Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

احتجاجی انتشار کے مضمرات

پنجاب میں احتجاج کے نام پر انتشار کے مناظر بے حد تکلیف دہ ہیں ۔غزہ کے معاملے پر اجتماعی جذبات یکساں ہیں۔ پاکستان نے عالمی سطح پر قومی جذبات کی ترجمانی کئی مرتبہ کی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران غزہ میں جنگ بندی کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں امن کے قیام کو ناگزیر سمجھتے ہوئے حماس نے بھی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی۔ ایسے وقت احتجاج کی کال دے کر ٹی ایل پی نے سب کو چونکا دیا۔ احتجاج چونکہ جمہوری اور آئینی حق ہے لہذا کوئی بھی جماعت جب چاہے یہ حق استعمال کر سکتی ہے ۔ تاہم کسی بھی حق کے استعمال کا جواز اور وقت کا انتخاب احتیاط سے کیا جانا چاہیے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس معاملے میں فہم و دانش کا استعمال نہیں کیا گیا۔ احتجاج پر مصر ٹی ایل پی اور امن و امان قائم کرنے کے لیے کوشاں حکومت کی اجتماعی دانش پر کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ معاملہ پرامن طریقے سے کیوں حل نہ ہو سکا؟ اس سوال کا جواب ٹی ایل پی کی قیادت اور ارباب اختیار کے ذمے واجب ہے ۔جب غزہ کے مظلومین کی حمایت میں کوئی اختلاف نہیں تو پھر احتجاج کا معاملہ ایک تنازعے کی شکل کیوں اختیار کر گیا۔
یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ ہر مرتبہ ٹی ایل پی کے احتجاج اور دھرنے تشدد اور خون ریزی سے آلودہ کیوں ہو جاتے ہیں۔ یہ معاملہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے شروع ہوا ٹی ایل پی کے مظاہرین لاہور سے کچھ فاصلے پر واقعہ مرید کے سے آگے نہ بڑھ پائے ۔حیرت انگیز طور پر 10 اکتوبر جمعہ کے روز سے ہی جڑواں شہروں پنڈی اور اسلام آباد میں اہم شاہرات پر کنٹینر نصب کر دیے گئے۔ پانچ روز مسلسل اہم شاہرات بند رہنے سے دونوں شہروں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ عوام کو نقل و حرکت میں شدید دقت پیش آئی۔ دفاتر میں حاضری کم ہو گئی۔ تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں ۔مجموعی طور پر شاہرات کی بندش سے پنجاب سمیت پورے ملک میں بے چینی کی کیفیت رہی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق جڑواں شہروں میں نہ تو احتجاج کی کیفیت تھی اور نہ ہی کوئی پرتشدد مظاہرہ کیا گیا ۔ البتہ غیر ضروری طور پر شاہرات کی بندش سے عوام کی زندگی اجیرن کر دی گئی اور یہ کار خیر موجودہ حکومت نے خود سرانجام دیا۔
ضرورت اس امر کی تھی کہ ٹی ایل پی کی قیادت سے بات چیت کا آغاز کیا جاتا۔ مقررہ اوقات میں منظم احتجاج کی اجازت دے کر یہ معاملہ پرامن انداز میں نبٹا دیا جاتا۔ اس کے برعکس اب احتجاج کا معاملہ ایک تنازع بن گیا ہے ٹی ایل پی کی ہٹ دھرمی اور حکومت کی بے تدبیری نے اپنا کام کر دکھایا ہے شنید ہے کہ ٹی ایل پی ایک ملک کے سفارت خانے کے سامنے احتجاج کرنا چاہتی تھی۔ ریڈ زون میں ایسی سرگرمی کی فی الحال اجازت نہیں۔ بنظر غائر یہ مطالبہ درست نہیں تھا ۔ غزہ میں سیز فائر کی خبر آنے کے بعد فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ ایسے وقت ٹی ایل پی کے احتجاج پر ڈٹ جانے سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ ٹی ایل پی ملک بھر میں نماز جمعہ کے خطبات میں اپنے جذبات اور نظریات کا اظہار کر لیتی۔
ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کے تناظر میں احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ جیسی سر گرمیوں سے اجتناب بہتر ہے۔ ابھی احتجاج کا معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ مغربی سرحد پر نام نہاد افغان فوج اور فتنہ خوارج کے دہشت گردوں نے پاکستان کی چوکیوں پر حملہ کر دیا ۔حملے کے وقت طالبان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی متقی ہندوستان کی سرزمین پر جے شنکر کے پہلو میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف الزام تراشیاں کر رہے تھے ۔محسن کش پڑوسی اور بھارت کے پروردہ دہشت گردوں کے خلاف وطن کی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے 23 فرزندان وطن شہید ہو گئے۔ 200 سے زائد حملہ آوروں کو بھی واصل جہنم کر دیا گیا۔ یہ سرحدی حملے پاکستان کی سلامتی کو لاحق شدید خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ان حالات میں اندرونی استحکام اور اتحاد درکار ہے۔ قوی امید تھی کہ سرحدوں پر کشیدگی اور دشمن کے حملوں کے پیش نظر ٹی ایل پی احتجاج کا منصوبہ موخر یا منسوخ کر دے گی۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ مقام افسوس ہے کہ حکومتی نمائندے بھی ٹی ایل پی کی قیادت سے موثر رابطے کرنے میں ناکام رہے۔ ہٹ دھرمی اور نااہلی کے مجموعے سے جو کچھ سامنے آیا وہ قابل مذمت ہے۔ بعض حکومتی ترجمان اور وزیر حالات کی نزاکت کو نظر انداز کر کے شعلہ بیانی اور بے تکے الزامات میں مشغول ہیں۔ یہ روش جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک زبان دراز وزیر بھی گاہے بگاہے ایسے مواقع پر زبانی گولہ باری سے ماضی میں معاملات خراب کر دیا کرتے تھے۔ حکومت کو ان واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ پولیس اہلکاروں اور مظاہرین کی جانوں کے ضیاع پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ۔
وقت آگیا ہے کہ احتجاج کے لیے مناسب قانون سازی کے ذریعے پہلے سے بعض مقامات کا تعین کر دیا جائے۔ احتجاج کی آڑ میں پرتشدد کاروائیوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔ پرتشدد ہجوم اور بلوائیوں سے نبٹنے کے لیے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے عملی اقدامات درکار ہیں۔ ٹی ایل پی اور اس طرح کی دیگر تنظیمیں بھی اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں۔ یہ خیال رہے کہ آئین احتجاج کا حق دیتا ہے لیکن راستے بند کر کے عوام کی بنیادی حقوق معطل کرنے کا لائسنس نہیں دیتا!

یہ بھی پڑھیں