Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے

(گزشتہ سے پیوستہ)
فلسطینی عوام نے اپنے خون سے یہ تحریرلکھی ہے کہ ظلم کے ایوان ڈگمگاتے ضرورہیں اور بالآخریہ سب قربانیاں اب عالمی سطح پرتسلیم کی جانے والی حقیقت بن رہی ہیں۔
برطانیہ میں متعین فلسطینی مشن نے اس فیصلے کوتاریخی قراردیااورکہاکہ یہ لمحہ محض سیاسی اقدام نہیں بلکہ انصاف کی دیرینہ پیاس بجھانے کی طرف ایک قدم ہے۔لیکن دوسری طرف یتن یاہو کی جانب سے اسے دہشتگردی کونوازناکہنادراصل اس خوف کااظہارہے کہ سچائی کی دیواریں اب گرنے کوہیں۔دنیاجان چکی ہے کہ فلسطین کاتسلیم ہوناکسی گروہ کونوازنانہیں بلکہ ایک قوم کے ناقابلِ انکارحق کومانناہے۔دنیانے یہ جان لیاہے کہ ظلم کاتسلسل کسی قوم کوفنانہیں کرسکتا۔جب دنیاکے بڑے ممالک ایک کے بعدایک فلسطین کوتسلیم کرنے لگیں تواسرائیل کے لئے بھی انکاراورہٹ دھرمی کے قلعے کوزیادہ دیرقائم رکھنامشکل ہوجائے گا۔ظلم کاقلعہ کتناہی مضبوط کیوں نہ ہو،جب ضمیرکی فصیلیں اٹھتی ہیں تو دیواریں خودبخود گرنے لگتی ہیں۔
اب اقوام متحدہ کے دروازے پرتاریخ دستک دے رہی ہے۔۱۵۷ممالک کے فیصلے کے بعداقوام متحدہ اوردیگر عالمی اداروں پربھی دبائو بڑھے گاکہ وہ فلسطین کو باضابطہ طورپررکنیت دیں اوراس کے حقوق کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کریں۔ ورنہ دنیایہ سوال اٹھائے گی کہ اگربڑی طاقتیں بھی انصاف کاساتھ دینے لگیں ہیں، اگر بڑی طاقتیں بھی فلسطین کوتسلیم کررہی ہیں تو عالمی ادارے اب تک خاموش کیوں ہیں اورکب جاگیں گے؟؟کیا انصاف کاپرچم صرف قراردادوں میں ہی لہراتارہے گایاکبھی عملی صورت بھی اختیار کرے گا؟اگراقوام متحدہ اب بھی غفلت کی نیندسوئے رہاتواس کاوجودہی سوالیہ نشان بن جائے گا۔
آج کادن صرف فلسطین کے بارے میں نہیں ہے،بلکہ یہ دن برطانیہ کی ذمہ داری کے بوجھ کوسنجیدگی کے ساتھ قبول کرنے کادن بھی ہے۔ گویا تاریخ کاپراناقرض اب اداہونے لگاہے۔یہ دیرینہ مگرناگزیراعلان دراصل اس بات کااقرار ہے کہ برطانیہ نے بالآخر فلسطینی عوام کے ناقابلِ انکارحقِ خودارادیت،آزادی اورخودمختاری سے صرفِ نظر کا خاتمہ کردیا ہے۔آج غیرمسلم دنیانے وہ قدم اٹھایا ہے جوہماری ذمہ داری تھی۔یہ لمحہ ہمیں آئینہ دکھاتاہے اورہماری کمزوریوں کوبے نقاب کرتاہے۔
یہ لمحہ ایک تلخ حقیقت بھی یاددلاتاہے اوریہ فیصلہ ایک تلخ سچ بھی سامنے لاتاہے۔اگرمسلم دنیا متحد، باشعوراورمضبوط ہوتی تو فلسطین کوتسلیم کرنے کا آغاز اوراعلان سب سے پہلے مسلم ممالک کی زبان سے نکلتا، نہ کہ مغربی طاقتوں سے۔مگر افسوس ! ہم اپنی داخلی لڑائیوں میں الجھے رہے،اپنی تنگ نظری کے اسیربنے رہے۔یہ حقیقت ہماری سیاسی کمزوری، داخلی انتشار اورامت کی غفلت کاکھلا ثبوت ہے۔آج اگرہم خوابِ غفلت سے نہ جاگے توکل ہماری تاریخ ہمیں مزیدکڑی سزادے گی۔
فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے کامطلب محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کااعتراف ہے جسے خون کی ندیوں ،آہوں کے بادلوں اورقربانیوں کے طوفان نے رقم کیاہے۔یہ اس بات کااعلان ہے کہ مظلوموں کی آواز،اگرچہ دبائی جائے، مگرایک دن یہ دہائی اپنی سچائی کے ساتھ جلوہ گرہوکررہتی ہے۔
یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پرگہرے اثرات ڈالے گااورخطے کی سیاست میں ایک نئی جنبش پیدا ہو گی۔ اسرائیل پرسفارتی دبا بڑھے گا،امریکاکوبھی اپنی پالیسی میں تبدیلی پرمجبور ہونا پڑے گااوردیگرمغربی ممالک بھی اس صف میں شامل ہونے پرمجبورہوں گے۔خطے میں طاقت کاتوازن بدلنے کی یہ پہلی کرن ہے،اگرچہ راستہ ابھی طویل اورکٹھن ہے۔یہ ابتدائی کرن اگرمسلسل روشنی میں بدل گئی تومشرقِ وسطی میں طاقت کاتوازن بدل سکتاہے،اورفلسطین کواپنے خواب کی تعبیرکے قریب لاسکتاہے۔
برطانوی وزیراعظم کے مطابق غزہ میں انسانوں کاپیداکردہ بحران عروج کوپہنچ چکاہے، اوریہ ظلم اب انسانیت کے ضمیرکو جھنجھوڑرہاہے۔یہ تسلیم دراصل تاریخ کے افق پرطلوع ہونے والی ایک نئی صبح ہے۔ظلم وجبرکے اندھیروں میں امیدکاچراغ جل اٹھا ہے۔مگریہ چراغ صرف اس وقت دائمی روشنی میں بدل سکتاہے جب مسلم دنیا اپنی ذمہ داری پہچانے، جب عالمی ضمیر بیدار رہے، اور جب انصاف کوطاقت پرترجیح دینے کاعہدزندہ رکھا جائے۔
یہ اعلان ایک نئی صبح کااعلان ہے۔ظلم کے اندھیروں میں ایک روشنی کاچراغ جل اٹھاہے۔ مگر یہ چراغ کب شمعِ فروزاں بنے گا؟یہ اس بات پرمنحصرہے کہ مسلم دنیااپنی ذمہ داری کو سمجھے ،عالمی ضمیر جاگتا رہے اورانسانیت کے نام پریہ قافلہ آگے بڑھتارہے۔ فلسطین کااعتراف دراصل انسانیت کے اعتراف کادوسرا نام ہے۔ ان چاروں ممالک کے سربراہوں نے یہ بھی کہاکہ غزہ میں ہونے والے ظلم وستم کے ساتھ ساتھ اب بھوک اورتباہی کے دل دہلا دینے والے مناظرنے انسانیت کوشرمندہ کرکے رکھ دیاہے اوریہ اب ناقابلِ برداشت ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے یہ الفاظ صرف ایک سیاستدان کی تقریرنہیں بلکہ انسانیت کے لہومیں ڈوبی ہوئی صداہیں۔انہوں نے اعدادو شمارپیش کرتے ہوئے کہاکہ دسیوں ہزارافراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں،حتی کہ وہ بھی جومحض روٹی اورپانی کے حصول میں نکلے تھے۔یہ موت اورتباہی کے مناظرہم سب کوخوفزدہ کررہے ہیں،اگرچہ انسانی امدادمیں اضافہ کیاگیاہے لیکن صورتحال اب بھی ناگفتہ بہ ہے،اورکوئی فرد خاطر خواہ امدادنہیں پارہا۔برطانوی وزیراعظم نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحدی پابندیاں ختم کرے، ظالمانہ ہتھکنڈے بندکرے اورانسانی امدادکے دروازے کھول دے۔اس اعلان کے جواب میں کس ڈھٹائی سے نیتن یاہونے کہاکہ اس طرح کے اقدامات دہشت گردی کو نوازنے کے مترادف ہیں۔تاہم برطانیہ نے واضح کر دیا کہ فلسطین کوتسلیم کرنے کامقصدکسی گروہ کونوازنا نہیں بلکہ ایک قوم کے دیرینہ حق کوتسلیم کرناہے۔
ادھر دنیاکی نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت چین بھی کھل کرمیدان میں آگیاہے۔چین نے عالمی برادری سے پرزوراپیل کی ہے کہ وہ فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے حق میں آوازبلند کرے۔یہ اقدام نہ صرف عالمی انصاف کی جانب ایک نشانِ راہ ہے بلکہ مظلوم فلسطینی قوم کے حق خودارادیت کیلئے ایک سنجیدہ واصولی مؤقف کی عکاسی بھی کرتاہے۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں