Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

غریب کی جھونپڑی سے اشرافیہ کے ڈرائنگ روموں تک

پاکستان کی سرزمین پر جہاں دریائے سندھ کی لہریں ہزاروں سالوں سے تمدن کی کہانیاں سنا رہی ہیں آج ایک المیہ جنم لے رہا ہے جو نہ صرف ہماری معیشت کو کھوکھلا کر رہا ہے بلکہ قوم کی روح کو بھی مجروح کر رہا ہے۔ غریب کی جھونپڑی سے لے کر اشرافیہ کے پرتعیش ڈرائنگ روموں تک یہ فرق نہ صرف معاشی ہے بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی۔ ایک طرف کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے تڑپ رہے ہیں، بیروزگاری کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور غربت کی زنجیروں میں جکڑے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف حکمران طبقہ جو خود کو ریاست کا سرپرست کہتا ہے اپنی مراعات کا ایسا انبار لگا رہا ہے کہ دیکھ کر شرم آتی ہے۔ پاکستان پچھلے 20 سالوں سے بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک سے پیچھے چل رہا ہے اور پچھلے تین سالوں میں تو خود اپنے سے بھی پیچھے جا رہا ہے۔ حکومت نے اخراجات کم کرنے کی بجائے صرف ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا ہے جس سے نہ سرمایہ کاری آ رہی ہے، نہ گروتھ ہو رہی ہے بلکہ بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ اصلاحات کا نام و نشان نہیں ہے۔
آئیے پہلے معاشی منظر نامے پر نظر ڈالیں۔ پچھلے 20 سالوں میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 ء میں پاکستان کا جی ڈی پی پر کیپیٹا صرف 1,484 امریکی ڈالر تھا جبکہ بھارت کا 2,696 ڈالر اور بنگلہ دیش کا 2,593 ڈالر۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جہاں بنگلہ دیش نے اپنی معیشت کو برآمدی صنعتوں خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی بنیاد پر مضبوط کیا ہے اور بھارت نے ٹیکنالوجی اور سروسز سیکٹر میں انقلاب برپا کیا ہے وہاں پاکستان اب بھی پرانی پالیسیوں اور سیاسی عدم استحکام کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ 1972 ء سے 2016 ء تک بنگلہ دیش کا جی ڈی پی 37 گنا بڑھا جبکہ پاکستان کی ترقی کی رفتار اس سے کہیں کم رہی۔ بنگلہ دیش کا پر کیپیٹا جی ڈی پی اب پاکستان سے آٹھ سالوں سے زیادہ ہے جو 2,621 ڈالر ہے جبکہ پاکستان پیچھے رہ گیا۔ یہ فرق صرف اعداد کا نہیں بلکہ پالیسیوں کا ہے۔ بنگلہ دیش نے غربت میں کمی کے لیے مائیکرو فنانس اور خواتین کی شمولیت پر توجہ دی جبکہ پاکستان میں سیاسی انتشار اور کرپشن نے معیشت کو کھوکھلا کر دیا۔
اب پچھلے تین سالوں کی بات کریں تو صورتحال مزید ابتر ہے۔ پاکستان نہ صرف ہمسایوں سے پیچھے ہے بلکہ خود اپنے پچھلے ریکارڈ سے بھی پیچھے جا رہا ہے۔ حکومت نے معیشت کو استحکام دینے کے نام پر صرف ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا ہے جبکہ سرکاری اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری رک گئی ہے، معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2025 ء میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ صرف 2.7 فیصد متوقع ہے جو علاقائی اوسط سے کم ہے۔ بیروزگاری کی شرح 8 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور 2025 ء میں 6.81 ملین لوگ بیروزگار ہوں گے۔ غربت کی شرح 25.3 فیصد تک بڑھ گئی ہے جو 2023-24 میں اضافے کے بعد اب مزید بڑھ رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کا گروتھ ماڈل نہ آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے اور نہ غربت میں کمی لا سکتا ہے۔ یہ ماڈل استعمال پر مبنی ہے، درآمدات پر منحصر ہے اور اصلاحات کی کمی کی وجہ سے ناکام ہو رہا ہے۔ 2001-02 ء میں غربت کی شرح 64.3 فیصد تھی جو 2018-19 میں 21.9 فیصد تک کم ہوئی لیکن اب دوبارہ بڑھ کر 25.3 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
