Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مغرب کا غروب، مشرق کا ظہور

(گزشتہ سے پیوستہ)
چین کے بحری بیڑے،چھٹی نسل کے طیارے اورمسلسل مشقیں اس بات کااعلان ہیں کہ وہ امریکاکی ’’جزائرکی زنجیر‘‘توڑنے پر تلا ہوا ہے۔ امریکانے بحرالکاہل میں چین کو محدود رکھنے کیلئے جزائرکاایک حصارکھڑاکیاتھامگرچین اب اس حصار کو توڑکر سمندروں میں آزادانہ حرکت کرنے کاعزم رکھتاہے۔چین اب اسے توڑنے کیلئے اپنی مشقیں اوربیڑے تیار کررہاہے۔چین بحری بیڑوں کی حرکت،چھٹی نسل کے طیاروں اورمسلسل مشقوں کے ذریعے یہ ظاہرکررہاہے اورچین کایہ پراسرارعمل اس بات کا اعلان ہیں کہ وہ امریکاکی جزائر کی زنجیرکوتوڑنے پرتلاہواہے جس کے ذریعے وہ چین کو محدود رکھنا چاہتا ہے۔
سمندروں پرحکمرانی ہمیشہ عالمی طاقت کیلئے شرطِ اول رہی ہے۔برطانیہ نے سمندروں پر حکمرانی کر کے سلطنت قائم کی۔امریکا نے بھی یہی کیااوراپنی بالادستی بحری بیڑوں کے سہارے قائم رکھی۔اب چین بھی اسی خواب کی تعبیر چاہتا ہے۔ اب چین اسی تاج کی طرف بڑھ رہاہے۔یہ محض خواب یامستقبل کی دستک اورمحض عسکری حکمتِ عملی نہیں ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی بیداری کا استعارہ ہے۔دنیاکی سب سے بڑی بحری قوت کا تاج اب زیادہ دور نہیں۔چین سمندروں پر حکمرانی کے خواب کو حقیقت کے قریب لے آیاہے۔چین کے خواب میں سمندروں پرحکمرانی محض ایک عسکری مقصدنہیں بلکہ تہذیبی بیداری کااستعارہ ہے۔ جب کوئی قوم سمندروں پرقابض ہوجاتی ہے تواس کے خواب بھی لامحدودہو جاتے ہیں۔
اعدادوشماریہ بتارہے ہیں کہ امریکاکے پاس 219 جنگی بحری جہازہیں،جبکہ چین کے پاس 234۔ یہ گنتی نہیں بلکہ تاریخ کااشارہ ہے کہ طاقت کاترازوبدل رہاہے۔یہ اعدادمحض گنتی نہیں بلکہ ایک مستقبل کی جھلک ہیں جوطاقت کاتوازن بدل سکتی ہے۔یہ عددی حقیقت اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ طاقت کاپلڑابدلنے لگاہے۔یہ محض عددی برتری نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑہے،جہاں طاقت کاترازوجھکنے لگاہے۔اگریہ رفتارجاری رہی توآنے والاوقت سمندروں کی حکمرانی کاتاج مشرق کے سرپرسجادے گا۔
یہ پریڈمحض ایک تقریب نہ تھی بلکہ ایک اعلان تھاکہ دنیاکامرکز بدل رہا ہے۔یہ پریڈمحض ایک تقریب نہ تھی بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے موڑکااعلان تھی۔شی جن پنگ نے دنیا کوبتایاکہ اب طاقت کامرکزمغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہاہے۔مشرق کی صبح طلوع ہورہی ہے اورمغرب کی شام ڈھلنے کوہے۔