Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

شہبازشریف کے اوورسیز کنونشن میں خطاب کی روداد

چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن سید قمر رضا نے اسلام آباد، برسلز کے بعد تیسرا بڑا لندن میں کنونشن منعقد کروا کر یہ ثابت کردیا کہ اوورسیز پاکستانی اپنے ملک کے لئے باہم اتحاد اور اتفاق سے پاکستان وسیع تر مفادات کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے کوئی 15 سو سے زائد افراد نے برطانیہ بھر سے لندن آکر شرکت کی ۔ قمر رضا نے وزیراعظم ان کی کابینہ اور فیلڈ مارشل کے دورے سے قبل پورے برطانیہ کا دورہ کیا تھا اسی وجہ سے زیادہ افراد لندن آئے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زیادہ تر کنونشن میں شریک شرکا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سننے آئے تھے اگرچہ اس کا باقاعدہ اعلان یا دعوت نامے پر نام نہیں تھا لیکن مہمانوں میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ کنونشن سے خطاب کریں گے بہرحال ان کی عدم شرکت سب کے لئے قدرے تعجب کا باعث بنی رہی میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ سیکورٹی کلیئرنس نہیں تھی اسرائیل اور انڈیا دونوں کزنز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے خوفزدہ ہیں خطرہ موجود تھا سیکورٹی والے ایک دو افراد کو ہال سے باہر بھی نکال دیا تھا وزیراعظم کی امد سے چند منٹ پہلے ایک شخص کے دبوچے جانے اور باہر لے جایا گیا برطانیہ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی تقریب میں جانے سے پہلے موبائل فونز لے لیے گئے تھے لیکن سب حیران تھے کہ موبائل فونز تو جمع ہوگئے لیکن کسی نے داخلے کے وقت کسی کی تلاشی لینے کی زحمت ہی نہیں کی اسی وجہ سے بعض لوگوں نے فون جمع نہیں کروائے اور ہال میں لے جاکر تصویریں بناتے رہے ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں موبائل فونز جمع کروانے کا مطلب جنگ میں جانے سے پہلے سپاہی سے رائفل لے لینے کے مترادف ہے جس کی وجہ سوشل میڈیا کی ادواں والے بعض میڈیا پرسن بے بس نظر آئے ہوٹل بہت شاندار تھا ظاہر ہے قمر رضا کو اخراجات برداشت کرنے کے لئے نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے ہونگے وزیراعظم کی آمد سے قبل کوئی دو گھنٹے ہوٹل کے عقبی دروازے پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن مظاہرہ کرتے رہے جبکہ مدِمقابل مسلم لیگ ن یا حکومت کی حمایت میں بھی کاونٹر مظاہرہ کیا جارہا تھا گالم گلوچ اور تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ ایک ڈیجیٹل وین بھی حکومت کی جانب سے کھڑی کی گی تھی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر شہبازشریف اور کرائون پرنس محمد سلیمان کی تصویر بار بار دکھائی جارہی تھی جبکہ پاک افواج کی پریڈ وغیرہ بھی بار بار دکھائی جارہی تھی۔
شرکا سے خواجہ محمد آصف، اسحاق ڈار، چوہدری سالک اور سید قمر رضا نے خطاب کیا جبکہ سمینہ خان جو طویل عرصے تک برطانیہ کے ٹی وی چینل ڈی ایم ڈیجیٹل پر طویل عرصے تک پروگرام کرتی رہی ہیں نے نظامت کے فرائض سرانجام دئیے۔ وزیراعظم کے خطاب کے اہم نکات میں بھارت کو برابری کی سطح پر مزاکرات کی آفر تھی اور مئی کے مہینے میں پاک بھارت جنگ کا زکر بدرجہ اتم کیا گیا اور معاشی اور دفاعی اعتبار سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا وزیراعظم نے کشمیر فلسطین کا زکر کیا اور سفارتی محاذ پر پاکستان کو جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان کاذکر کیا گیا اور یہ اعادہ کیا گیا کہ اگر پاکستانی قوم متحد ہو تو ہم جس طرح دفاعی اعتبار سے ناقابلِ تسخیر قوت بن چکے ہیں ہم معاشی اعتبار سے بھی ایک طاقت بن