حکومت کی کوئی قابل ذکر اچیومنٹ نہیں ہے۔ خارجہ پالیسی کو دیکھیں تو امریکہ کے ساتھ زبردست تعلقات کا دعوی کیا جا رہا ہے لیکن کیا ملا؟ ٹھٹھو۔ افغانستان کے ساتھ آنا جانا ہے لیکن کیا فائدہ؟ ٹھٹھو۔ آئی ایم ایف سے قرضے لیے جا رہے ہیں مگر ایک دو بلین ڈالر سالانہ ملنے سے کیا ہوتا ہے؟ گروتھ تو رک گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے حال ہی میں 1.2 بلین ڈالر کی قسط منظور کی ہے لیکن یہ صرف قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہے نہ کہ حقیقی ترقی کے لیے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تجارت تو بڑھی ہے لیکن پاکستان کو انسانی امداد اور ترقیاتی امداد میں کمی آئی ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے مسائل نے تجارت کو متاثر کیا ہے اور 2025 ء میں حالیہ جھڑپوں نے سرحدیں بند کر دیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ حکومت نے اندرونی اصلاحات پر توجہ نہیں دی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ریفارمز کا دعوی کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ناکام رہے ہیں۔ زرعی قرضوں میں کمی آئی ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریٹیو کو 11 فیصد کرنے کا دعوی ہے لیکن کرپشن اور غیر موثر پالیسیاں جاری ہیں۔ ورلڈ بینک نے بھی کہا ہے کہ کمزور اصلاحات کی وجہ سے غربت میں کمی نہیں آ رہی۔
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو قائم ہوئے تین سال ہونے کو ہیں لیکن سرمایہ کاری کا نام و نشان نہیں۔ وزیر سرمایہ کاری نے خود تسلیم کیا ہے کہ اب تک ایک ڈالر کی بھی سرمایہ کاری نہیں آئی۔ اگرچہ کچھ رپورٹس میں 2 بلین ڈالر کا دعوی کیا گیا ہے لیکن یہ بنیادی طور پر مقامی یا چھوٹے پیمانے کی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔ SIFC کو معیشت کو بحال کرنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن قانونی رکاوٹیں اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ ناکام رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ معیشت استحکام سے ترقی کی طرف نہیں جا رہی بلکہ بیروزگاری اور غربت بڑھتی جا رہی ہے۔پاکستان کا مستقل المیہ اشرافیہ کی مراعات ہے۔ یہ طبقہ ریاست کو اپنی چراگاہ سمجھتا ہے۔ وزرا، مشیر، جج، جرنیل، اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، وزیر اعلی، گورنر اور اعلی بیوروکریسی کی مراعات کا انبار دیکھیں۔ ملک غریب ہے خزانہ خالی ہے، بجٹ خسارے میں ہے لیکن اشرافیہ کے ناز و نعم کے لیے سب رکاوٹیں ہٹ جاتی ہیں۔ 2025 میں وفاقی وزرا کی تنخواہیں 519,000 روپے ماہانہ تک بڑھا دی گئیں جو پہلے 200,000 تھیں۔ یہ اضافہ 535 فیصد کا ہے! صوبائی وزرا بھی پیچھے نہیں، بعض کی مراعات وفاق سے زیادہ ہیں۔ چیف منسٹرز کو 925,000 روپے اور پرائم منسٹر کو اس سے زیادہ۔ ججز اور جرنیلز کی تنخواہیں اور الانسز ایسے ہیں کہ عام پاکستانی کی پانچ نسلیں کمائیں تو بھی نہ پہنچیں۔ یہ سب کچھ اس وقت جب غریب کی جھونپڑی میں بھوک اور افلاس ہے۔
قرضے کی بات کریں تو پاکستان کا کل سرکاری قرضہ جی ڈی پی کا 71.6 فیصد ہو گیا ہے جو 2016 ء میں 60 فیصد تھا۔ یہ اضافہ 10 فیصد سے زیادہ ہے اور 2025 ء میں یہ مزید بڑھ رہا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضے صرف سانس لینے کے لیے ہیں نہ کہ ترقی کے لیے۔
یہ صورتحال تبدیل ہونی چاہیے۔ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اخراجات کم کریں، ٹیکس بیس بڑھائیں، اشرافیہ کی مراعات ختم کریں اور حقیقی سرمایہ کاری لائیں۔ غریب کی جھونپڑی سے اشرافیہ کے ڈرائنگ روم تک یہ فرق ختم کرنا ہو گا ورنہ قوم کا مستقبل تاریک ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکمران اپنے آپ سے پوچھیں کیا یہ ملک صرف اشرافیہ کا ہے، یا سب کا؟

یہ بھی پڑھیں