کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ حال ہی میں قائم ہونے والا پنجاب پولیس کا خصوصی ادارہ ہے، جس نے عادی مجرموں پر غلبہ اور خوف طاری کر رکھا ہے۔پنجاب پولیس کے ترجمان کا دعوی ہے کہ سی سی ڈی کے باعث صوبے میں جرائم کا گراف حیران کن حد تک کم ہوا ہے۔جبکہ اس کے برعکس کچھ میڈیا پرسن کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی کے قیام سے کرائم کے تناسب میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی محدود وسائل میں مثر کوآرڈینشن کے ذریعے شاندار نتائج دے رہا ہے۔صوبے کی چیف ایگزیکٹو ہی نہیں،عوام بھی اس کی کارکردگی اور نتائج سے خوش اور مطمئن ہیں۔یہ ڈیپارٹمنٹ نہایت سرعت کے ساتھ پنجاب بھر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہا ہے۔اس نے اپنے قیام کے بعد جرائم پیشہ افراد کے خلاف جس منظم طریقے سے اپنی کارروائی کا آغاز کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔کام میں نیک نیتی ہو تو کارکردگی سر چڑھ کر بولتی ہے۔لوگ بھی باور کرنے لگتے ہیں کہ کچھ تو اچھا ہو رہا ہے۔دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی اگرچہ سی آئی اے (CIA) پولیس موجود ہے جس کا کام ہی آرگنائزڈ کرائم پر کام کرنا ہے۔اس کے باوجود پنجاب حکومت کو سی سی ڈی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حیران کن بات ہے۔گلیوں، بازاروں، کوچوں اور چوراہوں میں آج کل اسی کی بات ہو رہی ہے۔ایک گھمبیر خوف ہے جو جرائم پیشہ افراد میں پایا جاتا ہے جبکہ بے شمار عادی مجرم یا تو ملک چھوڑ گئے ہیں یا زیر زمین چلے گئے ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق سنگین وارداتیں کرنے والے اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔جبکہ ایسے افراد کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جا رہا ہے جو سکولوں،کالجوں کے باہر اور محلوں میں طالبات اور خواتین کے لیئے ہراسگی کا باعث بن رہے تھے۔بعض مقامات پر سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہراسگی کے جن ملزمان کی شناخت ہوئی اور سی سی ڈی پولیس انہیں گرفتار کرنے پہنچی تو ان کے نیفے میں رکھا پستول چل گیا۔جس کے بعد ان ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کے بعد علاج معالجے کے لیئے ہسپتالوں میں پہنچانا پڑا-قانون میں کہیں درج نہیں کہ پولیس ماورائے آئین کوئی کام کرے یا وہ ایسا کر سکتی ہے۔جو بھی خلاف آئین کام کرتا ہے اسے بالآخر سزا کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔متاثرہ شخص یا اس کا کوئی فیملی ممبر ایف آئی آر کے اندراج یا پرائیویٹ استغاثہ کی صورت میں پولیس کے خلاف ضابطے کی کارروائی کا مجاز ہے۔ماضی میں ایسی بہت سی کارروائیاں ہوتی بھی رہی ہیں جن کے مثبت اور بہت ہی دوررس نتائج نکلے۔سی سی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کا کچھ دن پہلے ایک بیان سن رہا تھا جو حوصلہ افزا اور اطمینان بخش تھا۔فرما رہے تھے پنجاب میں جلد ایسا وقت آنے والا ہے جب خواتین زیورات پہن کر گھر سے باہر نکلیں گی تو انہیں کوئی ڈر اور خطرہ محسوس نہیں ہو گا۔ان کا کہنا تھا مریم نواز نے پنجاب سے جرائم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس ضمن میں سی سی ڈی کو مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں۔سی سی ڈی کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ کسی بھی عادی یا بدنام جرائم پیشہ کو نہ چھوڑا جائے۔ہر حال میں ان کی سرکوبی کی جائے۔سی سی ڈی کو ملنے والے لامحدود اختیارات سے پنجاب پولیس کو شدید تحفظات ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ سی سی ڈی کو تفویض کئے گئے اختیارات سے پنجاب پولیس کے اختیارات میں واضح کمی آئی ہے جس سے ان کا مورال ڈان ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر آج کل اسلحہ کی نمائش کرنے والوں، منشیات فروشوں، تلنگوں،لفنگوں کی معافیاں مانگنے اور توبہ تائب ہونے کی ویڈیوز نے رونق لگا رکھی ہے۔کہا جا رہا ہے،سی سی ڈی کے خوف سے جرائم پیشہ افراد پنجاب سے بھاگ رہے ہیں یا معافیاں مانگ رہے ہیں۔وہ اپنے سدھر جانے کی قرآن پر قسمیں کھا رہے ہیں۔عادی جرائم پیشہ اِن دنوں سی سی ڈی کے خوف سے لرزہ براندام ہیں۔حکومت پنجاب نے سی سی ڈے کے قیام سے پولیس میں اصلاحات کا جو بیڑہ اٹھایا ہے،بہت قابل رشک ہے۔دوسرے صوبے بھی اس کی تقلید کریں اور انہیں سہیل ظفر چٹھہ جیسے افسر میسر آجائیں توجرائم کے خاتمے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔لوگ اس طرح سکھ کا سانس لے سکیں گے۔پنجاب میں پولیس کی ناقص کارکردگی کا جو تاثر قائم تھا،اب وہ بھی زائل ہونے لگا ہے۔پرامن شہریوں کی سی سی ڈی سے وابستہ توقعات کافی بڑھ گئی ہیں۔پنجاب حکومت کے مطابق صوبے کے ہر ڈسٹرکٹ میں سی سی ڈی پولیس اسٹیشن قائم کیئے جائیں گے جو خصوصی طور پر چوری، ڈکیتی، ریپ، اغوا، بلیک میلنگ اور زمینوں پر ناجائز قبضوں جیسے واقعات دیکھیں گے۔ایف آئی آرز درج کریں گے۔اور جرائم کی بیخ کنی کے لیئے کام کریں گے۔سی سی ڈی کو جدید اے آئی اور ڈرون ٹیکنالوجی سے بھی آراستہ کیا گیا ہے۔جس میں ڈیجیٹل کرائم ڈیٹا سسٹم کے ذریعے مجرموں کی شناخت اور گرفتاری کی جا سکے گی۔سی سی ڈی کے قیام کے بعد سے مختلف لوگ اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کارکردگی ہو تو تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی۔عادی جرائم پیشہ کا خوف بتا رہا ہے، سی سی ڈی واقعی بڑے کام کی چیز ہے۔آج نہیں تو کل پنجاب جرائم پیشہ سے ضرور پاک ہو گا اور امن کا گہوارہ بن جائے گا۔
