ایک بار پھر وہی پرانی کہانی وہی ذلت وہی رسوائی۔ ایشیاء کپ 2025 ء کا میدان جہاں پاکستان کی ٹیم نے اپنے روایتی حریف بھارت کے سامنے نہ صرف ہارنا قبول کیا بلکہ ایسے بے شرم انداز میں ہارا کہ قوم کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ دو میچ اور دو بار ذلت کا مزہ چکھا۔ ہر شعبے میں پٹائی ہوئی۔ بیٹنگ لائن اپ کا سانحہ، بولنگ کا خاتمہ، فیلڈنگ کا مذاق۔ یہ کوئی اتفاقی شکست نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی شدہ تباہی ہے جس کی جڑیں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کے موجودہ چیئرمین محسن نقوی کی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ آج جب قوم کرکٹ کے میدان میں اپنے فخر کی تلاش میں ہے تو اسے مل رہا ہے صرف شرمندگی کا مزہ۔ کیا یہ پاکستان کرکٹ کا خاتمہ ہے؟ یا پھر ایک نئی صبح کی نوید؟ آئیے اس زبوں حالی کی گہرائیوں میں اترتے ہیں جہاں ہر شکست کی داستان ایک سبق چھپائے بیٹھی ہے۔ایک وقت تھا جب جاوید میانداد ، ظہیر عباس، سعید انور، شاہد آفریدی، مصباح الحق جیسے قابل ذکر بلے باز تھے اور سرفراز نواز، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر جیسے تیز رفتار بالرز اپنی مخالف ٹیموں کے پسینے نکال دیتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ کرکٹ ہمارا قومی جذبہ تھی۔ ایک ایسی آگ جو ہمیں متحد کرتی تھی۔ لیکن آج میں، وہی شاہین اب زمین پر لڑھک رہے ہیں۔
ایشیاء کپ میں انڈیا کے ساتھ دونوں میچوں میں بیٹسمینوں نے ہمارے بولرز کو کھلونا بنا دیا اور ان کے بلے بازوں نے پاکستان کے نکمے بالرز کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے خوب دھلائی کی۔ذمہ دار کون؟ سیدھا سادا جواب ہے ۔ محسن نقوی۔ پی سی بی کے چیئرمین جو خود کو کرکٹ کا بچہ کہلاتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسا تجربہ کیا ہے جو کرکٹ کی تاریخ میں سیاہ باب بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کے نمبر ون سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا۔ بابر اعظم جو ٹی ٹوئنٹی میں بادشاہ ہیں، محمد رضوان جو وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ دونوں میں کمال رکھتے ہیں، نسیم شاہ جو تیز گیند بازی کا طوفان ہیں ان سب کو ایشیاء کپ سے دور رکھا گیا۔ ان کی جگہ کون لائے؟ انتہائی جونیئر، تجربہ کار نہ ہونے والے اور حالیہ فارم سے بری طرح ناکام کھلاڑی۔ یہ سلیکشن نہیں خودکشی ہے۔ نقوی صاحب۔ آپ کہتے ہیں کہ سلیکشن کمیٹی کا کام ہے آپ کا کوئی ہاتھ نہیں۔ ٹھیک ہے مان لیتے ہیں۔ لیکن یہ کمیٹی آپ نے ہی بنائی ہے آپ کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔ تو پھر یہ نااہلی کیسے برداشت کریں؟ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، سرکاری بھی اور اخلاقی بھی۔یاد کیجیے 2008 ء کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جہاں میزبان بھارت کے خلاف فائنل میں پاکستان نے کیسے جیت حاصل کی تھی۔ شاہد آفریدی کا طوفان اور یونس خان کی سنچری ‘ وہ لمحات جو آج بھی زندہ ہیں۔ لیکن آج بھارت ہمیں ہر شعبے میں پیٹ رہا ہے۔ ان کی بیٹنگ لائن، روہت شرما، وراٹ کوہلی، شوبھمن گل جیسے ستارے جو مستقل مزاجی سے کھیلتے ہیں۔ ہماری بیٹنگ؟ ایک دو چار شاٹس اور پھر آل آٹ۔ بولنگ؟ سابقہ بھارت کی طرح جہاں جس پریت بمراہ اور ارشدیپ سنگھ نے ہمارے بیٹسمینوں کو توڑ دیا۔ فیلڈنگ تو ایسی کہ گیندیں ہاتھوں سے پھسل جاتی ہیں۔ یہ سب پی سی بی کی نئی نسل کی سوغات ہے۔ جونیئرز کو موقع دینا اچھا ہے لیکن سینئرز کو نظر انداز کرنا؟ یہ کرکٹ نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے۔کرکٹ کے دیگر حوالوں کی بات کریں تو یاد آتا ہے 1985ء کا پہلا ورلڈ کپ جہاں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو شکست دی لیکن اس سے سبق سیکھا۔ آج ہمیں بھی سبق سیکھنا ہے۔ بھارتی میڈیا تو ہم پر طنز کر رہا ہے لیکن یاد رکھیں، 2009 ء کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جہاں ہم نے انہیں فائنل میں ہرایا۔ وہ لمحہ جہاں عبدالرزاق اور سعید اجمل نے تاریخ رقم کی۔ آج بھی ممکن ہے اگر PCB سنبھل جائے۔اب ذرا بیٹنگ پر بات کریں۔ ایشیا کپ میں ہماری اوپننگ جوڑی نے رنز بھی نہ بنائے۔ جونیئر اوپنرز،جو ڈومیسٹک میں بھی ناکام ہیں انہیں کیوں کھلایا؟ بابر اعظم جن کا سٹرائیک ریٹ 130سے زائد ہے انہیں کیوں نظر انداز کیا؟ رضوان جو 2025ء میں ایک ہزار رنز بنا چکے ان کی جگہ ایک ایسا کھلاڑی جو آخری 10 میچز میں 50رنز بھی نہ بنا سکے۔ یہ سلیکشن کا مذاق ہے۔ بولنگ کا حال تو اور بھی برا۔ نسیم شاہ کو ڈراپ کر دیا جو 2023 ء ورلڈ کپ میں 16وکٹیں لے آئے۔ یہ کیسے ممکن؟ ان کی جگہ ایک ایسا بولر جو لائن لنگتھ بھول گیا ہو۔ بھارت کے بولرز نے ہمیں وکٹیں دیں صرف 120 رنز میں۔ ہرارے کا میچ یاد کیجیے۔
1994 ء کا جہاں وقار یونس اور وسیم اکرم نے بھارت کو دھول چٹائی۔ آج وسیم جیسا کوئی نہیں کیونکہ PCB نے انہیں سنبھالنے کے بجائے سیاست میں الجھا دیا گیا۔فیلڈنگ؟ ایک المیہ۔ ایشیاء کپ میں 7 سے زائد کیچیں ڈراپ، 3 رنز آٹ مس۔ آسٹریلیا دیکھیں جو فیلڈنگ میں کمال کرتے ہیں۔ مچل اسٹارک کی طرح، جو گیند پکڑتے ہی وکٹ لیتے ہیں۔ ہمارے فیلڈرز؟ گیند دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ کوچنگ کا کیا کردار؟ موجودہ کوچ نے کیا کیا؟اب کپتانی پر۔ موجودہ کپتان جس کی فیلڈنگ پلاسمنٹ ہی غلط تھی اسے تو فوری کپتانی سے تایا جائے بلکہ ٹیم سے ہی باہر کیا جائے۔ بابر اعظم جیسا لیڈر جس نے 2021 ء میں نمبر ون ٹی ٹوئنٹی ٹیم بنایا کو واپس لائیں۔ سلیکشن کمیٹی میں سینئرز جیسے مصباح الحق، یونس خان شامل ہوں۔ بابر (کپتان، رضوان )وکٹ کیپر ، فواد شمیر، شاداب خان، نسیم شاہ۔ یہ لائن آپ کو ایشیاء کپ جتوا سکتی تھی۔اب ذرا وسیع نظر ڈالیں۔ پاکستان کرکٹ کی زبوں حالی صرف ایشیاء کپ تک محدود نہیں۔ یاد کیجیے 2023 ء کا ورلڈ کپ جہاں ہم سیمی فائنل تک نہ پہنچ سکے۔ یا 2024 ء کے آئی سی سی ایونٹس جہاں مستقل ناکامیاں۔ بھارت تو اب پی سی بی کی نا اہلی کے باعث کرکٹ کی سپر پاور بنتا جا رہا ہے، آئی پی ایل کی بدولت نئے ٹیلنٹس کی بھرمار۔ آسٹریلیا جو ہمیشہ مستقل رہتا ہے، پٹ کیومنز اور مچل اسٹارک جیسے لیڈرز‘ انگلینڈ‘ بیز بال کی بدولت جارحانہ کھیل۔ اور ہم؟ پی سی بی کی سیاست، کوچز کی تبدیلیاں، کپتانوں کی مسلسل تبدیلی۔ موجودہ کپتان جسکا تو نام بھی لینا مناسب نہیں اور جسکی قیادت میں ٹیم بکھر گئی ہے۔ کپتانی کا عہدہ کوئی مذاق نہیں یہ ذمہ داری ہے۔ نقوی صاحب! آپ کی پالیسیاں پاکستان کرکٹ کو دفن کر رہی ہیں۔ آپ کے دور میں نہ صرف ایشیاء کپ بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ بھی تباہ ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ جہاں سیاست اور افسر شاہی چلتی ہے کرکٹ نہیں۔
کرکٹ ہو یا کوئی اور کھیل یہ بھی قوم کی عزت ہیں۔ آج عزت دائو پر لگ گئی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کی افسر شاہی کا عالم یہ ہے کہ افسران کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔ کام کوئی نہیں بس پیسہ ہی پیسہ‘ یہ وہ ادارہ ہے جو کرکٹ کی ترقی کے لئے بنایا گیا تھا مگر آج یہ محض سفارشی بھرتیوں کا اڈہ بن چکا ہے۔ اکثریت افسران کی جن کی قابلیت صرف سفارش پر مبنی ہے نہ کرکٹ کا علم نہ انتظامی صلاحیت۔ یہ لوگ عہدوں پر براجمان ہیں۔ تنخواہیں لاکھوں میں، مراعات بے حساب، مگر کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ ایشیاء کپ 2025 ء کی ذلت اسی افسر شاہی کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جہاں نہ سلیکشن درست نہ حکمت عملی نہ ہی کوئی جوابدہی۔ یہ افسرا، جن کی سفارش سیاسی گلیاروں سے آتی ہے قومی کرکٹ کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اور قوم بس خاموش تماشائی بنی دیکھ رہی ہے۔