جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے مبینہ 21نکاتی امن پلان کا اعلان کیا تو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے اتنی تیزی سے تسلیم کیا کہ جتنی تیزی سے ماں اپنے روتے بچے کو دودھ بھی نہیں پلاتی۔ ٹرمپ کا اعلان ابھی ٹھنڈا بھی نہ ہوا تھا کہ شریف صاحب نے ٹویٹ کر دیا کہ یہ امن کی طرف ایک بڑا قدم ہے!سوال یہ ہے کہ یہ قدم کس کی طرف ہے؟ فلسطینی بھائیوں کی طرف یا اسرائیلی قبضہ گروں کی طرف؟ قوم کی رگوں میں شبہات کی لہریں دوڑ رہی ہیں اور یہ شبہات خالی نہیں یہ ٹرمپ کے پلان کی اندرونی حقیقتوں پر مبنی ہیں جو فلسطینی حقوق کی تباہی کا نقشہ ہیں۔ٹرمپ کا یہ پلان جو غزہ کو ٹیرر فری زون بنانے کا دعویٰ کرتا ہے دراصل ایک ایسا جال ہے جس میں فلسطینیوں کی آزادی کو پھنسایا جائے گا۔ اس کے 21 نکات میں سے کئی ایسے ہیں جو انسانی ہمدردی کے پردے میں لپٹے ہوئے ہیں مگر اندر سے اسرائیلی غلبے کی بو آ رہی ہے۔ پہلا نکتہ غزہ میں فوری جنگ بندی مگر حماس کو مکمل ختم کر دیئے جانے کی شرط پر۔ نیتن یاہو جو 64 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قاتل ہے کہتا ہے کہ ہم نے حماس کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہماری شرائط مان لے اور ہمارے حکمران جو مسلم امہ کے نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں خاموش ہیں۔ غلامی میں نہ شمشیریں کام آتی ہیں، نہ تدبیریں ۔ یہ شعر آج غزہ پر صادق آتا ہے۔خلیفہ ہارون الرشید تو اپنے دور میں یورپ کے بادشاہوں سے بھی منہ اٹھا کر بات کرتے تھے مگر آج شہباز شریف جو خود کو سفیرِ امن کہلاتے ہیں امریکہ کی سکیورٹی کونسل میں فلسطین کے حق میں 6ویٹو قرار دادوں کے سامنے سر جھکا لیتے ہیں۔ ان میں سے دو ویٹو تو ان کے ہی دورِ اقتدار میں ہوئے جب اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کر رہی تھی تو امریکہ نے اسے روک دیا اور ہمارے امن کے داعی خاموش تماشائی بنے رہے۔ اب یہ 21نکاتی پلان جو 2020 ء میں بھی پیش کیا گیا تھا تب شریف صاحب نے اسے غیر منصفانہ، متعصب اور ظالمانہ کہا تھا۔ کیونکہ اس وقت وہ ملک کے وزیر اعظم نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے۔ تو اس بات سے واضح طور پر شہباز شریف کی ترجیحات اور قول و فعل کے تضاد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آج جب ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ پاکستانی وزیر اعظم شہبازشریف شروع سے اس پلان پر ان کے ساتھ ہیں تو پھر وہی خوش آمدید!کیا یہ سیاست ہے یا سودے بازی؟ دال میں کالا تو واضح ہے مگر دیگ کی آگ کون سا ایندھن جلا رہا ہے؟اب آئیے اس پلان کی تفصیلات پر نظر ڈالیں ۔ ٹرمپ کا پلان دو ریاستی حل کا دعویٰ کرتا ہے مگر یہ کون سا دو ریاستی حل ہے؟ یہ حل 1967 ء کی سرحدوں پر مبنی ہے ؟ وہ سرحدیں جو چھ روزہ جنگ سے پہلے طے تھیں جہاں اسرائیل کو ویسٹ بینک، غزہ، مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ علاقوں سے نکلنا ہوگا۔ یہ فلسطین کو ایک مکمل، آزاد ریاست کا حق دیتا ہے جہاں فلسطینی اپنی فوج اپنی حکومت اور اپنی سرحدوں کے مالک ہوں۔ یہ پاکستان کا تاریخی موقف ہے جو قائد اعظم ؒ نے بھی اپنایا تھا اور اسرائیل کو عرب دنیا کی پیٹھ میں خنجر کہا تھا۔ٹرمپ کے پلان کی جو کڑی سب سے خطرناک ہے وہ یہ ہے کہ اس میں حماس کو خارج کر کے غزہ کے انتظام کو بیرونی نگرانی کے تحت رکھا جا رہا ہے۔