سکتے ہیں انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو پاکستان کے لئے موت اور زندگی کا مسئلہ قرار دیا اور بھارت کو مذاکرات کی آفر کرتے وقت انڈس واٹر ٹریٹی کشمیر اور دیگر ایشوز کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاہدے کو سنگ میل قرار دیا اور اپنی حکومت کا بڑا کارنامہ قراردیا تاہم وزیراعظم نے میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور پی آئی اے کی فلائٹس شروع ہونے کا کوئی ذکر نہیں کیا حالانکہ یہ وہ مسائل ہیں جنہیں اوورسیز پاکستانی ہر فورم پر اجاگر کرتے ہیں۔ اسی طرح نوجوان اوورسیز پاکستانیوں کی تعلیم، روزگار اور ڈوئل نیشنلٹی کے مسائل بھی مکمل طور پر نظر انداز کیے گئے۔ کئی شرکا نے کہا کہ اگر یہ کنونشن اوورسیز پاکستانیوں کے نام پر تھا تو کم از کم ان کے عملی مسائل پر روشنی ڈالنا لازمی تھا۔
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کم ہوگئی ہے ہمارے فارن ریزو بڑھ گئے ہیں اور ڈیفالٹ ہونے سے اس لئے بچ گئے ہیں کہ ہماری معاشی منصوبہ بندی بہت کامیاب رہی وزیراعظم نے اپنے مخصوص انداز میں شعر و شاعری کی اور ڈائس پر خوب مکے مارے انہوں ایک بلینڈر بھی کیا جب انہوں نے انڈیا کے جہاز گرانے کی بات کی اور بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ ’’جنگ کھیڈ نہیں زنانیاں دی ‘‘ لیکن فورا ً ہی انہیں یہ محسوس ہوا کہ وہ برطانیہ میں ہیں جہاں مرد اور عورت کو برابر سمجھا جاتا ہے تو انہوں نے پھر کہا کہ ہمارے عورتیں ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں وزیراعظم خواجہ آصف اور اسحاق ڈار سب نے بار بار اپنی تقریر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بہت تحسین کی وزیراعظم کی تقریر کے دوران چاروں کونوں سے پاک فوج زندہ باد اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نعرے لگتے رہے میری میز پر بیٹھے ہوئے افراد کو میں نے چیک کیا اور کہا کہ آپ بھی کوئی نعرہ مار دیں تو انہوں نے جواب دیا ہم تو ڈنر کھانے آئے ہیں بہت سارے شرکا کو یہ بھی کہتے سنا گیا کہ پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور ہماری ساری حکومت یہاں کیا کرنے آئی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف تو اپنے گھر میں رہائش پذیر تھے لیکن باقی تقریباً کوئی پچیس کے قریب افراد ہوٹلوں میں ٹھہرے ہوئے تھے کچھ چرچل ہوٹل میں تھے جبکہ یہاں وزیراعظم یا کابینہ کے ممبران کی کوئی آفیشل سرگرمی میری نظر سے نہیں گزری نہ ہی پاکستانی سفارتخانے نے کوئی پریس ریلیز جاری کی اور نہ ہی انگلش میڈیا میں ہمارے وزیراعظم یا کابینہ کا زکر کسی جگہ نظر آیا جس سے یہ تاثر ابھرا کہ یہ سارا دورہ زیادہ تر سیاسی نمائش اور فوٹو سیشن تک محدود رہا۔ عوامی ٹیکس کے پیسے سے بڑے وفد کا سفر اور مہنگے ہوٹلوں میں قیام، کئی اوورسیز پاکستانیوں کے لئے سوالیہ نشان تھا۔ البتہ تین دن ائیرفورس کا جہاز لندن لوٹن کے ائیر پورٹ پر ہیرلڈ کی پارکنگ میں کھڑا رہا یہاں سے یہ وفد امریکہ روانہ ہوچکا ہے اور منگل کی دوپہر شاید اسلامی ملکوں کے ایک وفد میں وزیراعظم ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے پھر نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کرے ملک کے لئے بہتری ہو البتہ اوورسیز پاکستانیوں کے اتحاد اور سید قمر رضا کے انتظامات قابل داد و تحسین ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کنونشن نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ چاہے حکومتیں آئیں یا جائیں، اوورسیز پاکستانی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں اور عملی مسائل کے حل کے منتظر رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں