کبھی لگتا ہے تاریخ مذاق بن گئی ہے، کبھی محسوس ہوتا ہے انسانیت کسی ڈرامے کے اسٹیج پر کرپٹ کردار ادا کر رہی ہے۔ ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ آٹھ اسلامی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ وہ معاہدہ کیا جسے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے بڑے فخر سے امن معاہدہ کہا۔ تصویریں بنیں، مسکراہٹوں کے تبادلے ہوئے اور مسلم حکمرانوں نے اپنے عوام کو یقین دلایا کہ اب مشرقِ وسطی میں خون نہیں بہے گا اب بیت المقدس کا دکھ شاید مٹ جائے گا۔مگر تاریخ کے چہرے پر یہ مسکراہٹ زیادہ دیر نہ ٹھہری۔ ابھی تعریفوں تحسینوں اور نوبل انعام کی باتوں کی بازگشت ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ کو خون میں نہلا دیا۔ وہی بمباری، وہی چیختے بچے، وہی ماں کے سینوں سے لپٹی لاشیں، وہی ملبے کے نیچے دبی زندگیاں۔ اور ستم یہ کہ وہی ممالک جو کل تک امن کے ٹھیکیدار بنے تھے آج لب بستہ ہیں ۔ کوئی احتجاج نہیں، کوئی مذمت نہیں اور کوئی غیرت کی جنبش نہیں۔
اسرائیل نے امن معاہدے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں مگر ان آٹھ اسلامی ممالک کے ایوانوں میں سکوت ہے ۔ کوئی مذمت، کوئی احتجاج، کوئی سفارتی دبا نہیں۔ اور اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسی امن کے سودا گر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوبل امن انعام کی سفارش کر دی۔ جنہوں نے امت کے زخموں پر مرہم رکھنا تو درکنار، نمک چھڑکنے میں بھی بخل نہیں کیا۔ کبھی انہیں سیلوٹ پیش کرتے ہیں، کبھی تعریفوں کے ڈونگرے برساتے ہیں گویا ٹرمپ ہی امتِ مسلمہ کے نجات دہندہ ہوں۔
یہ وہ المیہ ہے جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ ایک طرف غزہ کے بچوں کی لاشیں دوسری طرف اسلام آباد، ریاض اور ابوظہبی کے ایوانوں میں امن کی کامیابی کے نعرے۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ شاید تاریخ پہلی بار اتنی شرمسار دکھائی دیتی ہے۔
یہ کیسا امن ہے جو خون کے دریا سے گزرتا ہے؟ یہ کیسا معاہدہ ہے جو بمباری کی دھول میں دفن ہو گیا؟ جنہوں نے بیت المقدس کے زخموں پر مرہم رکھنا تھا وہی اسرائیل کے مفادات کے محافظ بن گئے۔ عرب دنیا کے کئی حکمرانوں نے جس معاہدے کو نئے مشرقِ وسطی کی بنیاد کہا وہ دراصل نئے غلامی کے عہد کی دستاویز ثابت ہوا۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اس نام نہاد اقدام کو ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ وائٹ ہاس میں مسکراہٹیں، مصافحے اور جھوٹی خوشیوں کے وہ مناظر دنیا نے دیکھے۔ مگر ان لمحوں میں غزہ کے آسمان پر موت رقص کر رہی تھی۔ جن ہاتھوں نے امن کی دستاویز پر دستخط کیے تھے انہی ہاتھوں سے اسرائیلی ہتھیار خریدے جا رہے تھے۔
کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ وہ امت جو کبھی قبلہ اول کی حفاظت کے لیے تن من دھن قربان کرنے کا جذبہ رکھتی تھی آج اسی اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعاون کے معاہدے کر رہی ہے؟ کیا یہی وہ امت ہے جس کے لیے عمر بن خطابؓ نے فرمایا تھا کہ ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی۔ اگر ہم نے عزت کسی اور چیز میں ڈھونڈنی چاہی تو ذلت ہمارا مقدر ہوگی۔
آج وہی ذلت اسلامی دارالحکومتوں کی دیواروں پر لکھی جا رہی ہے۔ اقتدار کی کرسی کے بدلے ایمان کا سودا ہو رہا ہے۔ کچھ ملک امریکہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے، کچھ اپنے تاج کے تحفظ کے لیے اور کچھ سرمایہ کاری کے لالچ میں اس معاہدے کا حصہ بنے۔
اور پاکستان؟ وہ ملک جسے قائداعظم نے مسلمانوں کا قلعہ قرار دیا تھا وہاں کے وزیر اعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کو نوبل امن انعام کا اہل قرار دیا ۔ شاید انہیں علم نہیں کہ نوبل انعام صرف ان کے لیے ہوتا ہے جو انسانیت کا درد رکھتے ہوں نہ کہ ان کے لیے جن کے فیصلوں سے لاکھوں انسان دربدر ہوئے۔ وہ شخص جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امت کے زخموں پر چھری پھیری وہی اب ’’امن‘‘کا علمبردار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
یہ دنیا عجیب تماشہ گاہ بن چکی ہے۔ یہاں ظالموں کو سفارتی کامیابیاں ملتی ہیں اور مظلوموں کو صفائی کے مواقع نہیں۔ اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں اسرائیل کے مظالم پر خاموشی چھائی رہتی ہے اور جب فلسطینی بچہ پتھر اٹھاتا ہے تو اسے دہشت گرد کہا جاتا ہے۔
مگر شاید اصل دکھ اسرائیل کی درندگی نہیں مسلم حکمرانوں کی بے حسی ہے۔ غزہ کے ملبے تلے دبی ماں جب اپنے بچے کا چہرہ صاف کر کے کہتی ہے کہ یہ شہید ہے تو نیویارک، دبئی اور اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے یہ حکمران تب بھی خاموش رہتے ہیں۔ ان کے لیے اہم یہ نہیں کہ کتنے بچے مارے گئے بلکہ یہ کہ اگلے ہفتے تیل کی قیمتوں پر امریکہ کیا فیصلہ کرے گا۔
کیا امت کا ضمیر واقعی مر چکا ہے؟ کیا وہ امت جو بدر و احد کے میدانوں میں بے سروسامانی کے باوجود فتح یاب ہوئی اب چند ڈالرز، چند معاہدوں اور چند تصویروں کی قید میں مبتلا ہو گئی ہے؟اس معاہدے کو امن کہنا ظلم کے ساتھ مذاق ہے۔ امن وہ ہوتا ہے جو عدل سے جنم لے، جو مظلوم کے آنسو پونچھے، جو ظالم کو لگام دے۔ یہاں تو الٹا حساب ہے۔ ظالم کو سلام، مظلوم پر الزام۔ یہی وہ فلسفہ ہے جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی سیاست کی بنیاد ہے۔
امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے مفادات کی غلام رہی ہے۔ جس دن اسے احساس ہو کہ اسرائیل کا مفاد کسی اور سمت ہے وہ انہی عرب حکمرانوں کو قربانی کا بکرا بنا دے گا جو آج اس کے ساتھ ہنسی خوشی تصویریں کھنچوا رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے،امریکہ کسی کا دوست نہیں بلکہ صرف اپنے مفاد کا۔یہ امن معاہدہ دراصل ایک نیا سامراجی فریم ورک ہے جس کے تحت عرب ممالک کو اسرائیل کی سیاسی چھتری تلے لایا جا رہا ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ فلسطین کو انصاف ملے بلکہ یہ کہ اسرائیل کو خطے میں مرکزی حیثیت دے کر باقی دنیا کو باور کرایا جائے کہ اب مشرقِ وسطی میں طاقت کا محور تل ابیب ہے نہ کہ مکہ یا قاہرہ۔یہی اصل خطرہ ہے۔ جب امت اپنی روح کھو دے تو دشمن کو جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ آپ کے اندر سے آپ کو شکست دے دیتا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک سے جس کا وجود ہی اسلام کے نام پر ہوا وہاں کے حکمران ایسے وقت میں ٹرمپ جیسے شخص کو نوبل انعام کے قابل قرار دے رہے ہیں۔ کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی کا نیا معیار ہے؟ کیا ہم نے وہ وقت بھلا دیا جب لیاقت علی خان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کیا تھا؟ دنیا بھر کے مسلمان آج سوال کر رہے ہیں کہ اگر یہی امن ہے تو پھر جنگ کیسی ہوتی ہوگی؟ اگر یہی سفارت ہے تو پھر غلامی کی شکل کیا ہے؟یہ معاہدہ نہیں ضمیر کا سودا ہے۔ یہ امن نہیں طاقت کے سامنے سجدہ ہے۔
تاریخ کی آنکھیں سب دیکھ رہی ہیں۔ آج اگر امت خاموش رہی تو کل وہ چیخنے کا حق بھی کھو دے گی۔ آج اگر ہم نے اس منافقت کو بے نقاب نہ کیا تو آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ جب اقصی جل رہا تھا تو تم کہاں تھے؟ اور اس دن کوئی حکمران، کوئی معاہدہ، کوئی ٹرمپ یا نوبل انعام امت کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکے گا۔