Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

لاہور کا سموگ تھیٹر

پنجاب خاص طور پر لاہور ہر سال سردیوں کے موسم میں سموگ کے گھٹن زدہ بادل کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ہوا میں معلق زہریلے ذرات (پی ایم 2.5 )کی سطح عالمی ادارہ صحت کی حد سے 21 گنا زیادہ ہے جو نہ صرف صحت عامہ کے لیے خطرہ ہے بلکہ اوسط زندگی کو 7 سال تک کم کر رہی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے باوجود پنجاب حکومت کی جانب سے سموگ کے خاتمے کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات محض دکھاوے اور تشہیر تک محدود ہیں۔ اینٹی سموگ گن یا اینٹی فوگ گنز جیسے منصوبے جو ماحولیات کی وزیر مریم اورنگزیب اور پنجاب حکومت کی جانب سے بڑے جوش و خروش سے متعارف کرائے گئے ہیں نہ صرف ناکام ثابت ہوئے ہیں بلکہ سائنسی شواہد کے مطابق یہ فضائی آلودگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
لاہور جو کبھی باغات کا شہر کہلاتا تھا اب دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے۔ فضائی آلودگی کی بنیادی وجوہات میں صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، زرعی باقیات کو جلایا جانا کوئلے سے چلائے جانے والء اینٹوں کے بھٹے اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر شامل ہیں۔اس بحران سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت نے متعدد اقدامات کا اعلان کیا جن میں سے دھند توپ یا اینٹی سموگ توپ سب سے زیادہ توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مشینیں پانی کی باریک دھند کو ہوا میں چھڑکتی ہیں جس کا مقصد ہوا میں معلق ذرات کو زمین پر گرانا ہے۔ مریم نواز اور ان کے والد محمد نواز شریف کی تصاویر سے مزین یہ گاڑیاں لاہور کی سڑکوں پر گھومتی نظر آتی ہیں لیکن ان کا اثر صفر سے بھی کم ہے۔2023 ء کے ایک چینی مطالعے نے دھند توپ کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لیا۔ اس مطالعے میں سڑک کے ایک حصے پر دھند توپ کے گزرنے سے پہلے اور بعد میں ہوا کی کوالٹی کی پیمائش کی گئی۔ نتائج حیران کن تھے۔ دھند توپ کے استعمال کے 25 سے 35 منٹ بعد پی ایم 2.5 کی سطح میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس کی وجہ پانی کی محدود چھڑکا سے زہریلے کیمیکلز کی کیمسٹری میں تبدیلی تھی جس سے مزید چھوٹے ذرات بنے اور فضائی آلودگی بڑھ گئی۔ یہ ٹیکنالوجی سب سے پہلے چین میں 2013-2015ء میں استعمال کی گئی تھی لیکن اسے غیر موثر قرار دیا گیا۔ بھارت، تھائی لینڈ اور میکسیکو میں بھی اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے نتائج مایوس کن رہے ہیں۔ دہلی میں 2017 ء میںاس کا تجربہ کرکےمسترد کر دیا گیا۔ ایک مطالعے کے مطابق دہلی میں دھند توپ کے استعمال سے پی ایم 2.5 کی سطح میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں آئی بلکہ پانی کے ضیاع اور توانائی کے استعمال کی وجہ سے یہ مہنگا پڑا۔ دہلی حکومت نے اس کے بجائے گاڑیوں کے اخراج کو کم کرنے اور صنعتی آلودگی پر کنٹرول کے اقدامات پر توجہ دی۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں 2019 ء میں دھند توپ کا استعمال کیا گیا لیکن مقامی ماہرین ماحولیات نے اسے پانی کا ضیاع قرار دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق دھند توپ سے چھڑکا گلیوں میں عارضی طور پر دھول کم کر سکتا ہے لیکن یہ سموگ کے بنیادی ذرائع جیسے زرعی جلا اور صنعتی اخراج کو حل نہیں کرتا۔میکسیکو سٹی میں 2016 ء میں دھند توپ کے تجربات کیے گئے لیکن وہاں بھی نتائج غیر تسلی بخش تھے۔ میکسیکو کے ماحولیاتی ادارے نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی صرف بڑے ذرات جیسے دھول کو زمین پر گرانے میں محدود اثر رکھتی ہے لیکن پی ایم 2.5 جیسے باریک ذرات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے دھند توپ کے استعمال کو پنجاب کے موسمیاتی منصوبے کے تحت پیش کیا جا رہا ہے لیکن اس کی افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب کی سربراہی میں ماحولیاتی شعبے نے ان گاڑیوں پر مریم نواز کی تصاویر چسپاں کر کے کروڑوں روپے سے ایک بہت بڑی تشہیری مہم شروع کی ہے۔ لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ وسائل فضائی آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے تھے؟
مثال کے طور پر پنجاب میں زرعی باقیات کو جلانا سموگ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسے روکنے کے لیے کسانوں کو متبادل مشینیں جیسے ہیپی سیڈر فراہم کرنے یا سبسڈی دینے کے بجائے حکومت نے دھند توپ جیسے غیر موثر حل پر سرمایہ کاری کی۔ اسی طرح صنعتی اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے اور پرانے ڈیزل انجنوں والی گاڑیوں پر پابندی لگانے کے بجائے حکومت محض دکھاوے کے اقدامات پر توجہ دے رہی ہے۔
فضائی آلودگی جیسے پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنسی اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔صنعتی اخراج پر کنٹرول سب سے اہم اقدام ہے۔ فیکٹریوں اور بجلی گھروں کے لیے سخت ماحولیاتی معیارات نافذ کیے جائیں۔ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے تبدیل کیا جائے۔ کسانوں کو زرعی باقیات جلانے کے بجائے بائیو ایندھن یا کھاد بنانے کی ترغیب دی جائے اور باقیات کو جلانے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ دھواں چھوڑنے والی پرانی گاڑیوں پر پابندی لگا کر انہیں سڑکوں پر آنے سے فوری روکا جائے۔ حقیقی وقت میں ہوا کی کوالٹی کے ڈیٹا کی دستیابی اور عوام میں شعور اجاگر کیا جائے۔ سموگ ایک سرحد پار مسئلہ ہے۔ پاکستان کو بھارت کے ساتھ مل کر زرعی باقیات کو جلائے جانے سے روکنے اور صنعتی اخراج پر مشترکہ حکمت عملی بنانی چاہیے۔
پنجاب کا سموگ بحران ایک سنگین حقیقت ہے جو لاکھوں لوگوں کی صحت اور زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب حکومت کے اقدامات جیسے دھند توپ محض نمائشی اور تشہیر کے لیے ہیں۔
سائنسی شواہد اور عالمی تجربات واضح کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے بجائے بڑھاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ وسائل کو دکھاوے کے بجائے مستقل حل پر لگائے تاکہ لاہور کے شہری صاف ہوا میں سانس لے سکیں۔ جب تک آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کنٹرول نہیں کیا جاتا دھند توپ جیسے اقدامات صرف ایک سموگ تھیٹر ہی رہیں گے۔
لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرِفہرست آ جانا محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں یہ ہماری بدانتظامی، بیحسی اور حکومتی نااہلی کا زندہ استعارہ ہے۔ یہ وہ شہر تھا جو کبھی اپنی خوشبو، رنگ اور روشنیوں سے پہچانا جاتا تھا آج دھول، دھوئیں اور زہریلی فضا میں دفن ہوتا جا رہا ہے۔ یہ دراصل حکمرانوں کے طرزِ حکمرانی پر ایک الزام نامہ ہے جس میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ نہ کوئی منصوبہ بندی ہے نہ احساسِ ذمہ داری۔ لاہور کی آلودگی اب صرف فضا میں نہیں ضمیر میں بھی سرایت کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں