کوئی سبقت لسانی کے مریض یوٹیوبر ملاں مافیاء کے ٹچر بازوں‘ 450 سے زائد گرفتار گستاخوں اور مرزا جہلمی کے سہولت کاروں کو بتائے کہ تم گستاخوں کی سہولت کاری اور گستاخیوں کو پرموٹ کرکے ہم سے زندگی کا آخری سہارا بھی چھین لینا چاہتے ہو؟ سنو! ہم گنہگار ضرور ہیں لیکن طاغوت کے کسی پجاری کو خاتم الانبیاء آقا و مولیٰﷺکی شان اقدس میں ادنی سے ادنی گستاخی کی اجازت بھی نہیں دے سکتے، حضرت محمد کریم ﷺکی محبت ہر سچے مسلمان کی زندگی کا حاصل ہے‘ اگر کوئی ڈالر خور بے غیرتوں کا گروہ سید الانبیاءﷺکی ناموس پر ’’جری‘‘ ہونے کی کوشش کرے گا بھلے وہ ملاں، مفتی،سکالر،حتیٰ کہ سیاست دان اور حکمران ہی کیوں نہ ہو، ہم اس کی طاقت،شوکت و حشمت کو جوتے کی نوک پر رکھیں گے اور اس بدمعاش کو ہر قیمت پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ قانون ناموس رسالت 295 سی کے ’’شفاف آئینے‘‘ میں اپنے چہرے پہ لگے ’’سبقت لسانی‘‘ کے داغ صاف کرنے کی بجائے اگر ملاں مافیاء گینگ کا کوئی یوٹیوبر قانون ناموس رسالت295C کو شدت پسند مولویوں کے ساتھ نتھی کرنے کی واردات کرے گا تو تعاقب اس کا بھی جاری رہے گا، ان شااللہ ‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ کل کے لونڈے لپاڑے یو ٹیوبر اور سوشل میڈیا کے نخچیروں کو ڈاڑھی ،پگڑی ،ٹوپی اور چرب زبانی کی آڑ میں ناموس رسالت ؐپر حملہ آور ہونے کی اجازت دے دی جائے ،پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے،سوشل میڈیا کی یہودی زمین کو ناموس رسالتؐ کے خلاف استعمال کرنے والوں پر پاکستان کی سرزمین تنگ پڑ جائے گی ،ہر چرب زبان یوٹیوبر اور سوشل میڈیا کا گمراہ فکر ایکٹوسٹ ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ و اہلبیتؓ کے حوالے سے اپنی زبان اور انگلیوں کو قابو میں رکھے،یہ عجیب بات ہے کہ سوشل میڈیا پر ناموس رسالتؐ پر بھونکنے والی لمبی زبانوں کو جب قانون کے شکنجے میں کسا جاتا ہے تو پھر گمراہ فکر شیطانوں کی چیخیں آسمانوں سے باتیں کرتی ہیں،ان گمراہ فکر عناصر نے پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ رکھا ہے کہ یہ اپنی تقریروں اور انٹرویوز میں مقدس ترین ہستیوں کے خلاف جو مرضی بکتے رہیں اور انہیں کوئی ہو چھنے والا بھی نہ ہو ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟خاتم الانبیاءﷺ آپ کے صحابہ کرامؓ اور اہل بیت ؓ عظام کی عزت و ناموس کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا ، کسی مولوی ، مفتی ذاکر، شیخ الحدیث ،سیاست دان،جرنیل ،اسکالر، اینکر ،دانشور،خطیب،ادیب،مجتہد اور حکمران کی عزت، ناموس رسالت و ناموس ؐصحابہؓ واہل بیتؓ سے بڑھ کر نہیں ہے،اس لئے ہر ایک کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ ناموس رسالت ؐو ناموس صحابہؓ کے حوالے سے اپنی زبان اور انگلیوں کو قابو میں رکھے ،وگر نہ پھر کوئی جتنا چاہے چیخے ، چلائے یا سیاپا ڈالے،قانون اپنا راستہ ضرور لے گا۔
اس موقع پر اختر شیرانی یاد آے، فرنگی سامراج کے باغی برصغیر کے عظیم شاعر ، قابل فخر ایڈیٹر اور خطیب و ادیب آغا شورش کاشمیری نور اللہ مرقدہ اختر شیرانی کے بارے میں لکھتے ہیں:
لاہور کے کسی مشہور ہوٹل کی ایک محفل میں بعض کمیونسٹ نوجوانوں نے، جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں شراب کی چڑھا چکے تھے، پورے بدن پر رعشہ طاری تھا، الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے، لیکن انا کا یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ بات نکلی تو فرمایا: مسلمانوں میں اب تک صرف تین ہی جینئس گزرے ہیں: ابوالفضل، غالب اور ابوالکلام آزاد۔ شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہم عصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھا، اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے۔ نوجوانوں نے فیض کا نام لیا، تو بات ٹال دی۔ جوش کے بارے میں کہا‘ وہ ناظم ہے۔ سردار جعفری کا ذکر آیا، مسکرا دئیے۔ فراق کا تذکرہ چھیڑا گیا، ہونہہ ہاں کر کے خاموش ہو گئے۔ ساحر لدھیانوی سامنے بیٹھا تھا، فرمایا:
مشق کرنے دو۔ ظہیر کاشمیری پر بس اتنا کہا‘ نام سنا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کے بارے میں کہا‘ میرا شاگرد ہے۔ کمیونسٹوں نے جب دیکھا کہ وہ ترقی پسند تحریک کے بھی منکر ہیں تو سوال کا رخ موڑ دیا۔ کسی نے افلاطون، سقراط، ارسطو کے بارے میں رائے چاہی۔ شیرانی اس وقت اپنے موڈ میں تھے، فرمانے لگے‘ پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں۔ یہ افلاطون، ارسطو یا سقراط آج ہوتے، تو ہمارے حلقہ میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔اسی دوران ایک نوجوان نے بڑی دلیری سے سوال کیا‘ آپ کا محمد ﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس سے آگے آغا شورش کاشمیری کے قلم سے ہی ملاحظہ کیجئے:
اللہ اللہ! ایک شرابی، جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ کہنے لگے، بدبخت!ایک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے۔ ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا، ایکا ایکی رونا شروع کیا گھگھی بندھ گئی۔ پھر فرمایا بدبخت! تم نے اس حال میں یہ نام کیوں لیا، تمہیں یہ جرات کیسے ہوئی؟ گستاخ، بے ادب!’’باخدا دیوانہ باش و با محمدؐ ہوشیار‘‘اس شریر سوال پر توبہ کرو، میں تمہارا خبث باطن سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہوگئے، اس نوجوان کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے، اسے مجلس سے اٹھوا دیا، پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے، کہتے تھے کہ یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنانا چاہتا ہے اور پھر اسی تڑپ میں یہ اشعار پھوٹے:
مسند نشین عالم امکاں تمہیﷺ تو ہو
اس انجمن کی شمع فروزاں تمہیﷺ تو ہو
صبح ازل سے شام ابد تک ہے جس کا نور
وہ جلوہ زار حسن درخشاں تمہی تو ہو
دنیائے ہست و بود کی زینت تمہی سے ہے
دونوں جہاں کے والی و سلطاں تمہی تو ہو
تم کیا ملے کہ دولت ایماں ملی ہمیں
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایماں تمہی تو ہو
دنیا و آخرت کا سہارا تمہاری ذات
دونوں جہاں کے والی و سلطاںﷺ تمہی تو ہو
اختر کو بے نوائی دنیا کی فکر کیا
ساماں طراز بے سر و ساماں تمہی تو ہو