Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ایمان مزاری کے خلاف پٹیشن دائر

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف درج مقدمات کا ٹرائل کرنے والی عدالتوں کے ججز سے منسوب بیان پر ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف کارروائی کے لئے توہین عدالت کی پٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کریں گے۔تفصیلات کے مطابق مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کو مبینہ طور پر متنازع بنانے کے لئے ٹرائل کورٹس کے ججز سے منسوب بیان پر ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لئے پٹیشن جنرل سیکریٹری تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں ایمان مزاری ایڈووکیٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔مذکورہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’’سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم2017ء سے جاری ہے۔‘‘ اعلیٰ عدلیہ نے مذکورہ معاملے کی حساسیت اور سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے متعدد فیصلے احکامات جاری کئے۔اعلیٰ عدلیہ کے مذکورہ فیصلوں کی روشنی میں ایف آئی اے‘این سی سی آئی اے نے مذکورہ گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے کارروائی شروع کی۔اس کارروائی کے نتیجے میں اب تک 118 درج مقدمات میں ملک بھر سے تقریباً ساڑھے چار سو ملزمان گرفتار کئے جاچکے ہیں۔42 ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر اب تک ملک کی مختلف ٹرائل کورٹس سزائیں بھی سنا چکی ہیں۔ان سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اب گھنائونی سازشیں کی جارہی ہیں۔
ایمان مزاری نے پہلے زیر حراست ملزمان کے رشتہ داروں کو اپنے ساتھ ملا کر ان ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے قانونی کارروائی کرنے والے ادارے ایف آئی اے‘این سی سی آئی اے کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔اس کوشش میں ناکامی کے بعد ایمان مزاری نے اب مذکورہ ملزمان کے خلاف درج مقدمات کا ٹرائل کرنے والی عدالتوں اور فاضل ججز کو متنازع بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ ایمان مزاری کی جانب سے مذکورہ گھنانی کوششوں کا مقصد نہ صرف یہ کہ مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین کے مرتکب ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے،بلکہ عالمی سطح پر وطن عزیز پاکستان کے تشخص کو بھی نقصان پہنچانا ہے۔مورخہ 27ستمبر کو مذکورہ ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے مذموم ایجنڈے کے تحت ہی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مٹھی بھر لوگوں کو جمع کیا گیا۔ خطاب کرتے ہوئے ایمان مزاری نے مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمات کا ٹرائل کرنے والے فاضل ججز پر سنگین نوعیت کا الزام عائد کیا۔ایمان مزاری نے اپنے خطاب میں یہ الزام عائد کیا کہ راولپنڈی‘ اسلام آباد کے ٹرائل کورٹس کے جج کہتے ہیں کہ ہمیں پتا ہے کہ مذکورہ ملزمان بے گناہ ہیں۔ہم یہ جانتے ہوئے بھی انہیں سزائے موت دیں گے،اس لئے کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مدعی وغیرہ راولپنڈی کو بند کر دیں گے،اسلام آباد میں جلا گھیرا کریں گے۔ایمان مزاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب کوئی جج اس عہدے پر بیٹھا ہوتا ہے،اس کے پاس سیکیورٹی ہوتی ہے،تنخواہ ہوتی ہے اور وہ پھر بھی کہتا ہے کہ مجھ میں یہ جرات نہیں کہ جو بے گناہ شخص ہے،میں اسے بری کروں گا۔ٹرائل کورٹس کے فاضل ججز سے منسوب ایمان مزاری کے مذکورہ بیان کو اگر ایک لمحہ کے لئے درست مان لیا جائے تو پھر اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے ماتحت ٹرائل کورٹس کے ججز صاحبان کے کنڈکٹ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔اس صورت میں بھی اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اگر ٹرائل کورٹ کا کوئی جج دبا میں کام کررہا ہے،ناانصافی کررہا ہے تو یہ سنگین مس کنڈکٹ ہے۔ ایسے جج کو نہ صرف یہ کہ عہدے سے ہٹا دینا چاہئیے بلکہ اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی ہونی چاہئیے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ایمان مزاری کا ٹرائل کورٹس کے ججز سے منسوب مذکورہ بیان بالکل حقائق کے برعکس،بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ایمان مزاری نے مذکورہ حقائق کے برعکس، بے بنیاد اور من گھڑت بیان دیکر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کی گھنانی کوشش کی ہے۔ایمان مزاری کے مذکورہ حقائق کے برعکس،بے بنیاد اور من گھڑت بیان کا مقصد مذکورہ ملزمان کے خلاف جاری عدالتی ٹرائل کو متنازع بنانا،ٹرائل کورٹس‘ٹرائل کورٹس کے ججز کو متنازع بنانا،انہیں بدنام کرنا اور ٹرائل کورٹس سے مذکورہ ملزمان کے حق میں اپنی مرضی کے مطابق فیصلے حاصل کرنا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ماتحت ٹرائل کورٹس نے اب تک گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث 16 ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائیں سنائی ہیں۔15 ملزمان کو توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک ملزم کو توہین مذہب کا جرم ثابت ہونے پر دس سال قید کی سزا سنا چکی ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے ماتحت ٹرائل کورٹس میں گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مزید 74 ملزمان کا ٹرائل اس وقت جاری ہے۔اسی طرح راولپنڈی کی ٹرائل کورٹس اب تک گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث 17 ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائیں سنا چکی ہیں۔16 ملزمان کو توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت جبکہ ایک ملزم کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔راولپنڈی کی ٹرائل کورٹس میں گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث 23 ملزمان کا ٹرائل اس وقت جاری ہے۔ایمان مزاری کے مذکورہ حقائق کے برعکس، بے بنیاد اور من گھڑت سنگین بیان کی وجہ سے ہائیکورٹ کے ماتحت ٹرائل کورٹس کے مذکورہ تمام فیصلوں اور انڈر ٹرائل ملزمان کے ٹرائل کی شفافیت اور مبنی بر انصاف ہونے پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔اس لئے ایمان مزاری کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ٹیشنر سمیت وطن عزیز پاکستان کے کروڑوں مسلمان اس معاملے میں اعلیٰ عدلیہ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ایمان مزاری کے متعلق قوانین کو پوری قوت کے ساتھ حرکت میں لائیں گی۔اس لئے کہ یہ معاملہ صرف ایمان مزاری اور عدلیہ کے درمیان کا نہیں بلکہ اس معاملے سے پٹیشنر سمیت وطن عزیز پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔ایمان مزاری کا مذکورہ حقائق کے برعکس،بے بنیاد و من گھڑت بیان واضح طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔لہٰذا اسلام آباد ہائیکورٹ کو توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں