Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

غربت کا جہاد !

کیسی خاموشی اور کس کا انتظار؟یہ واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا ہے۔ آپ کی حکمرانی میں عدل و انصاف کا معیار بے مثال تھا۔ایک دفعہ حضرت عمر ؓکے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے گوشت کھانے کی خواہش کی۔ انہوں نے اپنے پیسوں سے ایک بکری خریدی گوشت تیار کروایا اور اپنے والد خلیفہ وقت حضرت عمرؓ کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت عمرؓ نے گوشت دیکھا اور پوچھا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے سارا ماجرا بیان کیا۔ وہ خلیفہ جس کی ہیبت سے بڑی سلطنتیں کانپتی تھیں انہوں نے گوشت کا لقمہ منہ میں ڈالنے سے پہلے ہاتھ کھینچ لیا اور پوچھا کیا مدینہ کے سب لوگ روزانہ بکری کا گوشت کھاتے ہیں کیا ہر غریب کو یہ میسر ہے؟جب بیٹے نے نفی میں جواب دیا تو خلیفہ وقت کا یہ تاریخی جملہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا جب تک میری رعایا کا ہر فرد وہ نہیں کھا لیتا جو میں کھاتا ہوں تب تک مجھ پر بھی یہ حلال نہیں۔حضرت عمر ؓنے حکم دیا کہ وہ گوشت فوراً غریبوں اور ناداروں میں تقسیم کر دیا جائے۔یہ واقعہ آج کے حکمرانوں کو سبق دیتا ہے کہ وہ عیش و عشرت سے پہلے یہ دیکھیں کہ ان کی رعایا کس حال میں ہے۔ پاکستان میں گیارہ کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ تیس ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ پچیس لاکھ ایکڑ رقبہ سیلاب میں بہہ گیا۔ ستر فیصد فصلیں تباہ ہو گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی زمین پر معیشت کے بیج کون بوئے گا؟ وہ کسان جس کے کھیت پانی میں ڈوب گئے وہ مزدور جس کے گھر کی چھت اڑ گئی یا وہ نوجوان جو صبح رزق کے لیے نکلتا ہے اور شام کو مایوسی کی چادر اوڑھ کر لوٹ آتا ہے؟جس ملک کی قریبا ً آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو، جہاں عزت نفس بھی بھوک کے ہاتھوں گروی رکھ دی جائے وہاں تو ہر روز غربت کے خلاف جہادہونا چاہیے۔ مگر یہاں ہر روز نیا تماشہ ہوتا ہ، نیا وعدہ نئی تقریر اور پھر خاموشی۔ جیسے سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہو۔ جیسے یہ گیارہ کروڑ انسان کسی اور سیارے کے باسی ہوں۔
ملک کے ہر شہر ہر گلی میں بھوک اور بے روزگاری کی چیخیں گونج رہی ہیں۔ غریب کے بچے اسکول نہیں جا سکتے۔ ہسپتالوں میں دوا نہیں، بجلی کے بل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ مگر وزیروں کے قافلے بڑھتے جا رہے ہیں، سرکاری دورے ختم نہیں ہوتے، شاہی ایوانوں کے ایئر کنڈیشنر بند نہیں ہوتے۔ قوم پسینے میں شرابور ہے حکمران خوشبو لگائے دنیا کے دورے کر رہے ہیں۔یہ وہی منظر ہے جو ہارون الرشید نے کبھی ایک جملے میں بیان کیا تھا۔ تخت پر بیٹھا بادشاہ اور رعایا زمین پر رینگتی ہوئی چیونٹیاں۔اب تو چیونٹیاں بھی مر رہی ہیں، مگر تخت پر بیٹھے چہروں پر ہلکی سی بھی شرمندگی نہیں۔ہم نے اس ملک میں ہر چیز کو سیاست کے ترازو میں تولنا سیکھ لیا ہے۔ غریب بھوک سے مرے تو بحث یہ نہیں ہوتی کہ اسے کھانا کیوں نہ ملا بلکہ یہ کہ کون سی حکومت کے دور میں مرا۔ سیلاب آئے تو ہم اس کے پانی میں سیاست کی کشتیاں بہاتے ہیں۔ کسان خودکشی کرے تو ہم اس کی موت کے اعدادوشمار سے پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جو حادثوں سے سبق نہیں سیکھتی بلکہ حادثوں سے کھیلتی ہے۔ہر حکومت نے غربت مٹا کے نعرے لگائے مگر غربت نہیں مٹی انسان مٹتے گئے۔ کسی نے آٹے کی لائن میں جان دی کسی نے گیس کی نایابی میں۔ کبھی اشیائے خوردونوش پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے کبھی بجلی کے یونٹ پر۔ غریب کے پاس اب کچھ نہیں بچا سوائے اس کے کہ وہ اپنے خواب بیچے یا ضمیر۔مگر ہمارے اربابِ اقتدار اب بھی معیشت کے خوشنما اعداد و شمار دکھاتے ہیں۔ کہتے ہیں معیشت سنبھل رہی ہے۔ شاید وہ اعدادو شمار کسی دوسرے سیارے کے ہوں کیونکہ زمین پر تو بھوک کے خیمے لگے ہیں۔کیا آپ نے کبھی کسی وزیر یا مشیر کے چہرے پر بھوک کا سایہ دیکھا؟ کیا کسی ایوان میں روٹی یا آٹے کی قیمت کی کوئی بات ہوئی؟ نہیں۔ کیونکہ ان کے لیے غریب ایک سٹیٹسٹک ہے ایک نمبر ہے، ایک فائل کا صفحہ۔ ان کے لیے قوم کا درد وہ ہے جو کیمرے کے سامنے بیان کیا جا سکے۔وہ غریب جس کے بچے کے لیے دودھ نہیں وہ جس کی ماں ہسپتال کے گیٹ پر دم توڑ دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روز زندہ دفن ہو رہے ہیں۔ مگر ان کے لیے نہ کوئی ہنگامی اجلاس ہوتا ہے نہ کوئی پریس ریلیز۔عجیب قوم ہے جو غزہ کے بچوں پر تو رو لیتی ہے مگر اپنے محلے کی فاقہ کش پر نہیں۔جب دنیا کے تمام ممالک غزہ میں خون ریزی اور فاقہ کشی پر خاموش ہیں جیسے انتظار کر رہے ہوں کہ یہ صراحی کب خالی ہوتی ہے تو یہی منظر پاکستان میں بھوک کے حوالے سے بھی ہے۔یہاں بھی صراحیِ خون خالی نہیں ہوئی ہر دن کوئی نہ کوئی قطرہ گرتا ہے ۔ ایک مزدور، ایک ماں، ایک بچہ، ایک کسان مگر شور نہیں اٹھتا۔حکمران اپنے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے ٹی وی پر آ کر کہتے ہیں کہ ہم معیشت بہتر بنا رہے ہیں۔
کاش کوئی ان سے پوچھے کہ بہتر معیشت کہاں بنتی ہے ؟ ایوانوں میں یا جھونپڑیوں میں؟ قومیں صرف بجٹ سے نہیں بنتیں۔ عدل، روزگار اور وقار سے بنتی ہیں۔ جب ملک کا وزیر خزانہ یہ کہے کہ اقتصادی اشاریے مثبت ہیں تو دل چاہتا ہے اس سے پوچھا جائے کہ بھوک اور خودکشی کے اشاریے منفی کب ہوں گے؟یہ ترقی نہیں یہ دکھاوے کا میک اپ ہے جس کے نیچے غربت کے زخم رستے ہیں۔ہم نے کبھی اس قوم کو عزت دینا نہیں سیکھا۔ ہم نے کبھی غریب کو انسان نہیں سمجھا۔ ہمارے وزیروں کے قافلے گزرتے ہیں تو سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، ایمبولینسیں رک جاتی ہیں، بچے سڑک پر بلکتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب قائداعظم نے کہا تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مٹا نہیں سکتی جب تک ہم متحد اور ایمان دار ہوں۔آج ہم تقسیم بھی ہیں اور بددیانت بھی۔ ہمارے بیوروکریٹ، سیاستدان، تاجر، حتی کہ مذہبی قیادت بھی ذاتی مفادات کے اسیر ہو چکے ہیں۔ خوشحال ریاست کا نعرہ لگانے والوں نے عام لوگوں کی سادگی کا مذاق بنا دیا ہے۔ ان کے گھروں کی دیواریں سونے سے چمک رہی ہیں مگر عوام کے کچن میں چولہا بجھا ہے۔اگر کوئی کہے کہ معیشت سنبھل رہی ہے تو اس سے پوچھو کہ بھوک کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے؟ اگر وہ کہے کہ ترقی ہو رہی ہے تو اسے دکھا، پناہ گاہوں میں سونے والوں کی گنتی۔ اگر وہ کہے کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے تو اسے یاد دلا ہسپتال کے باہر دم توڑتی مائیں اور اسکول سے باہر کھڑے بچے۔یہ قوم اب وعدوں پر نہیں جی سکتی۔ اس قوم کو انصاف چاہیے، روزگار چاہیے، عزت چاہیے۔ مگر افسوس یہاں غریب کی زندگی بھی قسطوں میں بٹ چکی ہے۔کبھی بجلی کا بل قسطوں میں، کبھی دوا قسطوں میں، کبھی عزت قسطوں میں۔مگر یہاں تو وزیروں کے محلے محل ہیں اور عوام کے محلے قبرستان بنتے جا رہے ہیں۔جب قوم کے حکمران احساس کھو دیتے ہیں تو پھر قومیں مٹ جاتی ہیں۔ ماضی کی عبرت ناک داستانیں ہمارے سامنے ہیں ۔ فرعون، نمرود، شداد سب طاقتور تھے مگر جب ظلم نے حد پار کی تو زمین ان کی سلطنتوں کے لیے تنگ ہو گئی۔آج پاکستان کی سرزمین بھی فریاد کناں ہے۔ مگر اربابِ اقتدار اب بھی جشن منا رہے ہیں۔تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں۔

یہ بھی پڑھیں