لاہور صرف ایک شہر نہیں یہ ایک جذبہ ہے، ایک احساس، ایک دھڑکن۔ محبت، خوشبو، رنگ اور ذائقے کا ایسا امتزاج جو روح میں اتر جائے۔ جو ایک بار لاہور آ جائے وہ پھر کہیں اور کا نہیں رہتا۔ کبھی یہاں کی فضا میں چنبیلی ، گلاب اور موتئیے جیسے پھولوں کی خوشبو گھلی رہتی تھی، درختوں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی، نہروں کے کنارے مسکراتے تھے اور بہار آتی تو فضائیں گیت گاتی تھیں۔ ہر سمت پرندوں کی اڑانیں، ڈار در ڈار دکھائی دیتی تھیں مگر اب وہی لاہور زہر آلود سانسوں میں ڈوب رہا ہے۔ آسمان پر دھند کا پردہ ہے، گلیوں میں دھواں ناچتا ہے، نہ خوشبو باقی رہی نہ روشنی۔ جو شہر کبھی زندگی کی علامت تھا آج آلودگی کی علامت بن چکا ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ ہونے کے مقام پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ یہ لاہور نہیں ایک سسکتی ہوئی یاد ہے جس کے چہرے پر دھول ہے اور آنکھوں میں نمی۔
لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس تین سو بتیس پر پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور پہلے نمبر پر ہے۔ یہ کوئی اعزاز نہیں المیہ ہے۔ ایک ایسا المیہ جو برسوں کی غفلت، بدانتظامی اور دکھاوے کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔حکومت نے سموگ گنز، ائیر مانیٹرز اور تشہیری مہمات کا شور مچایا ہوا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار بروقت آپریشن اور آل آف گورنمنٹ پالیسی کے ذریعے آلودگی پر قابو پایا جا رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ کنٹرول میں ہے تو عوام کی آنکھوں میں جلن کیوں ہے؟ بچے اسکول سے بیمار کیوں لوٹ رہے ہیں؟ اور شہری ہر صبح یہ سوچ کر کیوں اٹھتے ہیں کہ آج سانس لینا بھی خطرہ بن چکا ہے؟ سچ یہ ہے کہ سموگ گنز یا تشہیری مہمات سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ مریم نواز کی تصاویر لگا دینے سے فضا صاف نہیں ہو سکتی۔ یہ کام اشتہاروں یا بیانات سے نہیں بلکہ نیت اور مسلسل محنت سے ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لاہور کا بحران صرف آلودگی کا نہیں بلکہ طرزِ زندگی کا بحران ہے۔ ہم نے زمین کے ساتھ وہ سلوک کیا جو دشمن بھی نہ کرے۔ درخت کاٹ ڈالے۔ پارکوں کی جگہ پلازے بن گئے۔ سبزہ ختم ہو گیا۔ گاڑیوں کا سیلاب سڑکوں پر امڈ آیا۔ فضا میں زہریلی گیسیں بڑھتی گئیں اور ہم صرف تصویریں بناتے رہے۔ لاہور میں اس وقت پچیس لاکھ سے زیادہ گاڑیاں روزانہ سڑکوں پر نکلتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر پرانی ہیں اور ان کے انجن دھواں چھوڑتے ہیں۔ فیکٹریاں بغیر فلٹر کے دھواں خارج کر رہی ہیں۔ کوڑا کرکٹ جلایا جا رہا ہے۔ تعمیرات کے دوران دھول اڑ رہی ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔یہ سب کچھ برسوں سے ہو رہا ہے مگر حکومتوں نے صرف وقتی مہمات چلائیں۔ کبھی صفائی مہم کبھی شجرکاری مہم۔ مگر مہم کے بعد ملبہ پھر وہیں پڑا رہتا ہے۔ چند دن تصویریں پھر سب بھول جاتے ہیں۔حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے درخت لگانے کی قومی مہم شروع کرنی ہوگی۔ اسکولوں، کالجوں اور دفاتر میں ہر شہری سے درخت لگوانا ہوگا۔ درخت زمین کی سانس ہیں۔ وہی فضا کو صاف کرتے ہیں۔ لاہور کو کم از کم پچاس لاکھ نئے درختوں کی ضرورت ہے۔ درخت لگانا نعرہ نہیں بقا کی شرط ہے۔
دوسری بڑی ضرورت یہ ہے کہ شہریوں کے طرزِ زندگی میں تبدیلی لائی جائے۔ ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ گاڑیوں کے بجائے سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال عام کرنا ہوگا۔ اکیلا شخص کار میں نکلنے کے بجائے شیئرنگ سسٹم اپنائے۔ شہروں کے اندر سائیکل کلچر کو فروغ دیا جائے۔ یہی ترقی یافتہ قوموں نے کیا ہے۔تیسری ضرورت قانونی سختی ہے۔ جو شہری کوڑا سڑک پر پھینکے یا فیکٹری دھواں چھوڑے اس پر بھاری جرمانہ کیا جائے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں یہی اصول اپنائے گئے ہیں۔ سنگاپور میں کچرا پھینکنے والے کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ دبئی میں گاڑی سے سگریٹ پھینکنے پر پانچ سو درہم جرمانہ ہے۔ وہاں لوگ صفائی سے جینے کو اپنی ثقافت سمجھتے ہیں۔ ہمیں بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ہر مسئلے کو ہمیشہ سیاست کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر ماحولیاتی آلودگی کا ذکر ہو تو اپوزیشن اسے حکومت کی ناکامی کہتی ہے اور حکومت اسے میڈیا کا پروپیگنڈا قرار دیتی ہے۔ یوں عوام کے سانسوں کا مسئلہ سیاسی نعرہ بن جاتا ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں کلائمیٹ چینج پر سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ناروے، سویڈن اور کینیڈا نے اپنے شہروں میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی پالیسی بنائی ہے۔ چین نے اپنے صنعتی علاقوں میں دھواں خارج کرنے والے پلانٹس بند کر دئیے۔ سعودی عرب نے ’’گرین مڈل ایسٹ‘‘ منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت ایک ارب درخت لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔پاکستان میں بھی اگر ہم چاہیں تو بہت کچھ ممکن ہے۔ ہماری زمین زرخیز ہے۔ ہمارے لوگ محنتی ہیں۔ صرف سمت درست کرنی ہے۔
لاہور کے اسکولوں میں بچوں کو ماحولیات کی تعلیم دی جائے۔ نصاب میں قدرتی وسائل کے تحفظ پر لازمی مضامین شامل کیے جائیں۔ ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات میں ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دیا جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ہر پلاسٹک بیگ سمندر میں جا کر مچھلی کے پیٹ میں جاتا ہے اور آخرکار ہماری ہی خوراک بن جاتا ہے۔
لاہور کی نہروں کے کنارے پھر سے سرسبز کیے جائیں۔ شہر کے گرد گرین بیلٹ بنائی جائے۔ نئی ہاسنگ اسکیموں کو اس وقت تک اجازت نہ دی جائے جب تک وہ درخت لگانے کا مکمل منصوبہ نہ دکھائیں۔ ہر فیکٹری کے لیے اخراجِ دھواں پر باقاعدہ معائنہ لازمی قرار دیا جائے۔ایک وقت تھا جب لاہور کے لوگ اپنے گھروں کے سامنے پودے لگاتے تھے۔ اب سیمنٹ کے جنگل میں پودوں کے لیے جگہ ہی نہیں بچی۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں آکسیجن خریدنے پر مجبور ہوں گی۔یہ یاد رکھنا ہوگا کہ آلودگی کا تعلق صرف فضا سے نہیں بلکہ معیشت سے بھی ہے۔ بیمار شہر معیشت نہیں چلا سکتے۔ سموگ کی وجہ سے کاروبار رک جاتے ہیں۔ پروازیں منسوخ ہو جاتی ہیں۔ اسکول بند کر دیے جاتے ہیں۔ اسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ ملکی خزانے پر بوجھ بنتا ہے۔اسی لاہور کو دوبارہ سانس لینے کے قابل بنانے کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت، شہری، صنعت کار، میڈیا سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ یہ کام تنقید یا نعرے بازی سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوگا۔
اگر مریم نواز واقعی پنجاب کو صاف اور سرسبز بنانا چاہتی ہیں تو انہیں فوٹو سیشن نہیں بلکہ ایک موثر انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس تشکیل دینی ہوگی۔ ایسی فورس جو روزانہ رپورٹ دے۔ جو شہریوں سے براہِ راست شکایات وصول کرے۔ جو دھواں چھوڑنے والی فیکٹری کو بند کرے۔ جو ہر محلے میں شجرکاری کو یقینی بنائے۔ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو ہم جتنا ٹالتے جائیں گے وہ اتنا ہی خطرناک ہوتا جائے گا۔ یہ صرف لاہور کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا المیہ ہے۔ کراچی، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور پشاور بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔ آج اگر ہم نے قدم نہ اٹھایا تو کل ہمیں سانس لینے کیلئے ماسک نہیں بلکہ مصنوعی آکسیجن چاہیے ہوگی۔
وقت آگیا ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ ترقی کا مطلب صرف عمارتیں نہیں، بلکہ صاف فضا بھی ہے۔ قوموں کی اصل پہچان ان کے درخت، ان کی ہوا اور ان کا پانی ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی زمین کے ساتھ انصاف نہ کیا تو یہ زمین بھی ہم سے بدلہ لے گی۔لاہور کو بچانے کا وقت اب ہے۔ درخت لگائیے۔ کوڑا باہر پھینکنے سے رک جائیے۔ انجن کی دھواں چھوڑتی گاڑی مرمت کروائیے۔ پانی بچائیے ۔ یہ سب چھوٹے عمل ہیں مگر انہی سے بڑی تبدیلی آتی ہے۔دنیا کے کئی شہروں نے خود کو بدل لیا۔ بیجنگ جو کبھی سموگ کا مرکز تھا آج صاف ہوا کے لحاظ سے بہتر شہروں میں شامل ہے۔ دہلی نے بھی سخت قوانین سے بہتری پیدا کی۔ اگر وہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔بس نیت سچی ہو، عمل مستقل ہو اور سیاست کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ لاہور اب بھی بچ سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے اشتہار نہیں، کردار چاہیے۔