Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

برائی کی جڑ اور صبر کی قیمت

میں نے ہمیشہ بزرگوں سے یہ نصیحت سنی ہے کہ اگر کوئی برائی کو ختم کرنا چاہے تو اسے اس کی جڑ سے اکھاڑنا چاہیے۔ کسی مرض یا مسئلے کی اصل وجہ تلاش کرنا صبر، دانائی اور وقت مانگتا ہے۔ بعض اوقات تشخیص میں علاج سے زیادہ وقت لگتا ہے، مگر جب اصل وجہ معلوم ہو جائے تو شفا جلدی نصیب ہوتی ہےلیکن اگر تشخیص غلط ہو تو اس کے نتائج اکثر سنگین اور خطرناک ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ہے، ایک ایسا بحران جس کی جڑ پاکستان شروع دن سے جانتاتھامگرجسکےعلاج کےلیےصبر اور استقامت درکار تھی۔
پاکستان کا رویہ ہمیشہ محتاط، سنجیدہ اور حقیقت پر مبنی رہا ہے۔ پاکستان نے ابتدا ہی میں سمجھ لیا تھا کہ افغانستان کی مخاصمت محض نظریاتی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہےجس میں بھارت کا پوشیدہ ہاتھ مغربی سرحد پر آگ بھڑکا رہا ہے۔ یہ شر انگیزی برسوں پسِ پردہ چلتی رہی، یہاں تک کہ مئی میں پاکستان نے اسے فیصلہ کن انداز میں بےنقاب اورختم کرنے کاقدم اٹھایا مگر عادتِ فریب اور دھوکہ دہی آسانی سے نہیں جاتی، اسی لیے پاکستان کو ’’ٹیڑھی انگلی‘‘ والی حکمتِ عملی اختیار کرنا پڑی یعنی ایک سخت مگرضروری اقدام تاکہ ایک ایسے ہمسائے کو راہِ راست پر لایا جا سکے جو توازن کھو چکا ہے۔ حالیہ سرحدی جھڑپ کوئی غیر ارادی یا بےجا کارروائی نہیں تھی۔ یہ دراصل ان برسوں کا نتیجہ ہے جن میں افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گردی کے حملے ہوتے رہے۔ اصل مسئلہ افغانستان کی یہ ضد ہےکہ وہ ان دہشت گرد گروہوں کو ختم نہیں کر رہا جو مسلسل پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہ آزادانہ کارروائیاں کرتے ہیں جن کی موجودگی اور سرگرمیوں کی تصدیق اقوامِ متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی ادارے کر چکے ہیں۔
پاکستان نےبرسوں صبرسےکام لیا۔ اس نے مکالمے،سفارت کاری اوربرادرانہ اپیلوں کے ذریعے کابل کو وعدے پورے کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ 2022ء میں پاکستان کے جید علمائے کرام،جن کی قیادت مفتی تقی عثمانی کررہے تھے،کابل گئےتاکہ طالبان اور ٹی ٹی پی دونوں کو قائل کریں کہ وہ تشدد ترک کر دیں۔ اس کے بعد قبائلی جرگہ منعقد ہوا، پھر 2023ء اور 2024ء میں وزراء کی سربراہی میں کئی سرکاری وفود کابل گئے، ہر بار امن اور تعاون کا پیغام لے کر۔ مگر کابل کا ردِعمل سرد مہری اور ضد پر مبنی رہا۔
پاکستان کی نیک نیتی کے باوجود،چاہے وہ تجارت میں سہولت ہو،ویزامیں نرمی، یا افغانستان کے منجمد اثاثےبحال کرانے کی کوشش،کابل کی عبوری حکومت نے اپنی سرزمین ان قاتلوں کے لیے پناہ گاہ بنا دی جو پاکستانیوں کا خون بہاتے ہیں۔ یہ المیہ دوچند ہو جاتا ہے جب یاد آتا ہے کہ 2021ء میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو پوری دنیا نے افغانستان سے منہ موڑ لیا مگر پاکستان نے اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا۔ پاکستان نے غیرملکیوں کے انخلا میں مدد کی، انسانی امداد کی وکالت کی اور عالمی طاقتوں سے افغان حکومت کی تسلیمیت کے لیے آواز بلند کی لیکن بدلے میں پاکستان کو بم، گولیاں اور دھوکہ ملا۔
اب حقیقت چھپی نہیں رہی۔ اقوامِ متحدہ کی 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور القاعدہ کو نہ صرف پناہ دیتی ہے بلکہ مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔ کنہڑ، نورستان اورپکتیکا میں تربیتی کیمپ سرگرم ہیں، جہاں سے ہزاروں جنگجو سرکاری سرپرستی میں پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کا سربراہ کابل میں آرام و آسائش کی زندگی گزار رہا ہے اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی مالی اعانت کرتا ہے۔ یہ لاعلمی نہیں بلکہ شراکت داری ہے، ریاستی پشت پناہی میں دہشت گردی۔ پاکستان کا صبر بےمثال ضرور ہےمگر لامحدود نہیں۔ ہمارے فوجی اورشہریوں کا بہایا گیا ہر قطرہ خون جواب مانگتا ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک پچاس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی ، ایک ایسی قربانی جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں۔ اس نے سماجی و معاشی طور پر نقصان برداشت کیا تاکہ ہمسایہ ملک سنبھل سکے۔ اسپتال بنائے، افغان نوجوانوں کو تعلیم دی، تعمیرِ نو میں حصہ لیا لیکن سخاوت غلامی نہیں بن سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان اپنے وطن لوٹیں۔ ان کی ’’اسلامی انقلاب‘‘ کو پانچ برس ہوچکے ہیں، اب انہیں عزت و خودداری سے اپناملک تعمیرکرناچاہیے۔ پاکستان کی زمین اور وسائل اس کے 25 کروڑ شہریوں کے ہیں، جنہوں نے اب تک بہت بوجھ اٹھا لیا ہے۔
پاکستان نے معاشی تعاون میں بھی خلوص دکھایا۔ ارلی ہارویسٹ پروگرام کے ذریعے افغان برآمدات کے لیے محصولات کم کیے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت بندرگاہیں کھول دیں مگر بدلےمیں سرحدپار حملے، دراندازیاں اور ہمارے محافظوں کی شہادتیں نصیب ہوئیں۔ پاکستان کی خودمختاری کی ایک حد ہے اور جب یہ بار بار پامال ہو تو وہ حد سرخ لکیر بن جاتی ہے۔افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ خودمختاری کوئی نعرہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک کوئی ملک اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم نہیں کرتا، اسے سرحدوں کے احترام کا حق حاصل نہیں۔ جب پاکستان دہشت گرد ٹھکانوں پرکارروائی کرتا ہے تو کابل اسے جارحیت کہتا ہے حالانکہ وہ اہداف جائزاورخطرناک ہیں۔ دہشت گرد افغان شہروں میں کھلے عام رہائش اور تربیت گاہیں چلا رہے ہیں اور طالبان حکومت ان کی موجودگی سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش ہے۔یہ خاموشی دراصل اعترافِ جرم ہے۔ افغان سرزمین ایک بار پھر غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کےکھیل کامیدان بن چکی ہے۔ نیٹو کےچھوڑے گئےاربوں ڈالر کے ہتھیاراب انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں جو پاکستانیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ افغان شہری،تربیت یافتہ اور مالی مدد یافتہ، پاکستان کے شہروں اور سیکورٹی اداروں پر حملوں میں شریک ہیں۔ اب اسے ’’اندرونی معاملہ‘‘ قرار نہیں دیاجا سکتا یہ منظم جارحیت ہے۔ پاکستان کا ضبط کمزوری نہیں۔ ہم مکالمے اور امن کے قائل ہیں مگر اپنی خودمختاری اور عوام کےتحفظ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اگرحملےجاری رہے تو پاکستان کو حق حاصل ہےکہ 4جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوں، انہیں ختم کرے۔ ہم صبر کی قوم ہیں مگر عزم کی بھی۔چار دہائیوں سے پاکستان نے افغانستان کے ساتھ وفاداری نبھائی ہے،جنگوں، قحطوں اور سیاسی تباہی کےدوران،ایمان اور اخوت کے رشتے کے تحت،مگر سچا بھائی چارہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا۔ اب افغانستان کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس تعلق کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنی زمین سے دہشت گردوں کو ختم کرتا ہے۔ طالبان حکومت کو انکارکی روش چھوڑکر دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے اور ٹی ٹی پی اور اس کےحامیوں کےخلاف عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنی چاہیے۔
ابھی بھی وقت ہے۔ افغانستان امن کی راہ اختیار کر سکتا ہے، نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ اپنی بقا اور استحکام کے لیے۔ تاریخ انہیں یاد رکھے گی جنہوں نے نفرت بوئی مگر عزت ان کےحصے میں آئے گی جنہوں نے وہ جڑ کاٹی جس نے دو برادر ملکوں کے درمیان زہر گھول دیا۔

یہ بھی پڑھیں