احتجاج جمہوریت کا حسن اسوقت تک سمجھا جاتا ہے کہ جب تک وہ فتنے میں تبدیل نہ ہو،کشمیر میں پیر کے دن سے جاری احتجاج اپنے پہلے ہی دن ایک نوجوان کی جان لے گیا،جبکہ متعدد زخمی اس کے علاہ ہیں اور اب وہاں ہو کیا رہا ہے،ہمارے ایک صحافی دوست ضیاء الرحمن کشمیری کے مطابق، آزاد کشمیر میں ایک فریق دوسرے سے کہہ رہا ہے ’’تم قاتل ہو، تم غدار ہو، تم ایجنٹ ہو، تم سہولت کار ہو، تم منافق ہو‘‘دوسرا فریق بھی پہلے فریق کو کہہ رہا ہے کہ ’’تم باغی ہو، تم را کے ایجنٹ ہو، تم فسادی ہو، تم انتشاری ہو، تم نمک حرام ہو، تم قاتل ہو، تم غدار ہو، تم وطن فروش ہو‘‘ذرا غور کریں کہ یہ دونوں فریق کشمیری ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف اپنا دماغی توازن تک کھو چکے ہیں۔ دونوں فریقوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ ان کے پرامن دیس کا حشر نشر ہوگیا ہے اور شریک دنیا ان کا تماشا دیکھ رہی ہے اور ہنس رہی ہے۔ کیا کسی کو دکھائی نہیں دے رہا کہ چند مہینوں میں کتنی مہارت سے کسی نے سب کشمیریوں کو باہم دست گریبان کر دیا ہے؟ کیا کسی کی فہم اتنی بھی نہیں رہی کہ وہ اس سازش اور فتنے کو سمجھ سکے؟ ایک دوسرے کو گالیاں دے کر، ایک دوسرے کے خلاف گولیاں چلاکر، ایک دوسرے کو غدار کہہ کر، ایک دوسرے کو سہولت کار اور ایجنٹ کہہ کر آپ لوگ کس کے نقشوں میں رنگ بھر رہے ہیں؟
آزاد کشمیر میں جو کچھ بھی چل رہا ہے وہ ایک کھلا فتنہ ہے اور اس فتنے کو پروان چڑھانے والے دونوں دھڑوں کے رہنما ہیں جو اپنے اپنے ایجنڈے پر چلتے ہوئے آزاد کشمیر کے امن کو تباہ کروا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا کہ فتنہ، قتل سے بھی زیادہ خطرناک اور برا ہوتا ہے۔ کاش میرے کشمیر کے لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ کسی بھی قوت کے ہاتھوں استعمال ہونے کی بجائے اس فتنے سے باہر نکل آئیں۔ کاش یہ دو طرفہ فتنہ اپنی موت آپ مرجائے۔ کاش کشمیر کے پر امن لوگوں کو تشدد کے راستے پر ڈالنے والے مجرموں کا حشر عبرت ناک ہو۔ کاش میرے کشمیر کا امن پھر لوٹ آئے۔ کاش اے کاش۔ یاد رکھیئے!احتجاج اگر فتنہ بن جائے تو پھر نہ قتل کرنے والے کو پتہ چلتا ہے کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے اور نہ ہی مقتول کو سمجھ آتی ہے کہ اسے کیوں قتل کیا گیا‘وزیر اعظم آزاد کشمیر سمیت کشمیر کے حکومتی وزیر ،مشیر اور سیاست دان کہاں ہیں؟وہ کشمیری عوام میں جانے سے ڈرتے کیوں ہیں؟کشمیری عوام کے سروں پر مراعات اینٹھنے والا طبقہ اشرافیہ پر آج اگر کشمیری عوام اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس میں کس کا قصور ہے ؟کہیں نریندر مودی کے خرکاروں نے بھی پخ ماری ہوگی،لیکن کشمیر کی حکومت اور کشمیری سیاست دانوں پہ عوام کے عدم اعتماد میں تو مودی کا کوئی ہاتھ نہ ہے، مظفرآباد میں خون بہہ رہا ہے،کشمیری وزیر ،مشیر اور سیاست دان کیا اسلام آباد میں انڈوں پر بیٹھے ہیں کہ جو اس موقع پر کشمیری عوام سے دور ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے آزادکشمیر کی مختلف جامعات کے طلباء سے خطاب میں کہا ہے کہ اگر ریاست ٹیکس نہیں لے گی تو مراعات اور تنخواہیں کیسے دے گی؟ احتجاج حق ہے مگر انتشار سے معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے 15ستمبر کو پلندری میں آزاد کشمیر کی مختلف جامعات کے طلباء اور اساتذہ کے سوالات کے جوابات دئیے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ سوال جواب کے چند حصوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی کی توڑ پھوڑ کی سیاست سے متعلق طلباء کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں سیاسی سسٹم ہے جو کام کر رہا ہے، آزاد کشمیر میں تمام اشاریے بشمول تعلیم‘ صحت اور انفرااسٹرکچر بہت بہتر ہیں، اگر ریاست ٹیکس نہیں لے گی تو مراعات اور تنخواہیں کیسے دے گی۔
آزاد کشمیرکے30 فیصد سے زائد لوگ سرکاری نوکری کرتے ہیں، احتجاج حق ہے مگر انتشار سے معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اللہ نے کشمیرکو بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے، پاکستان کا خواب دیکھنے والے کا تعلق بھی کشمیر سے تھا، فوج میں متعدد افسران اور جوان کشمیری ہیں، کشمیر کا مستقبل ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں مہنگائی کی شرح کم ہے، بجلی اور آٹا سستا ہے، اگر آپ کے لوگوں کے مسائل ہیں تو سسٹم میں آئیں بات چیت کریں، 300 ارب کے بجٹ میں سے150ارب تنخواہوں اور پنشنز میں جاتے ہیں، سرکار نے اگر تنخواہ دینی ہے تو ٹیکس لینے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیرپھل لگا کر پورے خطے کو پھل فراہم کرسکتا ہے، کشمیر تو دینے والا ہاتھ بنے گا،کشمیریوں کے ہر مسئلے کو حل کرسکتے ہیں، بجلی اور آٹا سستے ہونے کا فائدہ کیاعوام کو پہنچا ہے، جن لوگوں نے آٹا ‘بجلی ‘سستی کرائی وہ آگے لوگوں تک پہنچائیں،کئی سطح پر بات چیت سے مسئلے حل ہوں گے، پاکستان اور آزاد کشمیر کے مسائل اور ان کے حل مشترکہ ہیں، وسائل بڑھانے کے لئے آئی ٹی، منرلز، زراعت، اے آئی اور کرپٹو میں کام ہو رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں دو لیفٹیننٹ جنرل، میجر جنرل کشمیر سے ہیں، تنقید اور احتجاج حق ہے لیکن عدم استحکام پیدا کرنے کی قیمت پر نہیں، اگر آپ احتجاج بند کرکے محبت امن کے ساتھ بلائیں توپاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگ آئیں گے۔