دنیااب اس حقیقت سے انکارنہیں کرسکتی کہ چین محض ایک طاقتور ملک نہیں بلکہ ایک ایسارہنماہے جومشرق کومتحدکرکے مغرب کی بالادستی کوچیلنج کرنے کیلئے تیارہے۔تاریخ کے صفحات میں یہ لمحہ ہمیشہ ایک نئے موڑاورایک باب کے طور پریاد رکھا جائے گا۔ یہ منظرنامہ دراصل ایک نئی عالمی بساط کا عکس ہے،جہاں مشرقی رہنما اپنے خدوخال مرتب کررہے ہیں۔تاریخ کے صفحات میں یہ لمحہ محض ایک پریڈ نہیں بلکہ ایک یادگاراعلان ہے کہ دنیاکی قیادت کی سمت بدل رہی ہے۔
گویایہ محض ایک پریڈکی روداد نہیں، اس کے تاریخی،سیاسی اورتہذیبی پس منظرکے ساتھ واضح کرتی ہیں بلکہ ایک پوری عالمی تاریخ کاموڑہے جودنیاکی سیاست کے مستقبل کوبدلنے والاہے۔یہ منظرمحض ایک فوجی پریڈ نہ تھابلکہ تاریخ کاایک فیصلہ تھا۔دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیاکہ طاقت کامرکز اب یکطرفہ نہیں رہا۔ واشنگٹن کی گرفت ڈھیلی پڑرہی ہے اور بیجنگ کے ہاتھ مضبوط ہورہے ہیں۔مشرق جسے کل تک محکوم سمجھاجاتاتھا،آج فاتح کی طرح کھڑاہے۔یہ لمحہ ہمیں رومی سلطنت کے زوال،اندلس کی شام،اور برطانوی سلطنت کے غروب کی یاددلاتا ہے۔ہر عہد کاایک سورج ہوتاہے، جوطلوع بھی ہوتاہے اورغروب بھی۔ امریکاکا سورج اپنی نصف النہارسے ڈھل رہاہے اورمشرقی آسمان پرایک نیا آفتاب طلوع ہو رہاہے۔
چینی پریڈنے یہ پیغام دیاہے کہ دنیاکی باگ اب مغرب کے ہاتھوں میں نہیں رہے گی۔یہ قیادت کی منتقلی کااعلان ہے ،ایک ایسا اعلان جوتوپوں کی گھن گرج،بحری بیڑوں کی روانی اور اتحادکی علامتوں کے ساتھ کیاگیا۔آج کے بعددنیاکویہ مانناہوگاکہ تاریخ نے کروٹ بدل لی ہے، اورمستقبل کاباب مشرق کے ہاتھ سے لکھا جائے گا۔
اے دنیاکے رہنے والو!تم کب تک آنکھیں بندرکھوگے؟کیاتمہیں نہیں دکھائی دیتا کہ واشنگٹن کے ایوانوں میں اضطراب ہے اور بیجنگ کے میدانوں میں اطمینان؟کیاتم نہیں سنتے کہ تاریخ کی گھنٹیاں بج رہی ہیں؟وہی گھنٹیاں جوکبھی رومی سلطنت کے زوال پر بجی تھیں،وہی گھنٹیاں جو اندلس کی شام پربجی تھیں،وہی گھنٹیاں جوبرطانیہ کی ڈوبتی سلطنت پربجی تھیںآج وہی صداامریکا کے دروازے پردستک دے رہی ہے۔
دیکھو!مشرق کے افق پرایک نیاسورج طلوع ہورہاہے۔وہ سورج جس کی کرنیں توپوں کی لومیں،بحری بیڑوں کی روانی میں،اور اتحادکے عزم میں جھلک رہی ہیں۔دنیاکی باگ اب مغرب کے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔یہ لمحہ اعلان کررہاہے کہ قیادت کاتاج مشرق کے سرپرسج چکاہے۔
اوراے اہلِ مغرب!سن لو!تمہارے دن گزرگئے،تمہاراغرورٹوٹ چکا۔تاریخ نے کروٹ بدل لی ہے،اورمستقبل کاصفحہ اب بیجنگ کے قلم سے لکھاجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں