Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اسلامی ممالک کی فوج بمقابلہ گستاوو کی عالمی فورس

گستاوو پیٹرو کا سفر بندوق سے بیلٹ باکس تک لاطینی امریکہ کی سیاسی تاریخ کا ایک انوکھا اور متاثر کن باب ہے۔ پیٹرو کی کہانی طاقتور اشرافیہ اور سماجی عدم مساوات کے خلاف ایک شخص کی مسلسل بغاوت کی عکاسی کرتی ہے۔ پیٹرو کا جنم 1960ء میں ہوا اور ان کی نوجوانی کا زمانہ کولمبیا کی شدید سیاسی بے چینی اور عدم مساوات کا دور تھا۔ محض 17برس کی عمر میں وہ ملک کی شہری گوریلا تحریک (M-19) میں شامل ہو گئے جہاں انہیں اوریلیانو کا کوڈ نام ملا۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ ایک خواب کے پیچھے تھے کولمبیا میں طبقاتی نظام کا خاتمہ اور غریبوں کو ان کے حقوق دلانا۔ انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت خفیہ طور پر گزارا اور یہی دور ان کی زندگی کی سب سے بڑی جدوجہد کا آغاز تھا۔ 1985ء میں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور وہ کئی ماہ جیل میں رہے جہاں ان پر تشدد بھی ہوا۔ جیل کی زندگی نے ان کے نظریات کو مزید پختہ کیا اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ حقیقی تبدیلی کا راستہ تشدد نہیں بلکہ جمہوریت ہے۔ اس کے بعد 1990ء میں جب -19 Mتحریک نے ہتھیار ڈال کر ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کی تو پیٹرو نے بھی اپنے مستقبل کا راستہ بدل لیا۔سیاسی میدان میں قدم اور جدوجہدمسلح جدوجہد کو خیرباد کہنے کے بعد، پیٹرو نے منتخب سیاست میں قدم رکھا۔ وہ بطور ممبر پارلیمنٹ، سینیٹر، اور پھر 2015 ء سے 2012 ء تک بوگوٹا کے میئر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ میئر کے طور پر ان کے اقدامات نے انہیں ملک کے قدامت پسند اشرافیہ کے مدمقابل کھڑا کر دیا۔ بحیثیت سینیٹر انہوں نے بدعنوانی کے خلاف ایک موثر آواز بن کر کام کیا جس کی وجہ سے انہیں کئی بار انتقامی کارروائیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کولمبیا کی روایتی سیاسی طاقتیں انہیں ایک خطرہ سمجھتی تھیں اور ہر ممکن طریقے سے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہیں۔
پیٹرو نے کئی صدارتی انتخابات میں حصہ لیا مگر ہر بار انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ان کی مسلسل ہار اور پھر 2022 ء میں ان کی تاریخی فتح کولمبیا میں ایک عوامی انقلاب سے کم نہیں تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ کولمبیا کی روایتی سیاسی طاقت کو ایک بائیں بازو کے رہنما نے عوامی ووٹ کی طاقت سے شکست دی۔ صدر بننے کے بعد پیٹرو نے “Total Peace” یعنی مجموعی امن کے ایجنڈے کا اعلان کیا جس کا مقصد تمام گوریلا گروہوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ملک کو دیرپا امن کی راہ پر لانا ہے۔ گستاوو پیٹرو کی کہانی ایک انقلابی کے ایک جمہوری لیڈر بننے کی کہانی ہے سماجی انصاف کا مقصد اب بھی اس کی سیاست کا مرکز ہے۔اس سے بڑا عجوبہ کیا ہو گا کہ ایک عیسائی صدر، ایک لاطینی امریکی لیڈر، ایک کیتھولک جو کبھی باقاعدہ چرچ نہیں گیا فلسطین کے درد کو اپنا درد سمجھے اور اس کی آواز نیویارک کے ایوانوں سے لے کر غزہ کی گلیوں تک گونجے جبکہ اسلامی دنیا کے باوقار حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ گستاوو پیٹرو کولمبیا کا وہ صدر جو کوئی مسلمان نہیں مگر جس کا دل فلسطین کے مظلوموں کے لیے دھڑکتا ہے نے وہ آواز اٹھائی جو57اسلامی ممالک کے سربراہان کو اٹھانی چاہیے تھی۔ یہ شخص جو ایک عظیم لیڈر ہے، انسانیت سے محبت کرتا ہے، فلسطینیوں سے پیار کرتا ہے اور اس نے وہ جرات دکھائی جو ہمارے اپنے حکمرانوں کے اندر کہیں گم ہو چکی ہے۔تصور کیجیے نیویارک کا وہ منظر جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باہر ہزاروں فلسطین کے حامی مظاہرین جمع ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز، ان کی آنکھوں میں غزہ کے بچوں کی چیخیں اور ان کے سینوں میں وہ آگ جو اسرائیلی جارحیت کے خلاف شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ اسی ہجوم میں کھڑا ہے گستاوو پیٹرو جس کی جوانی غوریلا جنگوں میں گزری، جس نے استعمار کے خلاف لڑائی لڑی اور جو آج فلسطین کے لیے ایک عالمی فورس بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کی آواز گرجتی ہے اور وہ کہتا ہے سفارت کاری ختم ہو چکی ہے۔ اب وقت ہے ایک عالمی فورس کاجو امریکی فوج سے بھی بڑی ہو، جو فلسطین کی آزادی کے لیے لڑے۔ وہ امریکی فوجیوں سے کہتا ہے ٹرمپ کے احکامات کو ٹھوکر مارو، انسانیت کے لیے بندوقیں اٹھا۔ یہ الفاظ کوئی سیاسی بیان نہیں یہ ایک عظیم لیڈر کا اعلان جنگ ہے۔ایک ایسی جنگ جو ظلم کے خلاف لڑی جاتی ہے چاہے وہ فلسطین میں ہو یا کولمبیا کی سرحدوں میں۔پیٹرو کوئی مسلمان نہیں۔ وہ ایک کیتھولک عیسائی ہے جس کا دل آزادی کی تھیالوجی سے جڑا ہے جو غریبوں اور مظلوموں کے لئے لڑتی ہے۔ مگر اس نے وہ کیا جو اسلامی دنیا کے سربراہان نہ کر سکے۔
26 ستمبر 2025ء کو جب اس نے نیویارک میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی تو اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی ٹرمپ کو براہ راست للکارا اور بولا تم فلسطینیوں کے خون کے ذمہ دار ہو، اس نے کہا تمہاری پالیسیاں نسل کشی کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ امریکی وفد اس کی بات سننے کی ہمت نہ رکھ سکا اور اجلاس چھوڑ کر بھاگ گیا۔ پیٹرو نے مزید کہا امریکہ کی کارروائیاں جیسے کیریبین میں منشیات کے نام پر حملے محض استعمار کا نیا روپ ہیں۔ ان حملوں میں 14بے گناہ مارے گئے جن میں کولمبیائی بھی شامل تھے۔امریکہ نے فورا ردعمل دیا۔ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایکس پر پوسٹ کیا‘ پیٹرو کے اشتعال انگیز بیانات ناقابل قبول ہیں۔ اس کا ویزا منسوخ کیا جاتا ہے۔ مگر پیٹرو نے بوگوٹا واپس پہنچ کر کہا کہ میں ایک آزاد انسان ہوں کولمبیائی ہوں، یورپی شہری ہوں۔ میری رائے کو کوئی ویزا منسوخی دبا نہیں سکتی۔ یہ الفاظ محض ایک لیڈر کے نہیں بلکہ ایک ایسی روح کے ہیں جو ظلم کے سامنے جھکتی نہیں۔اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف گستاوو کی عالمی فورس کے مقابلے میں اسلامی ممالک کی فوج کہاں کھڑی ہے؟ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے 57ممالک ہیں جن کی مشترکہ آبادی دو ارب سے زیادہ ہے۔ ان کے پاس وسائل ہیں فوجی طاقت ہے، دولت ہے۔ مگر جب بات فلسطین کی آتی ہے تو یہ سب خاموش کیوں ہیں؟ او آئی سی کے پاس ایک اسلامی فوج بنانے کی صلاحیت ہے جو سعودی عرب، ترکی، ایران، پاکستان جیسے ممالک کے فوجی دستوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ مگر کیا ہم نے کبھی دیکھا کہ یہ ممالک مل کر فلسطین کے لئے ایک قدم اٹھائیں؟ نہیں۔ جب غزہ میں 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب بچوں کے جسم بموں سے چھلنی ہیں تو اسلامی ممالک کے سربراہان نیویارک میں نیتن یاہو سے ہاتھ ملاتے ہیں معاہدات کرتے ہیں، تجارت کی باتیں کرتے ہیں۔ شرم انہیں چھو کر بھی نہیں گزری۔یہ وہی نیتن یاہو ہے جس نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر کہا کہ ہم اپنا کام مکمل کریں گے۔ یعنی نسل کشی کو مکمل کریں گے۔ یہ وہی نیتن یاہو ہے جس کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہیں۔ مگر عرب کے کچھ حکمران اس سے معاہدات کر رہے ہیں جبکہ ایک عیسائی صدر گستاوو پیٹرو فلسطین کے لئے عالمی فورس کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ ایک شرمناک تضاد ہے۔ اسلامی ممالک کی فوج، جو کاغذوں پر طاقتور ہے اورعملی طور پر فلسطین کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔
پیٹرو جو ایک عیسائی ہے شاید نہیں جانتا کہ او آئی سی کے پاس ایک فوجی اتحاد کی صلاحیت ہے۔ مگر وہ یہ ضرور جانتا ہے کہ انسانیت کا درد کیا ہوتا ہے۔ اس نے کولمبیا میں جہاں امریکی مداخلت نے برسوں سے خون بہایا یہ سیکھا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہی واحد راستہ ہے۔ اس نے رام اللہ میں سفارت خانہ کھول دیا، اسرائیلی ہتھیاروں کی خریداری بند کر دی۔ یہ سب وہ اقدامات ہیں جو اسلامی ممالک کو کرنا چاہیے تھے۔ مگر ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟ وہ اپنی کرسیوں کو بچانے میں مصروف ہیں اپنی دولت کے ڈھیر بڑھانے میں لگے ہیں۔پیٹرو کی تجویز کردہ عالمی فورس ایک خواب ہے مگر یہ حقیقت بن سکتی ہے اگر اسلامی ممالک اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ ایک اسلامی فوج جو او آئی سی کے تحت بنے، جس میں ترکی کی جدید فوج، ایران کی استقامت، پاکستان کی ایٹمی طاقت، اور سعودی عرب کے وسائل شامل ہوں فلسطین کو آزاد کروا سکتی ہے۔ مگر اس کے لئے ہمت چاہیے، اتحاد چاہیے اور سب سے بڑھ کر ایمان چاہیے۔پیٹرو نے جو آگ لگائی ہے اسے اسلامی دنیا کو سلگتے رکھنا ہے۔ وہ ایک نان مسلم ہے مگر اس کا دل فلسطینیوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے دل کیوں نہیں دھڑکتے؟ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل سے معاہدات کر کے وہ فلسطین کا درد بھلا دیں گے؟ یہ صلیبی جنگیں ہیں جیسا کہ پیٹرو نے کہا۔ اسرائیل اپنے مسیحا کا انتظار کر رہا ہے، امریکہ اور یورپ عیسائی صلیبی جذبے سے بھرے ہیں، ہندوستان اپنا اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا ہے۔ اور یہ سب مل کر مسلمانوں کے خلاف متحد ہیں۔ مگر ہمارے حکمران اب بھی سمجھتے ہیں کہ سفارت کاری سے یہ جنگ جیت لیں گے۔ یہ ممکن نہیں۔وہ وقت آ گیا ہے کہ اسلامی ممالک ایک فوج بنائیں جو نہ صرف فلسطین بچائے بلکہ عالمی نظام کو یہ پیغام دے کہ ہم اب جھکیں گے نہیں۔ گستاوو پیٹرو نے وہ کردار ادا کیا جو ہمارے لیڈروں کا تھا۔ اس کی آواز نے امریکہ کو ہلا دیا، نیتن یاہو کو بے نقاب کیا۔ اب ہماری باری ہے۔ اگر ہم نے اب اتحاد نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ فلسطین ہمارا امتحان ہے اور گستاوو پیٹرو نے ہمیں آئینہ دکھا دیا۔ اب وقت ہے کہ اسلامی فوج اٹھے ورنہ یہ درد ہم سب کو لے ڈوبے گا۔ فلسطین زندہ باد!

یہ بھی پڑھیں