پاکستان میں سات دہائیوں کے دوران شروع ہونے والی قوم پرست ، نسل پرست یا کسی بھی تعصب کے تحت اٹھنے والی تحاریک کے تناظر میں کسی بھی نئے فتنے کو سمجھنا قطعی مشکل نہیں رہا ، کیونکہ عیار دشمن کے فٹ پرنٹ اس کی مخصوص علامات کے ساتھ ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ماضی قریب میں سب سے اہم پشتون تحفظ موومنٹ کی مثال دی جا سکتی ہے، جو اپنی ابتدا میں معصومانہ نعروں عوامی دلچسپی کے اشوز کو لے کر اٹھی ، عوام کے دل ودماغ میں پنپتے غصے کو استعمال کیا ،دعویٰ کیا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ،اور جلد ہی وہ ایک قوم پرست اور ملک دشمن بیانیہ کے ساتھ سامنے آگئی ، یہاں تک کہ پاکستان کے پرچم سے نفرت اور پشتونستان کے پرچم کی پرستش افغان قوم پرستوں سے قربت اور پاکستان کے دشمن ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے لئے سہولت کاری اس طرح سے عیاں ہوئی کہ پوری قوم نے دیکھا یہ قوم پرست باقاعدہ بھارت اور غیر ملکی لابنگ سے تیار کیے گئے تھے اور اشرف غنی کے ذریعے پالا جا رہا تھا۔ اشرف غنی کے اقتدار سے جاتے ہی یہ سب غائب ہو گئے اور آج ان قوم پرستوں کی اکثریت نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے وجہ کوئی سیاسی اتفاق رائے نہیں پاکستانی فوج اور ملک کے خلاف ایجنڈا ہے ۔ ایک دوسری مثال بلوچ یکجہتی کونسل کی ہے ، جس نے لاپتہ افراد کے معاملے کو انسانی المیہ بنا کر پیش کیا ، ابتدا میں خود کو غیر سیاسی ظاہر کیا۔ اپنی باتوں میںکبھی یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کا اصل چہرہ سامنے آگیا۔کشمیر کی ایکشن کمیٹی بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے ، بظاہر یپہ کچھ سال قبل قائم کی گئی ، وجہ مقامی نوعیت کے عوامی مسائل تھے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی نام سے ایک تنظیم 1965 میں بھی قائم کی گئی تھی ، لیکن اس پر پابندی لگا دی گئی ، کیونکہ اس کی سرگرمیاں عین یہی تھیں، یعنی پاکستان دشمنی ۔
ا ن دوسال پہلے کمیٹی کا در اصل یہ دوسرا جنم تھا ، شروع میں انہوں نے کشمیری عوام کے ذہن خراب کرنے شروع کیے کہ آپ کا سب کچھ پاکستان کھا جاتا ہے، آپ کو آپ کا حق نہیں ملتا، بجلی کے بل چار روپے فی یونٹ ہونے چاہئیں اور آٹا آپ کو دو روپے کلو ملنا چاہیے۔ اسی بات کو بنیاد بنا کر انہوں نے احتجاج کا آغاز کیا، انہیںروز اول سے کشمیر میں پی ٹی آئی کی حمائت حاصل رہی ہے ، بلکہ پس منظر میں قوت محرکہ پی ٹی آئی تھی، جو 9 مئی جیسا رد عمل دے رہی تھی ، لیکن عوام کو گمراہ کرنے کی خاطر نام حقوق کا رکھا گیا ۔ اُس وقت پاکستان سخت معاشی بحران سے گزر رہا تھا اور عمران خان مسلسل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا تھا، کرنسی گر رہی تھی لہٰذاحالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے فیصلہ کیا کہ جہاں پاکستان پہلے ہی کشمیر کے لیے بہت کچھ کر رہا ہے تو مزید حصہ ڈال دیا جائے۔پاکستان کے وفاقی بجٹ سے21 ارب روپے آزاد کشمیر کو دے دیے گئے، جس کی وجہ سے کشمیری عوام کو بجلی چار روپے فی یونٹ اور آٹا بھی انتہائی سبسڈی پر مل رہا ہے، جبکہ اس کا براہِ راست اثر پاکستان کے عوام پر پڑتا ہے جن کے ٹیکسوں کا پیسہ کشمیر کو دیا جا رہا ہے۔