Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

اہل پاکستان کے نام

اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ ہم ایک آزاد مسلم ملک کے باسی ہیں، ایک ایسی ریاست کے وارث جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔ یہ وطن ہمارے آبا ئواجداد کی قربانیوں کا ثمر ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں، اسے ترقی کی راہ پر ڈالیں اور دنیا کے نقشے پر مزید باوقار بنائیں۔ یہ ملک وہ نعمت ہے جس میں جنگلات، پہاڑ، دریا، سمندر، صحرا اور چاروں موسم ہیں۔ ہمارے لوگ محنتی اور زندہ دل ہیں، ہماری فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے اور ہم اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہیں۔ یہ سب کچھ ہمیں مضبوط اور قابلِ فخر بناتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہمارے پاس ہے تو پھر ہم کمزور کیوں ہیں؟ اس کا جواب ہمارے اپنے رویوں اور غلطیوں میں ہے۔ جب جب ہم نے عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا، ہم نے اپنے وطن کو کمزور کیا۔ 1971ء اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جب عوامی رائے کو روندنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا ملک دو لخت ہوگیا۔ بار بار احتجاج کو دبانے کے لیے مارشل لا لگائے گئے اور جمہوریت پٹڑی سے اترتی رہی۔ لیکن آج کا دور بدل چکا ہے۔ زور زبردستی کے دن گزر گئے، پتھر کا زمانہ واپس نہیں آ سکتا۔ اب ترقی صرف اسی راستے سے ممکن ہے جس میں عوام کی رائے کا احترام ہو، آئین و قانون کی پاسداری ہو اور انصاف سب کو ملے۔
ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ آج بھی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ اشرافیہ مراعات کے پہاڑ تلے دبی بیٹھی ہے۔ یہ ناانصافی ہے کہ عام آدمی دو وقت کی روٹی کو ترسے اور طاقتور طبقہ قومی وسائل پر قابض ہو۔ دوسری طرف ہماری معیشت جمود کا شکار ہے۔ ہم نہ نئی صنعتیں لگا رہے ہیں، نہ مینوفیکچرنگ کو فروغ دے رہے ہیں، نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ہماری برآمدات سکڑ رہی ہیں، سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے اور حکومتیں ایسے ڈانواں ڈول ہیں جیسے پتوں پر شبنم کے قطرے۔ یہ بے یقینی کب ختم ہوگی؟ کب وہ دن آئے گا جب یہ ملک پائیدار ترقی کی طرف بڑھے گا؟
افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔ حکمران انتظار کرتے ہیں کہ لوگ جانیں دیں، تب مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ جیسا کہ آزاد کشمیر میں ہوا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی 2023ء سے عوامی مفاد عامہ میں چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر رہی تھی لیکن اس کا مذاق اڑایا گیا، انہیں بیرونی ایجنٹ قرار دیا گیا۔ پھر جب پورے کشمیر کا پہیہ جام ہوگیا تو سارے مطالبات منظور کر لئے گئے۔ یہ رویہ ریاست اور عوام کے درمیان رشتے کو کمزور کرتا ہے۔ عوام کا اپنے ہی اداروں پر اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر عوام اداروں سے خفا ہوگئے تو ملک کبھی مضبوط و مستحکم نہیں ہوگا۔ ریاست کو عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ان کے دکھ درد کو بانٹنا ہوگا اور ان کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لیڈرشپ اور ریاست ایک نہیں ہیں۔ لیڈرشپ سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن ریاست ہماری ماں ہے۔ بیرونِ ملک اپنے ہی سفارت خانوں کے سامنے احتجاج اور گالیاں پاکستان کے مسائل حل نہیں کرتے بلکہ مزید بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا اور مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان کی قیادت کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ ملک اس وقت ہی ترقی کرے گا جب جمہوریت کو مضبوط کیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، قانون کی بالادستی قائم ہو اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ جب حکومتیں پائیدار ہوں گی اور پالیسیاں تسلسل کے ساتھ چلیں گی، تب ہی سرمایہ کاری آئے گی، صنعتیں لگیں گی، روزگار پیدا ہوگا اور عوام کی زندگیاں بہتر ہوں گی۔
اہلِ وطن!یہ لمحہ ہمیں پکار رہا ہے۔ ہمیں تقسیم سے نکل کر اتحاد کی طرف آنا ہے۔ ذاتی مفاد کو چھوڑ کر قومی مفاد کو اپنانا ہے۔ پاکستانی بن کر سوچنا ہے اور پاکستانی بن کر دنیا کو دکھانا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ اگر ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا اور انصاف، اتحاد اور محنت کو اپنا لیا تو کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی۔ ہمیں خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا، اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔ دوسروں کی پالیسیاں ہم پر کیوں تھوپی جائیں؟ ہم قرضوں پر قرض لے کر سود ادا کرتے جا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔
ہمیں کمیونیکیشن کے تمام چینلز کھلے رکھنے ہوں گے تاکہ ہم تعریف کے ساتھ ساتھ تنقید کے بھی عادی بن سکیں۔ میڈیا کو خوشامدی اور مفاد پرست بنانے کی کوشش اصل حقیقت سے چشم پوشی ہے۔ زور زبردستی اور سچ کو دبانے سے صرف بے چینی بڑھتی ہے، لاوا پکنے لگتا ہے اور پھر ایک دن پھٹ کر سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔
یاد رکھیں، یہاں صرف اللہ کی حکمرانی باقی ہے، جو حاکم الحاکمین ہے، باقی سب عارضی ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

یہ بھی پڑھیں