ایک اسٹیبلائزیشن فورس ایک بین الاقوامی بورڈ جس کی سربراہی لاکھوں لوگوں کے قاتل ٹونی بلیئر کو دی گئی ہے اور وہ وعدے جو فلسطینیوں کے حق کو حقیقی معنوں میں بحال کریں، غیرواضح اور مشروط ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اکٹھا بحالی پیکج دیا جائے گا مگر سیاسی طاقت نہیں۔ یہ تعمیرِ نو کا ماڈل ایک کیے ہوئے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو معاشی طور پر منہدم حالت میں رکھ سکتا ہے ۔ مسلسل انحصار کا ایک نیا نظام قائم ہو جائے گا۔ کیا ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا ہم بین الاقوامی مصلحتوں کے ساتھ ؟ اگر ہم نے کبھی کہا تھا کہ فلسطین ہماری نظریاتی ترجیح ہے تو اس کا مطلب صرف لفظی حمایت نہیں اس کا مطلب اصولی موقف ہے جس میں مقبوضہ زمینوں کی واپسی، پناہ گزینوں کا حقِ واپسی، اور فلسطینی خود ارادیت شامل ہے۔ اگر ہمارا موقف ان اصولوں سے نہیں جڑتا تو پھر وہ موقف کس چیز کی نمائندگی کر رہا ہے؟ یہ تشویش محض جذباتی نہیں، یہ ایک اخلاقی اور سیاسی سوال ہے جس کا جواب قوم چاہتی ہے۔ یہ پلان فلسطینیوں کو معاشی انحصار اور سیاسی بے اختیاری میں قید کر دے گا۔ غزہ کو ٹیرر فری زون بنا کر امریکہ خود چلائے گا جہاں نہ کوئی فلسطینی حکومت ہوگی نہ ریاست۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو جو عالمی عدالت میں انسانی جرائم کے ملزم ہیں مل کر غزہ کا فیصلہ کر رہے ہیں ۔ وہی قاتل، وہی شاہد، وہی منصف70ہزار فلسطینی شہیدوں کی لاشوں پر یہ امن قائم کرنا غزہ کے شہیدوں سے غداری ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید تو کہتے، انصاف وہ ہے جو کمزور کی آواز کو طاقتور کی آواز پر ترجیح دے مگر یہاں تو طاقتور کی چالیں کمزور کو کچل رہی ہیں۔ایک بھی مسلم حکمران میں غیرت ہوتی تو کہتاپہلے نیتن یاہو کو پھانسی دو پھر ہم حماس ختم کروا دیں گے مگر یہ زیرو واٹ کے بلب جی حضوری کرنے والے کہاں سے ہمت لائیں؟ بات اتنی آگے بڑھ گئی ہے کہ ٹرمپ کا اعلان ہونے سے 5 گھنٹے پہلے ہی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس پیکٹ کو خوش آمدید کہہ دیامگر پاکستانی عوام کو ایک لفظ بھی نہ بتایا۔ کیا ہم اتنی ہی غیر اہم ہیں؟ کیا یہ ہر چیز کا سودا کرنے کے مترادف نہیں؟ یہ کیسی دو ریاستیں ہیں جہاں ایک ایٹمی طاقت ہوگی اور دوسری مکمل غیر مسلح؟ غزہ میں امن تو قائم ہونا چاہیے مگر اسرائیلی شرائط پر نہیں۔ آج اسرائیل پوری دنیا میں نفرت کی علامت بن چکا ہے، اس پر سخت ترین دبا ہے ۔ یہ پلان تو اس دبا کو ہٹانے کی چال ہے۔ فوری جنگ بندی کا اعلان چاہیے بغیر کسی اگر مگر کے کیونکہ فلسطینی عوام کی منتخب جماعت حماس ہے اور ان کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ خلیفہ ہارون الرشید کی طرح، جو بغداد کی گلیوں میں چھپ کر عوام کی نبض سنتے تھے ہمیں بھی قوم کی آواز سننی چاہیے۔ یہ دیگ میں پک رہا ہے فلسطینی خون اور دال میں کالا ہے حکمرانوں کی خاموشی۔ اگر ہم مسلم امہ کے نام پر کھڑے ہوں تو یہ سودے بازی ختم کرکے 1967ء کی سرحدوں پر واپس لوٹنا ہو گا۔ ورنہ، تاریخ ہمیں معاف نہ کرے گی ۔موجودہ صورتحال میں پاکستان فلسطین بارے اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پاکستان خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر یقین رکھتا ہے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو گا مگر اس سارے معاملے میں الدس تو دور کی بات فلسطینی اپنے ہی ملک پر امریکہ، اسرائیل اور یورپ کی حکمرانی دیکھیں گے۔سیاست دان عوام کے نمائندے ہیں ۔ ان کا فرض شفافیت ہے، جوابدہی ہیاور تاریخ کے ساتھ سچائی ہے۔ اگر کوئی معاہدہ یا موقف ملک کے بنیادی موقف سے میل کھاتا ہے تو اسے عوام کے سامنے کھول کر رکھیں ۔ کاغذات، شقیں اور مشروطیتیں۔ ہمارے پاس سوالات ہیں کہ غزہ میں کون حکومت کرے گا؟ کیا حقیقی فوجی آزادی دی جائے گی؟ قیدوں کی رہائی کے بعد کیا سیاسی نظم ہوگا؟ اور سب سے اہم کیا فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہے؟ یہ سوالات عمومی کلمات سے حل نہیں ہوں گے ۔ انہیں ثبوت اور ضامن اہمیت چاہیے۔