سب سے بڑے ظالم تو وہ ہیں کہ جو ایک طرف عورتوں کے حقوق کے مامے چاچے بنتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے عورتوں کو شوپیس بنا رکھا ہے،دنیا میں عورتوں کا سب سے زیادہ استحصال یورپ اور امریکہ میں ہوتا ہے، فرنگیوں کی زبانوں پر تو عورتوں کی حقوق کے نعرے ہوتے ہیں لیکن دراصل انہوں نے عورتوں کو ہر اشتہار میں سجا رکھا ہے، اور یہی وہ یورپ کی منافقانہ پالیسیاں اور دوھرا معیار ہے کہ جس کی وجہ سے دنیا میں نفرت کی بنیاد پر تقسیم بڑھتی جا رہی ہے،یورپ کے دسترخوان کے بعض راتب خور پاکستانی عورتوں کو بھی مادر پدر ازادی کے راستے پہ لگا کر یورپ کی خواتین کی طرز پر ذلت و رسوائی کے سمندر میں دھکیلنا چاہتے ہیں، عورتوں کے حقوق کے خوشنما نعروں کی اڑ میں انہیں، ماں باپ بہن بھائیوں شوہر اور بچوں کا باغی بنانے کے لیے میرا جسم میری مرضی کے نام پر ڈرامہ بازیاں کی جا رہی ہیں،حالانکہ ہم مسلمان ہیںاور ہر ذی شعور مسلمان یہ بات جانتا ہے کہاسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو مرد و عورت دونوں کو ان کے مقام، ذمہ داریوں اور کردار سے بخوبی آگاہ کرتا ہے۔
قرآنِ مجید نے جہاں مؤمن مردوں کو نیکی کے قیام اور برائی کے خاتمے کا فریضہ دیا ہے، وہیں مؤمنہ عورتوں کو بھی اسی مشن کا حصہ بنایا ہے۔ ایمان والی خواتین صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، دعوتِ دین، تربیتِ نسل اور دین کی حفاظت میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ درجہ ذیل احادیث اور قرآنی آیات اسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جس طرح منافق مرد و عورت باطل کے لیے سرگرم ہیں، اسی طرح ایمان والی خواتین کو بھی اپنے ایمان، عزم اور عمل سے دین کی خدمت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ جب مرد و عورت دونوں دین کی بنیاد پر ایک جماعت بن جائیں، تو اللہ کی مدد و نصرت اور فتوحات کے دروازے ان کے لیے ضرور کھلیں گے۔حضرت اقدس پیرو مرشد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اعلان فرما دیا ہے کہ
ترجمہ: ”مؤمن مرد اور مؤمنہ عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں“(التوبہ۷۲)
یعنی ایک جماعت ہیں اور اس جماعت کے پانچ کام ہیںان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی ضرورت سمجھائی اور ارشاد فرمایا کہ
کہ منافق مرد اور منافقہ عورتیں ایک دوسرے کے ہم مقصد، ہم مشن اور ساتھی ہیں(التوبہ۶۸)
اور یہ دونوں مل کر پانچ کام کرتے ہیں (۱) یہ خود کو مسلمان کہتے اور کہلواتے ہیں مگر ان کے دل اسلام سے مطمئن نہیں ہوتےان کی زبان کچھ ہوتی ہے اور عمل کچھ ہوتا ہے(۲) یہ گناہوں اور برائیوں کو پھیلاتے ہیں اور انکی دعوت دیتے ہیں(۳) یہ نیکیوں سے روکتے ہیں خصوصاً جہاد فی سبیل اللہ سے(۴) یہ مال کے لالچی اور حریص ہوتے ہیں، جہاد پر اور دین پر نہ خرچ کرتے ہیں اور نہ کسی کو خرچ کرنے دیتے ہیں(۵) جہاد کی سخت مخالفت اور دشمنی کرتے ہیں،اسلامی معاشرے کے اندر گھسے ہوئے اس طبقے کے شر سے مسلمان کیسے بچ سکتے ہیں تو اگلی آیات میں سمجھا دیا گیا کہ ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں دین کی بنیاد پر ”ایک جماعت“ بن جائیں،اس طرح وہ اللہ تعالی کی رحمت، جنت اور رضا کے مستحق ہو جائیں گے اور کفار و منافقین کے شر سے محفوظ رہیں گے،اب ہر مسلمان ان دونوں طرح کی آیات میں غور کر کے اپنا مقام اور اپنا کام تلاش کر سکتا ہے، حضرت امام ابن حبان رحمہ اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کی آیات کا بہترین خلاصہ نکالا ہے، منافق مرد اور عورتیں نیکی سے روکتے ہیں، برائی کی طرف بلاتے ہیں جبکہ مؤمن مرد اور عورتیں نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، منافق مرد اور عورتیں نماز میں سستی کرتے ہیں جب کہ مؤمن مرد اور عورتیں نماز قائم کرتے ہیں، منافق مرد اور عورتیں زکوٰۃ میں بخل کرتے ہیں جبکہ مؤمن مرد اور عورتیں کھلے دل سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، منافق مرد اور عورتیں جہاد سے دور رہتے ہیں، پیچھے رہتے ہیں جبکہ مؤمن مرد اور عورتیں جہاد میں نکلتے ہیں جہاد کی خدمت کرتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا حکم آتا ہے تو منافق خود بھی نہیں نکلتے دوسروں کو بھی روکتے ہیں جبکہ مؤمن بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتے ہیں (گزارش) منافق مرد اور عورتیں اپنے کام پر زور شور سے لگے ہوئے ہیں تو مؤمن مرد اور عورتیں دین، ایمان، جہاد اور حفاظت اسلام پر ایک دوسرے کا تعاون کیوں نہیں کرتے؟
ایک جماعت کیوں نہیں بنتے؟ مؤمنین کی طرح…مؤمنات کو بھی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی،تب فتوحات کے دروازے کھلیں گے ان شاء اللہ. آج کے دورِ فتن میں جبکہ باطل قوتیں منظم ہو کر اسلام اور اہلِ ایمان کے خلاف سرگرم عمل ہیں، ایسے میں ایمان والی خواتین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ انہیں محض گھریلو دائرے تک محدود سمجھنا دین کی روح کے منافی ہے۔ مؤمنہ عورتیں دراصل ایمان، عفت، غیرت اور قربانی کی علامت ہیں۔ اگر وہ اپنے مقام کو پہچان کر دین کی خدمت میں آگے بڑھیں، اپنی صلاحیتوں کو ایمان کی بنیاد پر بروئے کار لائیں، نیکی کو فروغ دیں اور برائی کے خلاف ڈٹ جائیں، تو امتِ مسلمہ کی اصلاح اور عروج کا سفر تیز تر ہو سکتا ہے۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ایمان والی خواتین اپنے حصے کی ذمہ داری سنبھالیں، مؤمن مردوں کے ساتھ ایک صف میں کھڑی ہوں، دین کی حفاظت اور سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا، رحمت اور فتوحات کے دروازے کھلیں گے.ایمان والی خواتین کے لیے یہ وقت غور و فکر کا ہے کہ وہ اپنی دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کو ازسرِنو سمجھیں۔ آج معاشرے میں بے حیائی، فتنہ اور دین سے غفلت عام ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں مؤمنہ عورتوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنی اور اپنی نسل کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ گھروں کو دینی تربیت گاہوں میں بدلنا، بچوں میں غیرتِ ایمانی پیدا کرنا اور معاشرے میں نیکی کے پیغام کو عام کرنا ایمان والی خواتین کا فریضہ ہے۔ جب عورت کا کردار مضبوط ہوگا تو گھر، معاشرہ اور امت سب سنور جائیں گے، ان شاءاللہ۔