حیرت یہ ہے کہ نام نہاد کمیٹی والوں نے اس پر پاکستان کو گالیاں دینے اور مطالبات کی منظوری کو اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا، اور اسی زعم میں یہ لوگ پرتشدد احتجاج پر اتر آئے ہیں ، جس کے پس منظر میں پاکستان مخالف عناصر کی مکروہ شبیہ واضح دکھائی دے رہی ہے ۔ آٹے بجلی سے شروع ہونےوالی یہ تحریک اب نہ صرف پاکستان بلکہ خود کشمیریوں کے حقوق پر حملہ آور ہو چکی ہے ۔ جن میں مقبوضہ کشمیر سے لٹ پٹ کر ہجرت کرنےوالے مہاجرین کی12 نشستوں کو ختم کرنا سرفہرست ہے ۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی مٹائی جا سکے۔ یہ رویہ دنیا بھر کے قوم پرستوں کے برعکس ہے، کیونکہ دنیا بھر میں قوم پرسے نمائندگی مانگتے ہیں یہ نام نہاد نیشنلسٹ خود ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام کا حق چھیننا چاہتے ہیں۔دوسری اہم بات یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی چھیننے کا شور وغوغا عین اس دن اٹھایا گیاجب وزیرا عظم پاکستان اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے جا رہے تھے ۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیانات اور اس کمیٹی کے اقدامات اورا علانات کی ٹائم لائن کو چیک کرلیا جائے تو کوئی شبہ نہیں رہتا کہ اس تمام ہنگامہ آرائی کا مقصد عوامی حقوق نہیں پاکستان کے عالمی مؤقف کو کمزور کرنا اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی علامت کو مٹانا ہے۔ بھارتی وزرا، خاص طور پر راجناتھ سنگھ کے بیانات سامنے آئے کہ بھارت جنگ کے بغیر ہی آزاد کشمیر کو حاصل کر لے گا۔ یہ کھلا ثبوت ہے کہ بھارت کس سمت حالات کو لے جانا چاہتا ہے۔
یہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ایجنٹ خصوصا ً بی جے پی کے لوگ اس کمیٹی کی حمائت میں نہ صرف پیش پیش ہیں بلکہ اس کی پاکستان دشمن نعروں پ مشتمل ویڈیوز کو باقاعدہ پھیلارہے ہیں ، سوال تو یہ بھی اہم ہے کہ اگر کشمیر میں انٹرنیٹ بند ہے تو ایک ایک چیز کی ویڈیو کیسے آرہی ہے؟تین ہی راستے ہیں۔اول یہ کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ لیکن وہ اتنا تیز نہیں ہوتادوسرا یہ کہ ریکارڈ کرکے باہر جائے اس صورت میں لائیو نہیں چل سکتی، جو کہ یہ چلا رہے ہیں،آخری آپشن جو ممکن ہے وہ بھارتی سم اور نیٹ ورک ✅ ہے ، جسے ہم مقبوضہ کشمیر میں دیکھ اور سمجھ رہے ہیں ۔ بھارتی قبضے والے کشمیر کے عوام اس باریک واردات پر کسی ابہام کا شکار نہیں ، واضح طور پر سمجھ رہے ہیں کہ اس تمام ہنگامے کے پس منظر میں کون ہے اور اس کا مقصد کیا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ سب مقبوضہ کشمیر کی پاکستان میں نمائندگی ختم کرنے کے لئے ہو رہا ہے۔ یہ سارا فساد مقبوضہ کشمیر کی 12 سیٹیں ختم کرنے کے لئے ہے۔سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیرکی نشستیں ختم کرنا حق مانگنا ہے یا کشمیری کا حق چھیننا ہے؟پاکستان یا آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر کا تعلق ختم کرنا ، اور آزاد کشمیر کو پاکستانی مقبوضہ کشمیر کہنا کس کا ایجنڈا ہے ؟ ہم کشمیریوں سے بہتر کون جان سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ راج ناتھ سنگھ تو ان کی حمائت کر سکتا ہے ، کسی کشمیری کا کوئی بیان ان کی حمائت میں دکھائی نہیں دے گا ۔