Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

ماحولیاتی تبدیلی اور انسان کی بقاء کی جنگ

دنیا آج جن بڑے بحرانوں سے دوچار ہے ان میں سب سے سنگین اور پیچیدہ مسئلہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ یہ وہ چیلنج ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتا، قوموں میں فرق نہیں کرتا اور کسی مذہب، نسل یا رنگ کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتتا۔ یہ ایک ایسا طوفان ہے جو خاموشی سے بڑھ رہا ہے اور اگر انسان نے اس کے آگے بند نہ باندھا تو آنے والی نسلوں کے لئے زمین ایک جہنم بن سکتی ہے۔گلوبل وارمنگ سے مراد زمین کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد سے زمین کا درجہ حرارت اوسطاً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ یہ اضافہ بظاہر کم لگتا ہے مگر اس کے اثرات تباہ کن ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر یہ اضافہ دو ڈگری سے آگے نکل گیا تو پھر بہت سے قدرتی نظام ناقابلِ واپسی نقصان کا شکار ہو جائیں گے۔انسانی سرگرمیاں اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ فوسل فیول یعنی کوئلہ، تیل اور گیس کے مسلسل جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں فضاء میں بڑھ رہی ہیں۔ یہ گیسیں زمین کی سطح سے نکلنے والی حرارت کو واپس جانے نہیں دیتیں اور یوں زمین پر درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کی کٹائی نے مسئلے کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے کیونکہ درخت وہ واحد ذریعہ ہیں جوکاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی علامات آج ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یورپ کے وہ ممالک جہاں کبھی گرمی کا تصور بھی نہیں تھا وہاں آج درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہنچ رہا ہے۔
آسٹریلیا اور امریکہ میں جنگلاتی آگ معمول بنتی جا رہی ہے۔ افریقہ میں خشک سالی نے لاکھوں انسانوں کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ایشیاء میں بارشیں غیر معمولی طور پر شدید اور بے وقت ہو رہی ہیں۔ بھارت اور پاکستان میں گرمی کی لہریں سینکڑوں جانیں لے رہی ہیں۔ چین میں طوفانی بارشیں اور سیلاب شہروں کو مفلوج کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی مستقبل کا منظرنامہ نہیں بلکہ حالیہ برسوں کی حقیقت ہے۔ماحولیاتی تبدیلی صرف قدرتی آفات تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی صحت، معیشت اور معاشرت پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث سانس کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ دل کے امراض اور کینسر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اگلی چند دہائیوں میں دنیا بھر میں لاکھوں اموات صرف آلودگی اور گلوبل وارمنگ کے اثرات سے ہوں گی۔ اسی طرح زرعی پیداوار متاثر ہونے سے غذائی قلت پیدا ہوگی اور غذائی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی۔ پانی کی کمی دنیا بھر میں جنگوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگلی عالمی جنگ اگر ہوئی تو شاید زمین یا تیل کے لئے نہیں بلکہ پانی کے لئے لڑی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے تحت ’’پیرس معاہدہ‘‘ سب سے اہم قدم ہے جس میں دنیا کے تقریباً ہر ملک نے وعدہ کیا کہ وہ درجہ حرارت کو دو ڈگری سے کم رکھنے کے لئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا۔ لیکن افسوس کہ یہ وعدے زیادہ تر کاغذی ہیں۔پاکستان نے شجرکاری کے بڑے منصوبے شروع کئے ہیں جن میں ’’بلین ٹری سونامی‘‘ سب سے نمایاں ہے۔ اس منصوبے کے تحت کروڑوں درخت لگائے گئے ہیں جو نہ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کریں گے بلکہ ماحولیاتی توازن قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے قابل تجدید توانائی کے منصوبے بھی شروع کئے ہیں جن میں ہوا اور سورج سے بجلی پیدا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ اقدامات ابھی ناکافی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت قوانین بنائے، آلودگی پھیلانے والے اداروں کو جرمانے کرے اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے استعمال کو لازمی قرار دے۔عوامی سطح پر بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی عادات بدلنی ہوں گی۔ پلاسٹک کا کم استعمال، بجلی اور پانی کی بچت، سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال، کچرے کو ریسائیکل کرنا اور سب سے بڑھ کر درخت لگانا۔ اگر ہر شہری صرف ایک درخت بھی لگائے تو پاکستان میں کروڑوں درختوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
دنیا کی معیشتیں اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہیں۔ ایک طرف صنعتی ترقی اور دوسری طرف ماحول کی بقاء ۔ لیکن اصل حکمت یہ ہے کہ ہم ترقی اور ماحول کے درمیان توازن پیدا کریں۔ ’’گرین اکانومی‘‘ کا تصور اسی لئے پیش کیا گیا ہے کہ ہم ایسی صنعتیں قائم کریں جو ماحول دوست ہوں۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آج یہ ممکن ہے کہ ہم توانائی بھی پیدا کریں اور ماحول کو بھی محفوظ رکھیں۔ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، ہائیڈرو پاور وغیرہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ اگر دنیا نے ان ذرائع پر تیزی سے منتقل نہ کیا تو آنے والے وقت میں معاشی ترقی ایک دھوکہ ثابت ہوگی کیونکہ زمین ہی باقی نہ رہے گی تو ترقی کس کام کی؟یہ بھی حقیقت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات غریب ممالک پر زیادہ پڑتے ہیں کیونکہ ان کے پاس موافقت (Adaptation) کے وسائل نہیں ہوتے۔ ایک ترقی یافتہ ملک سیلاب سے بچنے کے لئے ڈیم بنا سکتا ہے، لیکن ایک غریب ملک کے لوگ اپنی جھونپڑیاں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس ناانصافی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ممالک زیادہ فنڈز فراہم کریں تاکہ متاثرہ ممالک اپنے عوام کو بچا سکیں۔وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ دنیا متحد ہو۔ جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام عالم نے امن کے لئے اقوام متحدہ بنائی، اسی طرح آج ماحولیاتی جنگ کو روکنے کے لئے عملی اتحاد بنانا ہوگا۔ اگر ہم نے مزید تاخیر کی تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ سائنسدان خبردار کر چکے ہیں کہ اگلے دس سال فیصلہ کن ہیں۔ یہ دس سال انسانیت کی بقا یا فنا کا تعین کریں گے۔یہ لمحہ ہے کہ ہم اپنی روش بدلیں۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ زمین ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ ہمیں آج یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم زمین کے محافظ ہیں، ہم ماحول کے پاسبان ہیں۔ یہی ہماری بقا ہے، یہی ہماری ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں