Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ایک مردِ مومن کی کہانی

یہ زمانہ کمزوروں کا نہیں بزدلوں کا ہے۔ یہاں سچ بولنا جرم ہے اور ظالم کے خلاف کھڑا ہونا بغاوت۔ ایسے میں اگر کوئی مردِ مومن اٹھ کر باطل کے سامنے للکار دے تو وہ تاریخ کے اوراق میں امر ہو جاتا ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان انہی جری انسانوں میں سے ہیں جنہوں نے غلامی کے اس عہد میں آزادی کی صدا بلند کی۔ ان کے چہرے پر ایمان کی روشنی، دل میں امتِ مسلمہ کا درد، اور زبان پر ایک ہی صدا گونجتی رہی کہ ہم غزہ کے ساتھ ہیں۔یہ وہ مردِ میدان ہے جو ترکی سے اسرائیل جانے والے فلوٹیلا کے پانچ سو بہادر انسانوں میں شامل تھا جو فلسطینیوں کے لئےامداد لےکر روانہ ہوئے۔ دنیا نےدیکھا کہ اسرائیلی بحری قزاقوں نے ان پر حملہ کیا، ان کے جہاز روکے اور مظلوموں کے ہاتھوں سے روٹی کے ٹکڑے چھین لیے لیکن مشتاق احمد خان کے قدم نہ ڈگمگائے۔ وہ اس وقت بھی امت کے لیے کھڑے تھےاور آج بھی اسی ایمان پر قائم ہیں۔سینیٹر مشتاق احمد خان کی یہ داستان محض ایک سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک زندہ ضمیر رکھنے والے شخص کی ہے۔ وہ شخص جس نے نہ اقتدار کی ہوس میں اپنے نظریے کا سودا کیا نہ خوف کے دبائو میں زبان بند کی۔ سینیٹر مشتاق احمد خان ایک امید کی کرن بنے۔ وہ بولے تو ایوانِ بالا میں گرج سنائی دی’’ہمیں یہود و نصاری کے ایجنڈے پر نہیں، قرآن کے فرمان پر چلنا ہے۔‘‘یہ جملہ محض الفاظ نہیں ایمان کی صدا تھی۔ ان کے لہجے میں وہی عزم تھا جو بدر اور احد کے مجاہدوں میں تھا۔ ایسے لوگ کم ہی پیدا ہوتے ہیں جو اپنی ذات کو نظرئیے کے تابع کر دیں۔پارلیمنٹ ہائوس میں ان کی اہلیہ کی آمد ایک تاریخی لمحہ تھا۔ ان کے ساتھ تحریکِ انصاف کے اراکینِ اسمبلی بھی موجود تھے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’’غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں، سچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ ان اراکین نے سینیٹر مشتاق احمد خان کی اہلیہ سے ملاقات میں کہا کہ ہم سچائی، عدل اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کے احاطے میں فلسطینی پرچم بلند ہوا اور دنیا نے دیکھا کہ حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔سینیٹر مشتاق احمد خان کے مخالفین شائد یہ بھول گئے ہیں کہ ایمان والے کو زنجیر سے باندھنا ممکن ہے مگر اس کے ضمیر کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ شخص ہے جس نےایوان میں کھڑے ہو کر اسرائیل کےمظالم پر چیخ اٹھنے والی تقریریں کیں۔ انہوں نےکہا تھاکہ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی تو کل ہماری اپنی سرزمین پر وہی آگ اترے گی۔ یہ محض ایک وارننگ نہیں بلکہ تاریخ کا سبق ہے۔ آج جو غزہ پر بم برسا رہا ہے، کل وہ تمہارے شہروں پر بم برسانے والا ہے۔ان کے نزدیک مسئلہ فلسطین صرف فلسطین کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی غیرت و عزت کا مسئلہ ہے۔ وہ کہتے ہیں اگر آج ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو کل ہمارے لیے مکہ و مدینہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ یہی فکر، یہی ایمان، یہی غیرت انہیں اس قوم کا ہیرو بناتی ہے۔ ان کے دل میں پاکستان کی محبت بھی ہے اور امت کی تکمیل کا خواب بھی۔ ان کی سیاست کسی وزارت کے لئے نہیں بلکہ ایک نظرئیے کے لئے ہے ۔ نظریہ اسلام، نظریہ مزاحمت، نظریہ حریت۔آج مسلم دنیا میں مظلوموں کی چیخیں آسمان چیررہی ہیں، مگر حکمران خاموش ہیں۔ تیل کے سودوں تجارتی مفادات اور سیاسی معاہدوں کے نیچے ایمان دفن کر دیاگیا ہے۔ ایسے میں سینیٹر مشتاق احمد خان جیسے لوگ اللہ کے غضب سے بچائو کا وسیلہ ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ابھی امت کے دل میں ایمان کی رمق باقی ہے۔ ان کے لہجے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ابھی مرا نہیں ابھی زندہ ہے۔سینیٹر مشتاق احمد خان کی سیاست ایمان کی سیاست ہے۔ وہ نہ مصلحت جانتے ہیں نہ خوف۔ جب وہ ایوان میں بولتے ہیں تو ان کی گفتگو میں ایک مومن کی حرارت محسوس ہوتی ہے۔ وہ سودی نظام کے خلاف بولے، امریکی غلامی کے خلاف بولے اور اسرائیل کی وحشت کے خلاف بولے۔ ان کے ہر لفظ میں قرآن کا عکس اور اقبال کا پیغام جھلکتا ہے۔یہ شخص جماعتِ اسلامی کا رکن سہی، مگر اس کی جدوجہد جماعتی نہیں عالمی ہے۔ وہ امت کے لیے سوچتا ہے مظلوم کے لیے بولتا ہے اور ظالم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وہ مزاحمت ہے جو قوموں کو زندہ رکھتی ہے۔آج ضرورت ہےکہ قوم ایسے کرداروں کو پہچانے، ان کا ساتھ دے، اور اپنی آنے والی نسلوں کو بتائے کہ ایمان کیا ہوتا ہے، غیرت کیا ہوتی ہے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانا کسے کہتے ہیں۔ جو قوم اپنے سچ بولنے والوں کو تنہا چھوڑ دے، وہ تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہے۔ مگر جو قوم اپنے مشتاق احمد خان جیسے سپاہیوں کو سینے سے لگاتی ہے وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ وہ مردِ مومن ہیں جن کے دل میں حریت کی آگ بجھ نہیں سکتی۔ سینیٹر مشتاق احمد خان ان میں سے ایک ہے ۔ ایک زندہ ضمیر، ایک غیرت مند پاکستانی ایک سچا مسلمان۔

یہ بھی پڑھیں