب کیفیت محسوس ہوتی ہے ۔ ہر وقت آپ کے مزار مبارک پر ایک میلہ سا لگا رہتا ہے ساری عمر شادی نہیں کی اس لیے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔روحانی اولاد اور خلفاء بڑی کثرت سے ہوئے ۔