پاکستان نے بھارتی پروردہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مستحسن فیصلہ کیا ہے۔ علاقائی منظر نامے پر سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے پاک افغان مذاکرات کا معاملہ چھایا ہوا ہے۔بدقسمتی سے افغانستان آج دہشت گرد گروہوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ سرحد پار دہشت گرد حملوں میں تیزی کے تناظر میں افغان طالبان کی عبوری حکومت کا پاکستان دشمن دہشت گرد گروہوں سے قرب اور بھارت سے حالیہ تال میل کئی اعتبار سے باعث تشویش ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد کیمپوں پر حملوں کے بعد نام نہاد افغان فوج اور خارجی دہشت گردوں کی پاکستانی سرحدی چوکیوں پر مشترکہ شر انگیزی بھارت کے اکسانے پر کی گئی۔ پاکستان کیبرق رفتار ردعمل نے دشمن کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے۔ بات مذاکرات کی میز تک آ پہنچی ہے۔ قطراور ترکی بطور ثالث مذاکرات کی میزبانی کر رہے ہیں۔ پہلے دوحہ مذاکرات میں پاکستان نے جنگ بندی کو سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے سے مشروط کروایا۔ بعدازاں گزشتہ ہفتے لگ بھگ چھ روز استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے وفود کے درمیان انتہائی اہم مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔ مذاکرات کا مقصد پاکستان کی طرف سے ایک ہی بنیادی مطالبے پر پیش رفت حاصل کرنا تھا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے موثر طور پر روکا جائے ، اور بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں، خصوصا فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)اور فتنہ الہندوستان(بی ایل اے)کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کی یقین دہانی حاصل کی جائے۔ یہ مذاکرات کئی موقعوں پر تعطل کا شکار ہوتے دکھائی دیئے۔ خاص طور پر جمعرات کے دن تک صورتحال یہ تھی کہ بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی تھی اور پاکستانی وفد واپسی کی تیاری کر چکا تھا۔ تاہم، میزبان ممالک ترکیہ اور قطر کی وساطت سے افغان طالبان وفد کی طرف سے پہنچائی گئی التماس کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر امن کو ایک موقع دینے کے لیے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔ جمعرات کو بحال ہونے والے مذاکرات کے دوران جن نکات پر عبوری باہمی رضامندی کی گئی ہے وہ قابل غور ہیں۔ تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دوحہ میں طے شدہ فائربندی کو دیرپا بنانے کے لئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے ۔ تاہم جنگ بندی پر رضامندی اس امر سے مشروط ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی نہ ہو۔ اس شرط کا واضح مطلب یہ ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اورموثر کارروائی کریں گے۔
مزید تفصیلات طے کرنے اور اہم نکات پرعملدرآمد کے لیے اگلی ملاقات 6نومبر کو استنبول میں ہوگی۔ مشترکہ مانیٹرنگ اور تصدیق کا جامع طریقہ کار تشکیل دیا جائے گا جس کے تحت امن کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی کرنے والی پارٹی پر سزا عائد کرنے کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا۔مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد کی کارکردگی اور اصولی موقف لائق تحسین رہا ہے۔ افغان وفد ایک عبوری مفاہمت پر آمادہ مجبور ہو گیا ہے۔ اس تمام پس منظر میں جو عبوری پیش رفت حاصل ہوئی ہے، اسے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے عوام بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی سلا متی کے لیے ایک مثبت سنگِ میل قرار دیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو دشمنوں کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں، الزامات اور تخریبی ذہنیت کے باوجود دلیل، تدبر اور قومی مفاد پر ڈٹے رہنے کا نتیجہ ہے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل موقف کی بدولت سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ عالمی سطح پر اجاگر ہورہاہے۔ ساتھ ہی ترکیہ اور قطر جیسے برادر ممالک کی میزبانی اور ثالثی نے اس عبوری کامیابی کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔گو کہ پاکستان کی ریاست کی طرف سے امن کی کوششیں جاری رہیں گی، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح اعلان ہے کہ ملکی خودمختاری، قومی مفاد اور عوام کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جائے گا۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس مقف پر یکساں، پرعزم اور مکمل طور پر متحد ہے۔ ہر داخلی و خارجی خطرے کا مقابلہ بھرپور تیاری، وسائل اوراستقلال سے کرنے کا عزم ریاستی اقدامات سے عیاں ہے۔ مذاکرات کے دوران بھارتی ایما پر خوارج کے حملوں کو ناکام بنا کر بہت سے دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔ باجوڑ میں کا لعدم ٹی ٹی پی کو خارجی امجد کی ہلاکت سے شدید دھچکا لگا ہے۔ یہ دہشت گرد کمانڈر ٹی ٹی پی میں نور ولی جیسے بد نا م زمانہ سرغنہ کا نائب تصور کیا جاتا تھا۔ سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قبائلی عمائدین سے گفتگو میں واضح کر دیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ نقطہ قابل غور ہے کہ پاکستان ہمسایوں سے امن چاہتا ہے، لیکن اس حوالے سے پاکستان کی سرحدوں کے تقدس اور عوام کی سلامتی پر کوئی سمجھو تا نہیں کیا جائے گا ۔
