Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

قطر پر اسرائیلی حملہ آور امریکہ کی سرد مہری

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقتور اقوام کمزور ریاستوں پر حملہ آور ہوتی ہیں تو صرف ایک ملک یا خطہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ عالمی امن و سلامتی کے توازن میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا کھیل ہمیشہ سے جاری ہے، لیکن اکیسویں صدی کے اس دور میں یہ توقع تھی کہ عالمی ادارے، سفارتکاری اور بین الاقوامی مساوات قائم رکھنے کا ذریعہ بنیں گے۔ مگر قطر پر اسرائیلی حملے نے اس امید پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہ محض ایک ریاست پر حملہ نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک سنگین پیغام ہے کہ طاقتور جب چاہیں اصولوں اور قوانین کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔قطر جو برسوں سے مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی اور امن مذاکرات کی میزبانی کرتا رہا ہے۔ اس پر حملہ دراصل اس بات کی تنبیہ ہے کہ ’’غیر جانب داری‘‘ بھی اب محفوظ نہیں رہی۔ اگر کوئی ریاست کسی فریق کی مزاحمت یا حمایت میں نظر آئے تو وہ براہِ راست حملے کا نشانہ بن سکتی ہے۔ یہ پیغام نہ صرف قطر بلکہ دیگر خلیجی ریاستوں کے لیے بھی ہے کہ اسرائیل اپنی سیکورٹی مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
یہ حملہ عالمی برادری کے سامنے ایک تلخ سوال رکھتا ہے کیا بین الاقوامی قوانین صرف کمزور ریاستوں کے لیے ہیں؟ اگر ایک خودمختار ملک پر حملہ ہو اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہے تو پھر عالمی امن کے اداروں کی حیثیت محض نمائشی رہ جاتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کا رجحان فرو تر ہوگا، جس سے دنیا مزید غیر مستحکم ہو گی۔امریکہ اس معاملے میں ایک نازک اور دو دھاری تلوار پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اسرائیل اس کا پرانا اتحادی ہے، جس کی سیکورٹی کے لئے واشنگٹن ہر قیمت پر کھڑا ہوتا ہے اور دوسری طرف قطر وہ ملک ہے جہاں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے بظاہر اسرائیلی حملے پر ’’ناخوشی‘‘کا اظہار تو کیا ہے لیکن عملی طور پر وہ اسرائیل کو تنہا بھی نہیں چھوڑ سکتا۔امریکہ غالب امکان یہی رکھے گا کہ بیانات سے قطر کو تسلی اور عملی اقدامات سے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرے۔یہ اس کی دیرینہ مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا تسلسل ہے۔قطر پر حملہ خلیجی ریاستوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ اگر وہ اجتماعی اور موثر ردعمل نہ دے سکیں تو یہ ان کی کمزوری کو مزید نمایاں کرے گا۔
عرب دنیا کے عوامی دبائو کے تحت حکومتوں کے لئے اسرائیل سے تعلقات میں نرمی جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ صورتحال ایک سبق ہے کہ تقسیم در تقسیم مسلم دنیا اور عالمی طاقتوں کے سامنے کمزور و نا تواں ہوتی جارہی ہے ۔ اگر آج قطر کے حق خودمختاری پر موثر آواز نہ اٹھائی گئی تو کل کسی اور مسلم ریاست کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے لئے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ غیر جانبدار ثالثی اور سفارتی محاذ پر موثر کردار ادا کرے ، تاکہ عالمی برادری کو طاقت کے بجائے انصاف کی طرف متوجہ کیا جا سکے۔قطر پر اسرائیلی حملہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا قانون، انصاف اور بین الاقوامی قوانین پر غالب آ رہا ہے۔ یہ صرف قطر کا نہیں بلکہ عالمی امن کا مسئلہ ہے۔ اگر عالمی برادری نے خاموشی اختیار کی تو یہ خاموشی آنے والے وقت میں مزید بڑی تباہیوں کو جنم دے گی ۔
اسرائیل کا قطر پر جارحانہ حملہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اسرائیل امریکہ ہی کی ہلہ شیری یا آشیر باد پر ایسا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ساری حدیں پار کرنے پر تلا ہے، جس سے پوری دنیا باخبر ہے اور ایک آگاہ نہیں تو امریکہ جو کان میں تیل ڈالے سویا ہوا ہے یہ سب مسلم دنیا کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ہے اور عالم اسلام بھی اس امر سے اچھی طرح واقف ہے کہ یہ اسلام سے بغض و عناد کی دائمی روش جو صدیاں گزر جانے کے باوجود کم نہیں ہوئی ۔عصبیت کا بد نما چہرہ آج تک چھپ نہیں سکا اور عرصے ،عرصے بعد یہ آشکار بھی ہوتا رہتا ہے کہ کبھی کسی امن پسندملک پر حملوں کی بارش کر دی اور کبھی عالمی اسلامی شخصیت کو لقمہ تعصب بنا لیا جانا۔اس وقت پورے عالم اسلام خصوصاً امریکہ کے دوست اسلامی ممالک کی نظریں امریکہ پر لگی ہیں کہ وہ اسرائیل کو اس ناروا سلوک پر کتنی سرزنش کرتا ہے اور قطر کے زخموں پر کس قدر مرہم رکھنے کی سعی کرتا ہے تاہم اب تک کی صورتحال کے مطابق امریکہ نے اپنے لاڈلے اسرائیل پر کس قسم کا دبائو نہیں ڈالا اور نہ ہی قطر کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں