حضرت علیؓ کا ارشاد ہے:’’اگر تم کسی کے ساتھ بھلائی کرو تو اس کے شر سے بچو۔‘‘ یہ ابدی دانش صدیوں کا فاصلہ طے کرتی ہوئی آج پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں زندہ مثال بن چکی ہے۔ پاکستان نے اپنے مغربی ہمسائے کے ساتھ ہمیشہ خیرسگالی، اخوت اور مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا۔ دہائیوں تک پاکستان نے افغانستان کے لاکھوں شہریوں کو پناہ دی، عزت دی اور مواقع فراہم کیے۔ جو لوگ خالی ہاتھ سرحد عبور کر کے آئے، انہوں نے یہاں نہ صرف پناہ پائی بلکہ خوش حالی بھی دیکھی۔ ان کے لئے تعلیم، علاج، روزگار کے دروازے کھولے گئے۔ ہزاروں نے کاروبار قائم کیے، جائیدادیں خریدیں، اور کئی پاکستانی شہریت تک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جنہیں رحمت و محبت سے نوازا گیا، وہی آج اپنے محسن کے دشمنوں کے ساتھ صف بندی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کابل سے آنے والی تازہ اطلاعات ایک تشویش ناک منظر نامہ پیش کر رہی ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت نے بھارت کے ساتھ مل کر ان دریاؤں پر بند باندھنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے جو براہِ راست پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ ایک نیا اور زیادہ خطرناک جارحانہ انداز ہے — جو گولی یا توپ سے نہیں بلکہ پانی کے کنٹرول سے وار کرتا ہے، یعنی اس نعمت پر قبضہ جو کسی قوم کی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ میدانِ جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھارت نے اپنی دشمنی کا رخ ایک نئے محاذ کی طرف موڑ لیا ہے‘ پانی کی جنگ، جو افغان سرزمین سے لڑی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے بھارت کے ساتھ دریائے کنڑ پر ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کے لئے مفاہمت کر لی ہے، جو دریائے کابل کی ایک اہم شاخ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کو محدود یا مکمل طور پر روک دینا ہے۔ اس کے عوض بھارت نے ایک ارب ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور نغلو، درونتہ، شاہ توت، شاہ وروس، گمبری اور بغدارہ سمیت کئی دیگر منصوبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات پاکستان کے آبی تحفظ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ دریائے کابل ہر سال تقریباً 1 کروڑ 65 لاکھ ایکڑ فٹ پانی پاکستان کو فراہم کرتا ہے، جو خیبرپختونخوا کے زرخیز اضلاع پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ میں گندم، مکئی اور گنے جیسی اہم فصلوں کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر اس پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ یا چھیڑ چھاڑ کی گئی تو لاکھوں افراد کے روزگار اور پاکستان کے زرعی توازن کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
بھارت اور افغانستان کا یہ ابھرتا ہوا گٹھ جوڑ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تزویراتی خطرہ ہے۔ پانی کو اب دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ آبی تحفظ ہی قومی تحفظ ہے، اور کسی ملک کو پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کو سیاسی یا عسکری ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بھارت کا ماضی اس حوالے سے کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ 1960ء میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھارت نے بارہا اس کی روح اور متن دونوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں بھارت نے ان مغربی دریاؤں پر درجنوں چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کیے ہیں جو پاکستان کے حصے میں آئے تھے ‘ جیسے چناب، جہلم اور سندھ۔ بگلیہار ڈیم (چناب پر)، کشن گنگا (جہلم پر)، رَتلے اور پکل دل (سندھ طاس پر) بھارت کے یکطرفہ منصوبے ہیں جنہیں پاکستان کے اعتراضات اور بین الاقوامی ثالثی فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا۔ ان اقدامات نے نہ صرف اعتماد کو مجروح کیا بلکہ بھارت کو مغربی محاذ پر افغانستان کے ذریعے اسی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کا حوصلہ دیا۔
اس خطرے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے دفاعی سطح پر جامع حکمتِ عملی تشکیل دینا شروع کر دی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مرکز ’’چترال ریور ڈائیورشن پراجیکٹ‘‘ ہے ۔ ایک جرات مندانہ اور بصیرت افروز منصوبہ جو پانی کی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دریائے چترال کو اس کے افغانستان میں داخل ہونے سے پہلے دریائے سوات کے بیسن میں موڑنے کی تجویز ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو محفوظ بنایا جا سکے گا بلکہ تقریباً 2453 میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوگی، ہزاروں ایکڑ بنجر زمین زیرِ کاشت آئے گی، اور ورسک و مہمند ڈیمز کی ذخیرہ گاہوں میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ ان سیلابوں کے خطرے کو بھی کم کرے گا جو شمال مغربی علاقوں میں تباہی مچاتے رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ مکمل طور پر پاکستان کے خودمختار حقوق کے دائرے میں آتا ہے اور بین الاقوامی آبی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے۔ پاکستان اپنے قدرتی وسائل پر حقِ ملکیت جتاتے ہوئے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا بلکہ اپنے جائز حصے کو سیاسی استحصال سے محفوظ کر رہا ہے۔
سب سے زیادہ دکھ اس اخلاقی بدعہدی پر ہے جو اس تمام صورت حال میں پوشیدہ ہے۔ افغانستان کے لیے پاکستان کی سخاوت جدید تاریخ میں ایک نادر مثال ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصہ تک دنیا کی سب سے بڑی مہاجر آبادی کو پناہ دی‘ وہ بھی بھاری معاشی و سماجی قیمت ادا کر کے۔ لیکن شکر گزاری کے بجائے، آج وہاں سے ایسے اقدامات جنم لے رہے ہیں جو پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ اس منصوبے میں بھارت کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، کیونکہ یہ اسی کی دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے ۔ پاکستان کو مشرق سے عسکری طور پر اور مغرب سے تزویراتی طور پر گھیرنے کی پالیسی۔
پاکستان کے عوام اور ادارے آج اس یقین پر متفق ہیں کہ پانی کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔ سفارتی سطح پر پاکستان اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی ثالثی اداروں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ اس نئے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا جا سکے۔ تکنیکی سطح پر ملک میں ایسے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں جو پانی کے ذخائر، استعداد اور پائیداری میں اضافہ کریں۔ سیاسی سطح پر قومی اتفاقِ رائے کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ قومی مفاد کے اس حساس معاملے پر کوئی کمزوری نہ دکھائی جائے۔
پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں ‘ یہ پاکستان کی زندگی کی دھڑکن ہے۔ اس کا دفاع کرنا اختیار نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حق میں ایک فرض ہے۔ حضرت علیؓ کی بصیرت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بھلائی کے باوجود شر سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ نیکی کی، لیکن اب اسے اپنے خیر خواہی کے جذبے کو اپنی کمزوری نہ بننے دینا ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم بیداری، اتحاد اور عمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کوئی دشمن، خواہ قریب ہو یا دور، زندگی کے ان دریاؤں کو ہلاکت کے ہتھیار میں تبدیل نہ کر سکے۔