Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

نیک و بد کی پہچان

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرات محترم آج کل فضول بحثوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے جیسے کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ اصحاب کہف کا کتا جنت میں جائے گا یا نہیں تو آج کے دور میں فلاں گروہ کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے کہ نہیں طلاق ، میراث ، دیگر بنیادی مسائل پر رائے زنی کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ ایسے لوگوں نے مدرسے میں ایک ہفتہ بھی گزارا نہیں ہوتا-
اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کریم فرماتے ہیں۔اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر،(النعام : 68 ) یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہو جائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔یعنی جب تم ایسے لوگوں کی مجلس دیکھو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہوں، یا عملًا ان کی بے قدری کر رہے ہوں، یا وہ اہل بدعت ہوں جو اپنی بے جا تاویلوں اور تحریفات سے آیات الٰہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں، یا ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوں اور الٹے سیدھے معنی پہنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں، تو اس مجلس سے اس وقت تک کنارہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہو جائیں اور اگر شیطان کے بھلانے سے اس مجلس میں بیٹھ ہی جائے تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کی مجلس میں بیٹھے نہ رہو۔
اہل بد ، کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجے بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب ہو رہا ہو، خصوصاً اس شخص کے لیے جو علمی اور ذہنی طور پر پختہ نہ ہو اور اہل بد کی غلط تاویلوں کی غلطی سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔سورہ نسا ء میں ہے۔ تو ان کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔ (النسا، آیت 140 )بے شک تم بھی اس وقت ان جیسے ہو۔برے شخص کی صحبت اس کے مرنے کے بعد بھی ناقابل قبول قرار‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کررہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہواپنے آپ کو فاحش قسم کے لوگوں کی بری صحبت سے دور رکھیںاپنی عزت، دین، ایمان اور تقوی کی حفاظت کے لئے ہمیں ان تمام دوستوں، سوسائٹیز، مقامات اور اشیاسے دوری اختیار کرنی چاہئے جو فتنہ وفساد کا باعث بن سکتی ہیںجیسے بازار، مخرب اخلاق میگزین اور رسائل، حیا سوز فلمیں، ٹی وی چینلز، انٹر نیٹ کے ویب سائٹس اور عریاں اشتہارات وغیرہ وغیرہ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(ترمذی 2378 ) آدمی اپنے دوست کے دین پرہوتا ہے ، اس لیے تم میں سے ہرشخص کویہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہاہے لہٰذا ایسی مجالس، دوستیاں اور سوسائٹیز ، بالخصوص غیر اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہونے سے اپنے آپ کو بچا کر رکھا جائے جہاں زنا کاری اور بدکاری کو گناہ نہیں سمجھا جاتااولاد پر خصوصی توجہ دی جائے ،اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو بری دوستی کا نتیجہ کتنا مہلک ہے۔سورہ صافات میں اللہ تعالیٰ نے جنتی لوگوں کی مجالس کا تذکرہ کیا ہے کہ جنتی جنت میں لگی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے دنیا میں گزرے ہوئے حالات و واقعات پوچھیں گے اور سنائیں گے ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی؟پھر وہ مومن اپنے جنتی ساتھیوں اور ہم نشینوں سے کہے گا، کیا تم جہنم میں جھانکو گے، شاید وہ کہیں نظر آجائے تو دیکھیں کس حال میں ہے؟چنانچہ وہ مومن اپنے دوستوں کے ساتھ جھانکے گا تو قیامت کے اس منکر کو بھڑکتی ہوئی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔
پھر وہ اسے مخاطب کر کے کہے گا، اللہ کی قسم ! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے راہ راست سے بہکا کر ہلاک کر دیتا۔اس ساری گفتگو کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یوں بیان کیا ہے فرمایا‘(الصافات : 50 ) پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا بے شک میں، میرا ایک ساتھی تھا۔(الصافات : 51) وہ کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تو بھی ماننے والوں میں سے ہے۔ِ(الصافات : 52 )کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہم ضرور جزا دیے جانے والے ہیں؟ (الصافات : 53 )کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو؟(الصافات : 54 )پس وہ جھانکے گا تو اسے بھڑکتی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔(الصافات : 55 )کہے گا اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے ہلاک ہی کر دے۔ (الصافات : 56 )اور اگر میرے رب کی نعمت نہ ہوتی تو یقینا میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کیے گئے ہیں۔(الصافات : 57 )
برا دوست عذاب الہی کی ایک شکل ہے جب کوئی شخص دنیا کی زیب و زینت میں ہمہ تن مشغول ہو جاتا ہے اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے،تو فرشتے اس سے نفرت کرتے ہیں اور شیطان اور غلط دوست اس سے چمٹ جاتے ہیں، جو اسے ہر برائی میں مبتلا کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔فرمایا‘(الزخرف: 36) اور جو شخص رحمن کی نصیحت سے اندھا بن جائے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں، پھر وہ اس کے ساتھ رہنے والا ہوتا ہے۔(الزخرف : 37)اور بے شک وہ ضرور انھیں اصل راستے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں ۔(الزخرف : 38)یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیا ن دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔(الزخرف : 39)اور آج یہ بات تمھیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔قیامت کے دن انسان خواہش کرے گاکاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا‘ فرمایا‘ (الفرقان : 27 )اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔(الفرقان : 28 )ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔(الفرقان : 29 )بے شک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔
ہر ایسے شخص، مجلس اور ماحول سے دور رہیں جہاں ایمان خطرے میں پڑنے کا امکان ہوسیدنا عمران بن حصین بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا(4319 صحیح)جو شخص دجال کے متعلق سنے تو اس سے دور رہے اللہ کی قسم ! آدمی اس کے پاس آئے گا جب کہ وہ سمجھتا ہو گا کہ وہ صاحب ایمان ہے مگر ان شبہات کی بنا پر جو اس کی طرف سے اٹھائے جائیں گے اس کی اتباع کر بیٹھے گا ۔ امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں‘ آپ نیک لوگوں کے ساتھ پتھر منتقل کریں یقینا یہ آپ کے لئے برے لوگوں کے ساتھ مٹھائی کھانے سے کہیں بہتر ہے اللہ کریم ہمیں نیک صحبت ہمیشہ کے لئے نصیب فرمائے اور بری صحبت سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

یہ بھی پڑھیں