Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ‘ مثبت جہتیں

عالمی برادری میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کا طے پا جانا ایک حیران کن خبر ثابت ہوئی ہے۔ وطن کے خیر خواہ اس پیش رفت پر مسرور ہیں۔ بلا شبہ یہ رب کے حضور شکر بجا لانے کا موقع ہے ۔البتہ پاکستان سے بغض رکھنے والے طبقات میں صف ماتم بچھی ہے ۔یہ بد خواہ اندرونی اور بیرونی محازوں پر سرگرم ہیں۔ازلی دشمن بھارت ان بد خواہوں کا سرپرست اعلیٰ ہے ۔بیرونی محاذ پر بھارت تاحال کسی واضح موقف کا اظہار کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں بھارتی سرکاری ذرائع نے یہ معنی خیز جواب دیا کہ فی الحال دفتر خارجہ پاک سعودی دفاعی معاہدے کے نتائج و عواقب پر غور کر رہا ہے۔ گویا پاک سعودی دفاعی معاہدے سے بھارت کے سفارتی ذرائع پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہے۔ البتہ بھارتی حکومت کی سرشت اور حالیہ شر انگیزی کے تناظر میں یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ بی جے پی سرکار کے صحن میں بھی صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ بھارت کی شہ پر پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والے فتنہ خوارج کے فسادی گروہوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
مغربی پڑوسی افغانستان کی سرزمین پر بعض ناعاقبت اندیش میزبانوں کی فراہم کردہ پناہ گاہوں میں روپوش ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ اور ’’سہولت کاروں‘‘کو بھی زمین تنگ ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ حکومتی جماعت کے نو منتخب سینیٹر اور سابقہ وزیر داخلہ نے یہ کہہ کر فتنہ خوارج پر برق گرا دی ہے کہ آئندہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملہ اب سعودی عرب پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان پر دہشت گرد حملے کون کروا رہا ہے؟ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان اس شیطانی واردات میں ملوث ہیں!ان حملوں کا منصوبہ ساز اور سرپرست کون ہے؟ بلاشبہ بھارت کے ریاستی ادارے اور بدنام زمانہ زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘تمام پاکستان دشمن دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے ۔نسل پرست علیحدگی پسند عناصر کو بیرون ملک اور اندرون ملک وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔
ہندوستانی سرپرستی میں چلائے جانے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا انچارج کل بھوشن یادیو برسوں سے پاکستان کی حراست میں ہے۔ سرحد پار دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کا یہ جیتا جاگتا ثبوت کئی مرتبہ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔ بھارت کی سرپرستی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے تمام نیٹ ورک حالیہ دفاعی معاہدے پر برہم ہیں۔ دہشت گردی کی طاقتور لہر اور بھارت کی غیر ذمہ دارانہ مہلک فوجی مہم جوئی کے باوجود پاکستان قائم و دائم ہے۔ آپریشن سندور کے مقابل اپریشن بنیان المرصوص کا سکہ چل رہا ہے۔ بھارت کے بلند بانگ دعوے محض گیدڑ بھبکیاں ثابت ہوئے۔ نہ فرانس کے رافیل طیارے کام آئے!نہ ہی اسرائیلی ڈرون اور جدید ٹیکنالوجی سے کچھ حاصل ہوا !روس کے جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم کے باوجود پاکستانی یلغار کے نتیجے میں بھارت کا عسکری غرور چکنا چور ہو گیا ۔
پاکستان کے مربوط عسکری جواب نے خطے سمیت عالمی تزویراتی منظر نامے کو نئی جہت دی ہے۔ بھارت کی عددی برتری، غیر ملکی جنگی آلات، جھوٹ پر مبنی ابلاغی مہم اور دہشت گرد گروہوں کی معاونت کے باوجود پاکستان کا پلہ بھاری رہا۔ پاکستان ایک مستحکم ریاست کے طور پر ابھرا ہے۔ بھارت کی خواہشات کے برعکس مضبوط پاکستان اج سفارتی محاذ پر عالمی برادری میں قابل اعتماد اور باوقار مملکت کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔بنگلہ دیش سے بھارت کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حسینہ واجد کا ٹولہ فرار ہو چکا ہے۔ پاک بنگلہ تعلقات میں محبت اور بھائی چارے کی گرم جوشی پیدا ہوئی ہے۔ امریکہ جیسی عالمی طاقت نے پاکستان کے مثبت طرز عمل کا اعتراف کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے صدر ٹرمپ کی ملاقات نے عسکری سفارت کاری کی افادیت پہ مہر تصدیق ثبت کی ہے۔
سابقہ حکومت کے دور میں ڈانواں ڈول رہنے والی معیشت اب مستحکم ہوتی جا رہی ہے ۔عہد حاضر میں ریاست پاکستان نے دہشت گردی کی سب سے بڑی یلغار کے خلاف نہایت کامیابی سے جنگ لڑی ہے۔ اس پیچیدہ جنگ میں افواج پاکستان کا قائدانہ کردار اور لازوال قربانیاں کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ حالیہ استحکام شہیدوں کے مقدس لہو کی بدولت حاصل ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہر دشمن اور بدخواہ آج پاک فوج کے خلاف زہر اگلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اندرونی محاذ پر پاک سعودیہ دفاعی معاہدے پر وہ طبقات تلملاہٹ کا شکار ہیں جو ہر عہد میں ملک کی دفاعی صلاحیت کو معاشی ترقی کے لیے رکاوٹ یا بوجھ سمجھتے رہے ہیں۔ قطر پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے نے ان ناقدین کے دلائل کی دھجیاں بکیر دی ہیں ۔ مضبوط معیشت اور جدید غیر ملکی ہتھیار قومی سلامتی کے ضامن نہیں ہوتے بلکہ پر عزم اور پیشہ وارانہ مہارت کے حامل ریاستی ادارے ہی مملکت کے وجود کو دوام بخشتے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کو معرکہ حق میں دھول چٹا کر دنیا کو اس حقیقت کا عملی ثبوت فراہم کیا ہے جبکہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ اس حقیقت کا عملی اعتراف بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں