سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنے والے دہشت گرد گروہ پڑوسی ملک میں دستیاب محفوظ پناہگاہوں سے متحرک ہیں۔ ازلی دشمن بھارت کی مکمل سرپرستی میں یہ فسادی جتھے پاکستان پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ یہ گروہ وطن دشمن ہیں!یہ پاکستان کے وجود کے منکر ہیں۔ کالعدم گروہ ریاست کے آئین کو نہیں مانتے ۔آئین کے مطابق پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ کالعدم دہشت گرد گروہ ریاست پر اسلام کی آڑ میں خوارج کی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ہر اعتبار سے یہ ایک سنگین شرعی جرم ہے ۔تمام مسالک کے جید علما نے ’’پیغام پاکستان‘‘کی صورت ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو بغاوت قرار دیا ہے ۔لسانیت پرست گروہ بھی پاکستان کے وجود کو زبان اور علاقے کی بنیاد پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں دہشت گرد پاکستان کا وجود مٹانے کے در پے ہیں۔ ریاست دشمن گروہوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ افواج پاکستان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب ریاست دشمن عناصر تواتر کے ساتھ دفاعی اداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ دہشت گرد حملوں میں فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک مضبوط فوج کے خلاف مسلسل کئے جانے والے دہشت گرد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کالعدم گروہوں کو غیر ملکی سرپرستی، تربیت اور حربی وسائل دستیاب ہیں۔
گزشتہ ہفتوں میں خیبر پختونخواہ کئی مرتبہ دہشت گرد حملوں کی زد میں آیا ہے۔ہر بار پاک فوج کے بہادر سپوتوں نے خوارج کو دھول چٹائی۔ مادر وطن کے دفاع میں ہمارے بہادر افسر اور جوان اپنی قیمتی جانوں کی قربانی دے کر شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو رہے ہیں ۔ خوارج کے ساتھ دبدو مقابلے میں شہید ہونے والے افسر میجر عدنان اسلم کی بے مثال شجاعت کا ذکر ملک سمیت تمام دنیا میں گونج رہا ہے ۔اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی)سے تعلق رکھنے والے میجر عدنان اسلم نے خوارج سے ایک شدید جھڑپ کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے اپنا جسد خاکی ڈھال بنا کر ایک ماتحت کی جان بچائی۔ اس بے نظیر شجاعت، ایثار اور جذبہ شہادت کی مثال حالیہ عسکری تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔
شہید میجر عدنان اسلم کو ملک بھر میں عوام کی جانب سے بھرپور خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ابھی قوم اپنے جری فرزند میجر عدنان اسلم کی شہادت کے غم میں ڈوبی ہوئی تھی کہ بنوں میں 12 فوجی اہلکاروں کی شہادت کی المناک خبر سے تمام محب وطن حلقوں میں رنج و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ فتنہ خوارج کے دہشت گردوں نے روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔ ان 12 شہداء کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کی گئی جس میں شرکت کے لئے وزیراعظم اور سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت مقامی عسکری قیادت موجود تھی۔ توقعات اور رواج کے برعکس وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سمیت صوبائی حکومت کے اہم اہلکاروں نے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ اس منفی طرز عمل پر شدید تنقید جاری ہے۔ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر پی ٹی آئی کا موقف کئی مرتبہ پہلے بھی ہدف تنقید بن چکا ہے۔
سابقہ دور حکومت میں دہشت گردوں سے مذاکرات اور ان کی صوبے میں واپسی کے حوالے سے تحریک انصاف کے متنازعہ موقف نے انسداد دہشت گردی کے مہم کو شدید دھجکا لگایا۔ کیا وجہ ہے کہ ایک جانب صوبائی حکومت شہدا کے جنازوں میں شرکت سے گریزاں ہیں اور دوسری جانب اس کے حامی سوشل میڈیا اکائونٹس پاک فوج کے شہدا ء کے خلاف ہرد سرائی میں لسانی پریشر گروپوں کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف صف اول میں کھڑے ہونے کے بجائے ان پریشر گروپس کے شانہ بشانہ دکھائی دے رہی ہے جو ہمہ وقت پاک فوج کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ افغان طالبان کی عبوری حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث گروہ مزید دیدہ دلیر ہو چکے ہیں ۔حملہ آور دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں در اندازی کر رہے ہیں۔ در اندازی کرنے والے دہشت گردوں کے اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل ہے۔
پاکستان سفارتی ذرائع سے افغان عبوری حکومت کو اپنے تحفظات سے کئی مرتبہ آگاہ کر چکا ہے ۔پاکستانی شہریوں کی قیمتی جانوں کی قربانیاں مزید برداشت نہیں کی جا سکتیں۔مقام افسوس ہے کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت اور حکمران جماعت پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت دہشت گردی کے حساس مسئلے پر متنازع موقف اپنائے ہوئے ہے۔ ریاست اور عوام پر حملہ آور دہشت گردوں کا سد باب کرنے کے لیے عسکری قوت کا استعمال نہ کیا گیا تو یہ فتنہ ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ پی ٹی آئی قوم کی آواز بننے کے بجائے مشکوک نسل پرست گروہوں کی ہمنوا بن کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے۔ سانحہ بنوں کے بارہ شہدا کی نماز جنازہ میں عدم شرکت نے صوبائی حکومت کے مشکوک عزائم اور متنازع طرز عمل کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