قدرت کے نظام میں کبھی خوشحالی اور رحمت چھپی ہوتی ہے تو کبھی آزمائش اور امتحان۔ بارش جب وقت پر برسے تو زمین زرخیز ہو جاتی ہے، کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور خوشحالی کے در کھلتے ہیں، لیکن یہی بارش جب حد سے بڑھ جائے تو زمین کا سینہ چاک کر دیتی ہے، بستیاں اجڑ جاتی ہیں، کھڑی فصلیں بہہ جاتی ہیں اور زندگی کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ان خطوں میں شامل ہے جہاں بار بار قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے۔ کبھی شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والا سیلاب لاکھوں انسانوں کو متاثر کرتا ہے، کبھی زلزلے زمین کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں، کبھی خشک سالی انسانوں کو پیاس کی شدت میں مبتلا کر دیتی ہے اور کبھی برفانی تودے یا طوفانی ہوائیں آبادیوں کو مشکلات میں گھیر لیتی ہیں۔ ان حالات میں اصل کسوٹی یہ ہوتی ہے کہ ریاست اور حکومت اپنے عوام کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے، ان کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے کتنی بصیرت اور تیزی کے ساتھ فیصلے کرتی ہے اور متاثرین کے دلوں میں یہ احساس کس حد تک پیدا کرتی ہے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
موجودہ حکومت نے حالیہ برسوں میں اس امتحان میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ خصوصاً حالیہ سیلاب کے دوران جس طرح ریاستی ادارے متحرک ہوئے، متاثرین تک خوراک، ادویات اور رہائش پہنچائی گئی اور بحالی کے دیرپا منصوبے شروع کیے گئے، وہ نہ صرف قابل تحسین ہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وزیراعظم سے لے کر وزراء تک اور نچلی سطح کے سرکاری اہلکاروں سے لے کر ریسکیو ورکرز تک سب ایک ہی جذبے کے ساتھ میدان میں اترے اور قوم کو یہ پیغام دیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ تنہا نہیں۔سیلاب کی تباہ کاریاں کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان اس آفت کا شکار ہوتا رہا ہے لیکن ماضی کی حکومتیں زیادہ تر وقتی ریلیف تک محدود رہتی تھیں۔ موجودہ حکومت نے وقتی ریلیف کے ساتھ ساتھ طویل المدتی حکمت عملی کو بھی اپنا شعار بنایا۔ ایک طرف خیمے، کھانے پینے کا سامان اور ادویات فوری طور پر متاثرین تک پہنچائی گئیں تو دوسری جانب بحالی کے بڑے منصوبے شروع کئے گئے جن میں مکانات کی تعمیر، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت، اسکولوں اور ہسپتالوں کی بحالی اور زرعی زمینوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لئے کسانوں کی مالی امداد شامل تھی۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت محض وقتی سہولت تک محدود نہیں بلکہ عوام کے مستقبل کو بھی محفوظ بنانے کا عزم رکھتی ہے۔عوام کی سب سے بڑی ضرورت مشکل وقت میں حکومت پر اعتماد ہے۔ جب لیڈر خود متاثرہ علاقوں میں پہنچے، جب وزراء نے پانی اور کیچڑ میں کھڑے ہو کر متاثرین کے مسائل سنے، جب بچوں اور عورتوں کو فوری طور پر خیموں اور ادویات تک رسائی ملی، تو عوام کو یقین ہوا کہ ان کی حکومت واقعی ان کے دکھ درد میں شریک ہے۔ یہی اعتماد حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
سیلاب متاثرین کے ساتھ حکومتی نمائندوں کی قربت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا منظر وہ تھا جس نے دلوں میں یہ امید جگائی کہ پاکستان کی قیادت عوام کے ساتھ مخلص ہے۔حکومت نے متاثرین کی مدد کے لئے عالمی برادری کو بھی متحرک کیا۔ اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک سب پاکستان کے لئے میدان میں آئے اور اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی۔ لیکن اصل کامیابی یہ تھی کہ اس امداد کو شفافیت کے ساتھ عوام تک پہنچانے کے لئے حکومت نے مربوط نظام قائم کیا۔ یہ وہ پہلو تھا جس پر بین الاقوامی اداروں نے بھی حکومت کی تعریف کی۔ آج کے دور میں شفافیت ہی سب سے بڑی کامیابی ہے کیونکہ ماضی میں اکثر امدادی رقوم عوام تک پہنچنے کے بجائے کرپشن کی نذر ہو جاتی تھیں۔ موجودہ حکومت نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لئے بھی دیرپا منصوبے شروع کئے۔ جدید فلڈ وارننگ سسٹم نصب کیا گیا تاکہ آئندہ عوام کو بروقت آگاہی مل سکے۔ ڈیمز اور بیراجز کی تعمیر کے منصوبوں پر تیزی سے کام شروع ہوا تاکہ آنے والے برسوں میں پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھا جا سکے۔ شہروں میں زلزلہ پروف تعمیرات کو لازمی قرار دیا گیا اور بلڈنگ کوڈز پر عمل درآمد کے لئے سخت اقدامات کیے گئے تاکہ آئندہ زلزلوں کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان نہ ہو۔خشک سالی کے شکار علاقوں جیسے تھرپارکر اور چولستان میں بھی حکومت نے پانی کی فراہمی کے منصوبے شروع کیے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے چھوٹے ڈیمز بنائے گئے اور پائپ لائنیں بچھا کر دور دراز دیہات تک پانی پہنچانے کے اقدامات کئے گئے۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت محض وقتی ردعمل پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ آنے والے کل کو بھی محفوظ بنانے کا عزم رکھتی ہے۔عوامی شعور کی بیداری میں بھی موجودہ حکومت نے نمایاں کردار ادا کیا۔
تعلیمی اداروں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ نئی نسل قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو۔ کمیونٹی لیول پر آگاہی پروگرام شروع کیے گئے تاکہ ہر فرد کو یہ علم ہو کہ کسی آفت کی صورت میں اپنے اور دوسروں کی جان کیسے بچائی جا سکتی ہے۔ میڈیا پر چلنے والی مہمات نے بھی عوامی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت نے قدرتی آفات کے مقابلے میں جو حکمت عملی اپنائی ہے وہ ایک جامع اور متوازن حکمت عملی ہے۔ اس میں وقتی ریلیف بھی شامل ہے، طویل المدتی بحالی بھی، عالمی تعاون بھی اور عوامی شعور کی بیداری بھی۔ یہ سب پہلو اس بات کی دلیل ہیں کہ قیادت عوام کے ساتھ مخلص ہے اور اس کی ترجیحات میں سب سے پہلے عوام کی زندگی اور ان کا مستقبل آتا ہے۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان آج ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں قیادت نے مشکلات کو مواقع میں بدلنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔ قدرتی آفات یقینا آزمائش ہیں لیکن اگر قیادت درست سمت میں اقدامات کرے تو یہی آزمائشیں قوم کے حوصلے کو بلند کرتی ہیں اور آنے والے وقت کے لئے بہتر راستے ہموار کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ عوام کے لئے امید کی کرن ہے اور آنے والے وقت میں ملک کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو قیادت آفات کے دوران اپنی قوم کو سہارا دیتی ہے، وہی حقیقی معنوں میں عوام کی رہنمائی کا حق ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس حکومت پر اعتماد کیا اور دنیا نے بھی اس کی کارکردگی کو سراہا۔ شاعر کے الفاظ میں:
اندھیروں میں بھی چراغ جلانے والے ہیں
یہی لوگ ہیں جو قوم کو بچانے والے ہیں