پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں بارہا ایسے دور نظر آتے ہیں جب ہماری معیشت مشکلات کے طوفان میں پھنس گئی، کبھی سیاسی عدم استحکام نے اسے کمزور کیا، کبھی عالمی منڈی کے جھٹکوں نے ہلا کر رکھ دیا اور کبھی ہماری اپنی نااہلیوں نے اسے پیچھے دھکیل دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسی افرادی قوت، وسائل، زرخیز زمین اور جغرافیائی اہمیت رکھنے والا ملک اگر بار بار بحران کا شکار ہوا ہے تو اس کی بنیادی وجہ سمت کی درستگی نہ ہونا رہی ہے۔ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی تھا کہ کس طرح ایک بکھرتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا جائے اور عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ حالات چاہے کتنا ہی بگاڑ پیدا کریں، امید کی کرن پھر بھی زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے پہلے دن سے ہی معیشت کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور ایسے اقدامات اٹھائے جو اگرچہ سخت تھے مگر حقیقت پسندی پر مبنی تھے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ حکومت نے نہایت فہم و فراست اور غیر معمولی بصیرت کے ساتھ قوم کو مسائل کے بھنور سے نکالنے کی کوشش کی ہے او ر اس جدوجہد کی تفصیل اس قدر طویل ہے کہ ایک کالم میں سمونا ناممکن ہے۔تاہم میں یہاں اہم اور کلیدی اقدامات کا ذکر کرنا چاہوں گی۔سب سے پہلے حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ معیشت کی سب سے بڑی بیماری مالی خسارہ ہے۔ آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونا ایک ایسا زہر ہے جو معیشت کو اندر سے کھوکھلا کرتا رہا ہے۔ اس خسارے کو کم کرنے کے لیے حکومت نے ٹیکس کے نظام کو وسعت دینے اور شفاف بنانے پر زور دیا۔ ماضی میں ٹیکس صرف محدود طبقے پر بوجھ بنتا رہا، لیکن موجودہ حکومت نے نادرا اور ایف بی آر کے اشتراک سے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی تاکہ وہ لوگ بھی ٹیکس نیٹ میں آئیں جو برسوں سے اس قومی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتے رہے ہیں۔ عوام کو اعتماد میں لے کر یہ باور کرایا گیا کہ ٹیکس دینا صرف حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے اور اس کے بغیر ترقی کا سفر ادھورا ہے۔اس کے ساتھ ہی برآمدات میں اضافے پر خصوصی توجہ دی گئی کیونکہ کسی بھی ملک کی معیشت کی جان اس کی برآمدات میں ہوتی ہے۔
زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان اپنی پیداوار کو عالمی معیار پر ڈھالنے میں پیچھے رہا ہے۔ مگر حکومت نے زرعی اصلاحات کے ذریعے کسانوں کو ریلیف دیا، کھاد اور بیج کی دستیابی کو یقینی بنایا، زرعی قرضوں پر سبسڈی فراہم کی اور جدید مشینری کے استعمال کو فروغ دیا تاکہ زرعی اجناس کی پیداوار بڑھے اور یہ عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔ کپاس، چاول اور آم جیسے وہ ذرائع جو دنیا بھر میں پاکستانی شناخت رکھتے ہیں، ان کی برآمد بڑھانے کے لیے خصوصی منصوبے بنائے گئے تاکہ پاکستان کا زرِ مبادلہ بڑھے اور معیشت کے زخم بھر سکیں۔صنعتی شعبے کی ترقی کے بغیر بھی معیشت کی بہتری کا تصور ممکن نہیں تھا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہارا دینے کے لیے آسان قرضوں کے منصوبے شروع کیے۔ نوجوانوں کے لیے اس اقدام کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی کیونکہ وہ اپنی ہنر مندی کے ذریعے خود کفیل ہو سکتے ہیں۔ صنعتوں میں روزگار کے مواقع بڑھنے سے بے روزگاری میں کمی آئی اور ملک کے اندر معاشی سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوئی۔ صنعت کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کے شعبے پر بھی خاص توجہ دی گئی کیونکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی بلند مقام تک لے گئے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں نے فری لانسنگ اور آئی ٹی ایکسپورٹ کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور حکومت نے انہیں پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ یہ شعبہ مستقبل میں زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکے۔توانائی کا بحران بھی معیشت کے لئے ہمیشہ رکاوٹ بنا رہا۔ ماضی میں صنعتیں بجلی اور گیس کی کمی کے باعث بند ہو گئیں اور مزدور بے روزگار ہوتے رہے۔
موجودہ حکومت نے توانائی کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ منصوبے شروع کیے۔ پن بجلی، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ ملک میں سستی اور پائیدار توانائی پیدا کی جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ مقامی صنعتیں بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گی۔غیر ملکی سرمایہ کاری معیشت کے لیے خون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کار کسی ملک کو محفوظ اور منافع بخش سمجھیں تو وہ اپنا سرمایہ لانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ حکومت نے اس سلسلے میں سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کروائیں۔ اکنامک زونز کا قیام، ٹیکس میں رعایت، سرمایہ کے تحفظ کی ضمانت اور قانونی پیچیدگیوں میں آسانیاں پیدا کر کے سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے اس میں نئی روح پھونکی اور پاکستان ایک ایسے مرکز کے طور پر ابھرنے لگا جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے بھی تجارتی اعتبار سے پرکشش ہے۔حکومت نے یہ بھی سمجھا کہ معیشت صرف بڑے منصوبوں کے ذریعے بہتر نہیں ہوتی بلکہ عوامی سطح پر بھی سہولتیں دینا لازمی ہے۔ اسی لیے احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید وسعت دی گئی تاکہ نادار طبقات کو سہارا دیا جا سکے۔ غریب گھرانوں کو نقد امداد، طلبہ کو وظائف، بزرگوں کو وظیفہ اور بیواؤں کو سہارا دے کر حکومت نے یہ پیغام دیا کہ یہ سفر سب کا ہے اور کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔ نوجوانوں کے لیے ہنر مند پروگرام شروع کیے گئے تاکہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی ہنر بھی سیکھ سکیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیںیہ سب اقدامات اگرچہ مختصر مدت میں مکمل نتائج نہیں دے سکتے لیکن یہ درست سمت کی طرف بڑھنے کی علامت ہیں۔ معیشت کی بحالی کا سفر وقت طلب ہوتا ہے۔ اس میں صبر، قربانی اور استقامت درکار ہوتی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اس سفر میں حکومت کا ساتھ دیں۔ اگر ہم ٹیکس دینے سے کترائیں گے، مقامی مصنوعات کے بجائے درآمدی اشیاء کو ترجیح دیں گے اور توانائی کے ضیاع کو جاری رکھیں گے تو معیشت کبھی بہتر نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر ہم سب مل کر حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرے گا۔حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان ایک نئے سفر پر گامزن ہے۔ موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں کو دہرانے کے بجائے اب ملک کو ایک مستحکم بنیاد پر کھڑا کیا جائے گا۔ عوامی توقعات بلند ہیں، چیلنجز بھی بے شمار ہیں، مگر امید اور یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو پاکستان کی معیشت بہت جلد ایک نئے دور میں داخل ہوگی۔ انشاء اللہ