کیا دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو انسانی حقوق کا علمبردار کہا جا سکتا ہے؟ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کی لہر پوری قوت سے ابھری ہے۔ کالعدم گروہ نہتے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گرد حملوں میں عورتیں، معصوم بچے اور بزرگ بھی جانیں گنوا رہے ہیں۔ کیا اس وحشت انگیز سلسلے کو انسانی حقوق کی جدوجہد کہا جا سکتا ہے؟ مروجہ عالمی قوانین اور نظام کے تحت یہ مجرمانہ اقدامات دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جغرافیائی سالمیت کے خلاف اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار پائے گا ۔بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث گروہ کس ایجنڈے پر ہیں؟ یہ گروہ واضح الفاظ میں پاکستان کی جغرافیائی سالمیت ختم کرنے کے در پے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی کالعدم بی ایل اے اور اس کے ذیلی گروہ مجید برگیڈ کو’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا ہے۔ اس اقدام کے رد عمل میں یہ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا پر زہریلا پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ریاست پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کو انسانی حقوق کی جدوجہد قرار دے کر دنیا کی انکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
کمال یہ ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے سوشل میڈیا اکائونٹس دہشت گردی کو انسانی حقوق کی جدوجہد قرار دینے کے لیے اقوام متحدہ کے قوانین کے حوالے استعمال کر رہے ہیں۔ نہتے شہریوں کی جانیں چھیننے کے قبیح فعل کی شدت گھٹانے کے لیے دہشت گردی کو انسانی حقوق کی تحریک قرار دینے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایک جانب کالعدم تنظیمیں دہشت گردی کے ذریعے ریاستی نظام مفلوج کر رہی ہیں تو دوسری جانب نام نہاد قوم پرست تنظیمیں انسانی حقوق کا نقاب اوڑھ کر دہشت گردوں کی وکیل صفائی بنی ہوئی ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی(بی وائی سی) پشتون تحفظ موومنٹ( پی ٹی ایم) اور این ڈی ایم جیسے پریشر گروپس دہشت گردوں کے سیاہ اقدامات سے توجہ ہٹانے کے لیے ریاستی اداروں کے خلاف جبر اور استحصال کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس سمیت فوج اور دفاعی اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ عالمی سطح پر ان فریب کار پریشر گروپس کو بعض مشکوک کوائف کے حامل افراد اور پلیٹ فارمز کی جانب سے بہت پذیرائی دی جارہی ہے۔
اس خطرناک رجحان کی تازہ مثال ناروے میں سامنے آئی ہے۔ نوبل انعام کی نامزدگیوں کے لیے منفی لابنگ کی جا رہی ہے۔ خبر گرم ہے کہ پاکستان میں فساد اور نقص امن پھیلانے کے الزامات کے تحت گرفتار خاتون ڈاکٹر کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کے لیے مشکوک شہرت کے حامل غیر ملکی بہت بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال کالی لگ رہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ناروے میں متحرک جارجن فرائیڈنس پہ یہ منکشف ہوا ہے کہ غفار لانگو کی دختر ڈاکٹر ماہ رنگ کو نوبل انعام دیا جانا چاہیے ۔خاتون ڈاکٹر کی کارکردگی کا خلاصہ محض اتنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کالعدم دہشت گرد گروہ بی ایل اے اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ایجنڈے کی ترویج کے لیے انسانی حقوق کا نقاب اوڑھ کر ریاست پر دشنام طرازی میں محترمہ بہت مہارت رکھتی ہیں۔
نسلی تعصب کا عالم یہ ہے کہ بلوچستان میں بی ایل اے اور مجید برگیڈ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں جانیں گنوانے والے پنجابی مزدوروں کے لیے ان کی زبان سے ہمدردی کا ایک لفظ نہیں نکلا ۔ جن دہشت گردوں کی حمایت اور ہمدردی میں ماہ رنگ اور اس کے سوشل میڈیائی ہرکارے ریاست پاکستان کو گالیاں دیتے ہیں وہ جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ سمیت متعدد سنگین دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں ۔بی وائی سی کے پلیٹ فارم سے انسانی حقوق کا راگ الاپنے والوں نے کبھی دہشت گردی کی مذمت کیوں نہیں کی؟ دہشت گردوں کے خلاف دفاع وطن میں شہید ہونے والوں کو گالیاں دینے والے عناصر کو نوبل جیسے عالمی سطح کے اعزاز کے لیے نامزد کرنا بہت بے اصولی کی بات ہے۔ یہ دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں اور شہدا کے لواحقین کی توہین بھی ہے۔ ماضی میں ماہ رنگ اور جارجن فرائیڈنس کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ایک سطحی سے پریشر گروپ سے دہشت گردوں کی حمایت کرنے والی خاتون کو نوبل جیسے اعزاز کے لیے نامزد کرنے کے بے بنیاد عمل کے پیچھے کیا محرکات کار فرما ہیں؟
کیا جارجن فرائیڈنس نام نہاد ڈاکٹر صاحبہ سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے یہ سرگرمی دکھا رہا ہے یا اس کے ساتھ جڑے لابنگ نیٹ ورک کی ڈوریں پاکستان دشمن عناصر ہلا رہے ہیں؟ ہر دو صورت میں یہ معاملہ مشکوک بھی ہے اور نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والوں کی عالمی ساکھ کو بھی داغدار کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ دہشت گردی کو انسانی حقوق کی تحریک قرار دینے والے عناصر کے مذموم عزائم پر نگاہ رکھنا ضروری ہے۔ بہتر ہوگا کہ دفتر خارجہ، انسانی حقوق کی وزارت اور صوبہ بلوچستان کی حکومت اس معاملے پر نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی کو اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کریں۔